Nigah

منبر سے نفرت تک ریاست مخالف بیانیے کا خطرناک کھیل

[post-views]

 

منبر ہمیشہ سے اصلاح کا مقام رہا ہے۔ صدیوں سے علمائے حق نے اسی مقام سے لوگوں کو ایمان، اخلاق اور قومی یکجہتی کا درس دیا۔ لیکن آج پاکستان میں ایک المناک رجحان سامنے آ رہا ہے جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ وہ لوگ جو عالمِ دین کا لباس پہن کر عوامی رہنمائی کے دعوے کرتے ہیں، اسی منبر کو بدامنی پھیلانے اور قومی اداروں کے خلاف زہر اگلنے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔

حال ہی میں ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی جس میں ایک شخص، جو بظاہر مذہبی لبادے میں ملبوس تھا، نے ایک نام نہاد "ایکشن کمیٹی” کے پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے قومی اداروں کے خلاف نہایت نازیبا اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی۔ یہ واقعہ نہ تو پہلا ہے اور نہ ہی اسے تنہا واقعے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایک خطرناک، منظم اور مسلسل حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد صرف اور صرف ریاست اور عوام کے درمیان خلیج کو وسیع کرنا ہے۔

مذہب اور منبر کو ان گروہوں اور افراد نے یرغمال بنا لیا ہے جو فتنہ پھیلانے اور تفرقہ ڈالنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ معاشرہ خود انتہا پسندی کی گہری جڑوں سے آلودہ ہو چکا ہے جو پہلے سے خطرناک تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منبر سے اٹھنے والی آواز کو محض مذہبی فریضے کا حصہ سمجھ کر بے خبر نہیں رہا جا سکتا۔

پاکستان آج کس صورتحال سے گزر رہا ہے؟ سال 2025 میں پاکستان میں 699 دہشت گردانہ حملے ہوئے جن میں کم از کم 1034 افراد جاں بحق ہوئے یہ گزشتہ دس سالوں کی بلند ترین تعداد ہے۔ پاکستانی فوجی، پولیس افسران، اساتذہ، قبائلی بزرگ، سکول کے بچے اور دیگر شہری ان حملوں کا نشانہ بنے۔

ایسے وقت میں جب قوم دہشت گردی کے خلاف ایک کڑی جنگ لڑ رہی ہو، اندر سے منافقانہ عناصر کا منبروں سے ریاستی اداروں کو للکارنا کوئی اتفاقی یا معصومانہ فعل نہیں، بلکہ یہ سوچی سمجھی سازش کی علامت ہے۔

پاکستان میں مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کو فرقہ وارانہ نفرت بھڑکانے، دوسرے مذاہب اور برادریوں کو شیطانی قرار دینے اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کے لیے غلط استعمال کیے جانے کے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان عناصر کو اب تک احتساب کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بہت عرصے سے نفرت سے بھرے واعظین قانون سے بالاتر رہے ہیں اور مکمل استثنیٰ کے ساتھ کام کرتے آئے ہیں۔ یہی بے احتسابی انہیں بار بار منبروں کی بے حرمتی پر ابھارتی ہے۔

ابھی حال ہی میں، ایک مولوی کو فتنہ الخوارج گروہ کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا جس نے اقرار کیا کہ اس نے ایسے مذہبی فتوے جاری کیے جو بھتہ خوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیے گئے۔ اس نے پشیمانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں تھا۔ یہ ایک وسیع تر نیٹ ورک کی ایک کڑی تھی جو مذہبی اسناد کے پردے میں دہشت گردانہ ایجنڈے کی خدمت کر رہی ہے۔

جو لوگ "عوامی رہنمائی” اور "حقوق” کے نام پر منبروں کو قومی ادارے کے خلاف استعمال کرتے ہیں، ان کا اصل چہرہ سمجھنا مشکل نہیں۔ فتنہ الخوارج اپنے بڑھتے ہوئے نقصانات اور ہلاکتوں کے بعد ایک جھوٹی پروپیگنڈا مہم کے ذریعے خود کو طاقتور ظاہر کرنے کی کوشش میں ہے۔ یہ دھوکہ دہی پر مبنی بیانیہ کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ گروہ اپنی کمزور ہوتی طاقت اور بڑھتی ہوئی بے اثری کو چھپا نہیں سکتا۔ ایسے عناصر جب اپنی عسکری طاقت کھو دیتے ہیں تو وہ نرم ذہنوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اسی لیے منبر ان کا ہدف بنتا ہے۔

پاکستان میں نفرت انگیز تقریر کو پھیلانے کے لیے زبان کو ابہام، عدم برداشت اور جارحیت کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو سماجی، سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور فرقہ وارانہ تنازعات کو ہوا دیتا ہے۔ جب یہ کام ایک عالم کے لباس میں کیا جائے تو اس کی تباہ کاری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ عوام اسے مذہبی راہنمائی سمجھتے ہیں اور یہی اس کھیل کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔

پاکستان نے اس ناسور سے نمٹنے کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ اس کی معیشت کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا، مگر پاکستان نے قدم پیچھے نہیں کھینچا۔ ایسی قربانیوں کے بعد، یہ کیسے قبول کیا جا سکتا ہے کہ ایک گروہ منبروں کی آڑ میں ریاست مخالف بیانیہ پھیلاتا رہے اور قوم خاموش تماشائی بنی رہے؟

حقوق کی بالی کے نام پر قائم منبروں سے اصلاح کے بجائے زہر اگلا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مقصد حقوق کا حصول نہیں بلکہ بدامنی پھیلانا ہے۔ اس لیے ریاست کو ضروری ہے کہ وہ ان ربّانی علماء اور مذہبی رہنماؤں کو اعتماد میں لے جو واقعی قومی یکجہتی، امن اور ترقی کے خواہاں ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنی آنکھیں کھولیں۔ جو شخص منبر کی پناہ لے کر قومی اداروں کو گالیاں دے، جو "حقوق” کی بات کرے مگر نفرت کی زبان بولے، جو عالم کا لبادہ اوڑھ کر ریاست مخالف پروپیگنڈے کا آلہ بنے وہ نہ عالمِ دین ہے، نہ عوام کا ہمدرد۔

وہ محض ایک منافقانہ کردار ادا کر رہا ہے جس کا اسلام سے، انسانیت سے اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔

عوامِ پاکستان سے گزارش ہے کہ ایسے تمام گمراہ کن پروپیگنڈے کو پہچانیں، انہیں مسترد کریں اور پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے ان لوگوں کا ساتھ دیں جو واقعی اس مٹی سے محبت کرتے ہیں۔

Author

  • Zubair Gul

    Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔