خیبر پختونخوا میں خون بہہ رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے جوان روزانہ شہید ہو رہے ہیں، عام شہری دہشتگردوں کی گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں، اور خوارج کا ناسور پھیلتا چل رہا ہے۔ اس سب کے باوجود ایک ہی جملہ سنائی دیتا ہے ”ہمیں پالیسی بنانے نہیں دی گئی۔”
یہ جواب نہیں، یہ فرار ہے۔
تیرہ سال۔ یہ وہ عرصہ ہے جب سے تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں برسراقتدار ہے۔ وفاق میں بھی چار سال کا موقع ملا۔ اگر ان تیرہ سال میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں ہوا تو سوال یہ ہے کہ آخر کس نے روکا؟ کیا آئین نے روکا؟ کیا قانون نے روکا؟ یا پھر یہ سادہ سی حقیقت ہے کہ ترجیحات کہیں اور تھیں اور خیبر پختونخوا کا عوام اپنی قسمت پر چھوڑ دیا گیا؟
اعداد جھوٹ نہیں بولتے
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں ہلاکتیں 2024 میں 1,620 سے بڑھ کر 2025 میں 2,331 تک جا پہنچیں یعنی ایک سال میں چالیس فیصد سے زائد اضافہ۔ 2026 کے صرف پہلے نو مہینوں میں 680 دہشتگردانہ حملے ریکارڈ کیے گئے جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں تینتیس فیصد زیادہ ہیں۔ پولیس کی شہادتوں میں بھی 2026 کے پہلے چھ ماہ میں چورانوے فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد کسی سیاسی مخالف نے نہیں بنائے، یہ سرکاری رپورٹیں ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں بتایا کہ 2024 میں خیبر پختونخوا میں چودہ ہزار پانچ سو پینتیس آپریشن کیے گئے جن میں سات سو انہتر خوارج مارے گئے۔ ان آپریشنوں میں دو سو بہتر فوجی جوان، ایک سو چالیس پولیس افسران اور ایک سو پینسٹھ شہری شہید ہوئے۔ ریاست پاکستان لڑ رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت کہاں تھی؟
سی ٹی ڈی: وسائل کے بغیر محاذ پر
خیبر پختونخوا کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی صورتحال دیکھیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ دسمبر 2025 کی رپورٹ کے مطابق 3,844 منظور شدہ آسامیوں کے مقابلے میں صرف 3,113 اہلکار تعینات تھے یعنی انیس فیصد عہدے خالی۔ مزید یہ کہ دو سو ایم فور رائفلز کی ضرورت کے مقابلے میں صرف نو دستیاب تھیں یعنی کل ضرورت کا ساڑھے چار فیصد۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے صاف کہا کہ پاکستان کے دہشتگردی کے سب سے بڑے مرکز میں سی ٹی ڈی کی کل طاقت صرف 3,200 افراد ہے یہ ناکافی ہے۔ پنجاب سی ٹی ڈی اور خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کے درمیان تنخواہوں میں ستر فیصد تک فرق ہے۔ کوئی تربیتی اسکول نہیں، سائبر صلاحیت نہیں، جدید آلات نہیں۔
تیرہ سال صوبے میں حکومت کرنے کے بعد یہ کہنا کہ ”فنڈز نہیں ملے” ایک الگ ہی سطح کی بے شرمی ہے۔
قومی سلامتی اجلاس میں غیر حاضری
مارچ 2025 میں پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس بلایا گیا جس کا موضوع ملک میں بڑھتی دہشتگردی تھی۔ تحریک انصاف نے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا اور شرط رکھی کہ پہلے عمران خان سے ملنے دیا جائے۔ دفاعی وزیر خواجہ آصف نے ٹھیک کہا: پاکستان دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے اور تحریک انصاف اپنے سیاسی مفادات کے حساب کتاب میں لگی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان جو 2014 میں تمام سیاسی قوتوں نے متفقہ طور پر منظور کیا تھا، اس پر عمل درآمد نہ ہونا ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردی کی بحالی کی بڑی وجہ ہے۔
اور یہ کس کی ذمہ داری تھی؟ اس صوبے کی حکومت کی جو گزشتہ تیرہ سال سے ایک ہی جماعت کے پاس ہے۔
کوہاٹ ڈرون حملے اور خاموشی
حالیہ عرصے میں افغانستان کی جانب سے کوہاٹ کے علاقے میں ڈرون حملے ہوئے جن میں پاکستانی شہری متاثر ہوئے۔ سرحدی چوکیوں پر فائرنگ ہوتی ہے، دراندازی ہوتی ہے، اور خوارج کو افغان سرزمین سے معاونت ملتی ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے کبھی بھی کھل کر افغان حکومت کا نام لے کر ان حملوں کی مذمت نہیں کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہاں تک کہا کہ تحریک انصاف افغان طالبان سے امن کی بھیک مانگ رہی ہے بجائے اس کے کہ سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دے ”آپ اس ریجیم سے امن کی درخواست کر رہے ہیں جو عالمی دہشتگردی کی سرپرستی کرتی ہے۔”
خوارج کو خوارج کہنا، ان کی مذمت کرنا، افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں کے خلاف بات کرنا اس کے لیے کسی پالیسی کی ضرورت نہیں، صرف ضمیر کی ضرورت ہے۔
دہشتگردی اور سیاست
دی ڈپلومیٹ کی ستمبر 2025 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مرکز اور صوبائی حکومت کے درمیان پالیسی کا اختلاف پاکستان کی دہشتگردی مخالف مہم کو نقصان پہنچا رہا ہے اور دہشتگرد اس خلا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک اسٹمسن سینٹر نے بھی واضح کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کیے، مسلح افراد کو بغیر کسی واضح منصوبے کے آباد کاری دی اور وہی لوگ بعد میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کرنے لگے۔
وقت آگیا ہے
خیبر پختونخوا کا عوام تیرہ سال سے دہشتگردی کا شکار ہے۔ یتیم بچے، بیوہ عورتیں، شہید جوان یہ کسی کی سیاست کے مہرے نہیں، یہ انسان ہیں۔ ان کے درد کو بہانوں اور الزام تراشیوں سے نہیں ڈھانپا جا سکتا۔
جو حکومت تیرہ سال میں سی ٹی ڈی کو اسلحہ نہ دے سکے، جو قومی سلامتی اجلاس میں شرکت نہ کر سکے، جو خوارج کا نام لے کر مذمت نہ کر سکے، جو خود اپنے صوبے میں بھتہ خوری اور اسمگلنگ ختم نہ کر سکے اسے کسی اور پالیسی کی کمی کا شکوہ کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں۔
اب وقت آن پہنچا ہے کہ بہانوں کی یہ دکان بند ہو اور خیبر پختونخوا کے خون میں تر عوام کو جواب ملے۔ صرف جواب نہیں، عمل۔
Author
-
View all posts
Muhammad Sudais is pursuing a PhD in International Relations, with a research focus on United States interests and strategic engagement in Asia. His academic work examines American foreign policy, regional power competition, security dynamics, and the evolving geopolitical importance of Asia within the broader international system.