جب کوئی تحریک اپنی ناکامی کو کامیابی بنا کر پیش کرنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ اس تحریک کے پاس عوام کی حقیقی حمایت باقی نہیں رہی۔ آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے ساتھ آج کچھ یہی ہو رہا ہے۔ اتوار، 4 اکتوبر 2026 کو جس "یومِ سیاہ” اور احتجاجی کال کا ڈھول پیٹا گیا، وہ عوامی سطح پر بری طرح ناکام رہی۔ مگر اس ناکامی کو چھپانے کے لیے جو حربہ اپنایا گیا، وہ اور بھی زیادہ قابلِ توجہ ہے: اتوار کو معمول کے مطابق بند رہنے والے بازاروں کی ویڈیوز کو "شاندار ہڑتال” کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا۔
جھوٹے بیانیے کا کھیل
پاکستان بھر میں اتوار کو بیشتر بازار بند رہتے ہیں، یہ ایک معروف اور قدیم روایت ہے۔ دکاندار اس دن آرام کرتے ہیں، ورکشاپیں بند ہوتی ہیں، اور بازاروں میں سناٹا معمول کی بات ہے۔ لیکن کالعدم JAAC کے حامیوں نے انہی بند دکانوں کو، جو ہر اتوار بند رہتی ہیں، اپنی "کامیاب ہڑتال” کے ثبوت کے طور پر سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر احتجاجی کال واقعی کامیاب ہوتی، تو کیا پھر بھی اتوار کی بند دکانوں کو بطور ثبوت پیش کرنے کی ضرورت پڑتی؟
یہ بیانیہ کئی مہینوں سے چلتا آ رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی ناکامی کا کھلم کھلا اعتراف کرنے سے قاصر JAAC اور اس کے حامی اپنی ساکھ بچانے کے لیے من گھڑت بیانیہ تراشنے میں مصروف ہیں۔ جون 2026 میں بھی یہی حربہ استعمال کیا گیا تھا جب مرپور، مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر، باغ، نیلم اور حویلی میں دکانیں، بازار، ہوٹل اور تجارتی ادارے معمول کے مطابق کام کرتے رہے اور ٹریفک بھی رواں رہا، جس سے "چکہ جام” کی کال بھی غیر مؤثر ثابت ہوئی۔
عوام کا واضح فیصلہ
آزاد کشمیر کی عوام نے باربار یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم نہیں ہونے دینا چاہتی۔ جہاں جہاں احتجاجی کالیں دی گئیں، مظفرآباد سمیت دیگر شہروں میں تعلیمی، کاروباری اور سماجی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔ مرپور میں شہریوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے کاروبار متاثر ہوتا ہے اور یومیہ اجرت پر گزارا کرنے والوں پر بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج پرتشدد رخ اختیار کرے تو اس سے دشمن عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ الفاظ عام شہریوں کی عقل مندی کا مظہر ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہڑتال اور جام کا سب سے زیادہ نقصان انہی کو ہوتا ہے جو دہاڑی پر کام کرتے ہیں، چھوٹی دکانیں چلاتے ہیں اور صبح کی روٹی شام کی محنت سے کماتے ہیں۔
بیانیے کی سیاست اور اصل ایجنڈا
حکومت کا موقف ہے کہ JAAC کے رہنما آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کو یکساں صورتحال بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ایسی کوششیں باربار ناکام ہو چکی ہیں۔ آزاد کشمیر میں انتخابات ہوئے، منتخب حکومت قائم ہے، اور عوام کے نمائندے ووٹ کے ذریعے چنے گئے ہیں۔ یہ ایک بنیادی فرق ہے جسے جان بوجھ کر دھندلا کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ JAAC کی احتجاجی کال اور ایک دوسری سیاسی جماعت کے لانگ مارچ کی تاریخ ایک ہی تھی، 4 اکتوبر۔ یہ اتفاق سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ان دونوں کے درمیان کوئی ربط ہے؟ جب احتجاجی تحریکوں کا وقت اور تاریخیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں، تو سوچنا پڑتا ہے کہ یہ محض اتفاق ہے یا ایک مربوط حکمتِ عملی؟
کالعدم ہونے کے باوجود لمبی زندگی کی کوشش
JAAC کو 5 جون 2026 کو پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ اس کے باوجود تنظیم اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، اور ناکام احتجاجوں کو کامیابی بتا کر اپنی مطابقت ثابت کرنے میں لگی ہے۔ JAAC ابھی تک وہ عوامی حمایت، تنظیمی صلاحیت اور وسائل رکھنے سے قاصر ہے جو کسی بڑی تحریک کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ ایک سابق معاہدے کے تحت JAAC کے تمام 38 مطالبات حکومت پہلے ہی قبول کر چکی تھی۔ پھر بھی تنظیم نے اپنا راستہ الگ رکھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ مطالبات سے زیادہ ہنگامہ آرائی اور سیاسی شوشے بازی ہے۔
فسادی جتھے کی احتجاجی کال ناکام، بند بازاروں کو کامیابی بتانا سب سے بڑا فریب
زمینی حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں
ویڈیوز، دعوے، اور سوشل میڈیا مہمات زمینی حقیقت نہیں بدل سکتیں۔
آزاد کشمیر کی عوام نے کالعدم JAAC کے مبینہ بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، اور ہڑتال کی ناکامی یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ عوامِ کشمیر بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی ہر سازش ناکام بنا دیں گے۔
آزاد کشمیر کے لوگ ترقی چاہتے ہیں، امن چاہتے ہیں، روزگار چاہتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا چاہتے ہیں اور بازار میں دکانیں کھلی رکھنا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی تحریک، چاہے جتنا بھی شور مچائے، اگر عوام کا اعتماد کھو دے، تو اس کا انجام ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یومِ سیاہ کا خواب شرمناک ناکامی میں بدل چکا ہے، اور یہ بیانیہ کتنا بھی چمکایا جائے، اصل سچائی چھپائی نہیں جا سکتی۔
Author
-
View all postsمصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔