آزاد کشمیر میں حالیہ مہینوں کے اندر جے اے اے سی اور جے کے ایل ایف کے بدلتے ہوئے بیانیے نے ایک سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔ ابتدا میں یہ تحریکیں عوامی حقوق، مہنگائی، گورننس اور ریاستی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات کرتی نظر آئیں، مگر اب وہی پلیٹ فارم رفتہ رفتہ آزادی اور علیحدگی کے نعروں کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حقوق کے نام پر آغاز، آزادی کے نعروں پر اختتام، سوالات جنم لے رہے ہیں۔ عوام کیلئے اصل الجھن یہ ہے کہ یہ تبدیلی کسی قدرتی سیاسی ارتقا کا نتیجہ ہے، یا اس کے پیچھے کوئی اور حکمت عملی ہے جس کا مقصد ریاستی استحکام کو متزلزل کرنا ہے۔
سیاق و سباق کو نظر انداز کر کے بات کرنا ناانصافی ہوگی۔ آزاد کشمیر میں برسوں سے گورننس کے مسائل، بدعنوانی کے الزامات، روزگار کی کمی اور ترقیاتی منصوبوں میں سست روی پر عوامی غصہ موجود رہا ہے۔ جے اے اے سی اور پھر ان کے ساتھ جے کے ایل ایف نے اسی غصے کو ایڈریس کیا اور خود کو عوامی حقوق کی نمائندہ قوت کے طور پر پیش کیا۔ سڑکوں پر نکلنے والے ہجوم، نعرے، احتجاج اور مطالبات اسی دائرے کے اندر تھے کہ عوام کو بنیادی سہولیات، بااختیار مقامی حکومت اور شفاف نظام ملے۔ جے اے اے سی اور جے کے ایل ایف کا بدلتا بیانیہ عوامی اعتماد کے لیے چیلنج اس لئے بنا کہ لوگ ان پر حقوق کی تحریک کے طور پر اعتماد کر رہے تھے، کوئی علیحدگی پسند پلیٹ فارم سمجھ کر نہیں۔
وقت کے ساتھ منظر بدلا۔ جلسوں میں، سوشل میڈیا پر اور قیادت کی تقریروں میں آزادی اور علیحدگی کے نعرے نمایاں ہونے لگے۔ حقوق سے علیحدگی تک کا سفر، اصل ایجنڈا کیا ہے، یہی بنیادی سوال ہے جو آج ہر سنجیدہ شہری کے ذہن میں اٹھ رہا ہے۔ اگر آغاز عوامی حقوق کی بات سے ہو اور پھر وہی تحریک ریاستی وجود کو چیلنج کرنے لگے تو پھر سادہ شہری کیلئے یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ یا تو شروع سے نیت کچھ اور تھی، یا پھر درمیان میں کسی مرحلے پر سمت بدل دی گئی۔ دونوں صورتوں میں نقصان عوامی اعتماد اور سیاسی استحکام کا ہی ہوتا ہے۔
خاص طور پر جے کے ایل ایف کے اندر سردار امان کی قیادت میں آزادی کے نعروں کا دوبارہ زور پکڑنا اس بیانیاتی تبدیلی کی واضح مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ سردار امان کی قیادت اور آزادی کے نعرے، ایک تشویشناک اشارہ اس لئے بھی ہیں کہ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب خطے کی مجموعی صورت حال پہلے ہی حساس ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوششیں اور کشمیریوں کی شناخت کو مٹانے کی پالیسیوں نے پوری دنیا کے باشعور لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر آزاد کشمیر کے اندر خود ساختہ انتشار پیدا کیا جائے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مظالم پس منظر میں جا رہے ہیں، آزاد کشمیر میں انتشار پیش منظر بن رہا ہے۔
یہ نکتہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جب کوئی تحریک اپنے اصل بیانیے سے ہٹ کر نئی پوزیشن اختیار کرتی ہے تو سب سے پہلے اس کا اثر اس کے اندرونی نظم اور کارکنوں کی سوچ پر پڑتا ہے۔ وہ لوگ جو انصاف، روزگار اور گورننس کی بہتری کیلئے سڑکوں پر نکلے تھے، اچانک خود کو ایک ایسی بحث کے بیچ میں پاتے ہیں جہاں بات ریاستی وجود، لائن آف کنٹرول اور علیحدگی کی طرف چلی جاتی ہے۔ ریاستی استحکام کو کمزور کرنے والی سیاست قابل غور ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف اداروں اور نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ معاشی سرگرمی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبے بھی براہ راست دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ ایسی تبدیلیاں ہمیشہ اچانک نہیں ہوتیں، اکثر پس منظر میں ایک نرم نرم تیاری چل رہی ہوتی ہے۔ پہلے ریاستی اداروں پر مسلسل تنقید، پھر وفاق کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر منفی رنگ دینا، پھر نیشنل فریم ورک کو غیر حقیقی اور عوام دشمن دکھانا، اور آخر میں علیحدگی کو واحد حل کے طور پر پیش کرنا۔ جب یہ پورا سلسلہ سامنے رکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کچھ عناصر جان بوجھ کر نوجوانوں کو اس راستے پر دھکیل رہے ہیں جہاں جذبات کی گرمی میں وہ وہ باتیں کرنے لگیں جو نہ ان کے مفاد میں ہیں، نہ ریاست کے، نہ کشمیری کاز کے۔ عوام کو حقوق اور انتشار میں فرق سمجھنا ہوگا، کیونکہ حقوق کی جدوجہد ہمیشہ مضبوط دلائل، واضح روڈ میپ اور آئینی راستوں سے جڑی ہوتی ہے، جبکہ انتشار کی سیاست جذباتی نعروں، غیر واضح اہداف اور وقتی جوش پر کھڑی ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر کے سیاسی و سماجی ڈھانچے میں خامیاں موجود ہیں، انکار ممکن نہیں۔ بدعنوانی ہو، اقربا پروری ہو، یا وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، لوگ جائز شکایات رکھتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان خامیوں کا حل ریاستی ڈھانچے کو ہی کمزور کرنا ہے۔ جے اے اے سی اور جے کے ایل ایف کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ واقعی عوامی حقوق کے سنجیدہ نمائندہ ہیں تو انہیں اپنی سیاست کو ایسے نعروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہئے جو کل کو خود انہی کیلئے بحران بن جائیں۔ حقوق کے نام پر اٹھنے والی تحریک جب خود ریاستی امن کے لئے خطرہ بن جائے تو پھر اس کے سیاسی اخلاقی جواز پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔
عوامی سطح پر بھی ایک ذہنی پختگی کی ضرورت ہے۔ ہر نعرہ دل کو تو گرماتا ہے، مگر ہر نعرہ حقیقت پسندانہ نہیں ہوتا۔ ہر قیادت اونچی بات تو کر سکتی ہے، مگر ہر قیادت دور اندیش نہیں ہوتی۔ لوگوں کو یہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا میری حمایت کسی ایسے بیانیے کیلئے استعمال ہو رہی ہے جو کل کو میرے ہی گھر، بازار اور شہر کو غیر یقینی حالات میں دھکیل دے۔ جے اے اے سی اور جے کے ایل ایف کا بدلتا رخ دیکھ کر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ریاستی معاملات پر رائے دینا سب کا حق ہے، مگر ریاست کی بنیادیں ہلانے والی سیاست کو نظر انداز کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔
آخر میں یہ نکتہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، آبادیاتی انجینئرنگ اور اظہار پر پابندی جیسے اقدامات کے مقابلے میں آزاد کشمیر کا مضبوط، پرامن اور ترقی کرتا ہوا چہرہ ہی اصل جواب ہو سکتا ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے اندر ہی انتشار کی آگ بھڑکائی گئی تو سب سے بڑا فائدہ اس قوت کو ہوگا جو پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں ظلم روا رکھے ہوئے ہے۔ حقوق کے نام پر آغاز، آزادی کے نعروں پر اختتام کی موجودہ روش، اسی لئے تشویش کا باعث ہے۔ ریاستی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور کشمیری کاز کے بڑے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے، قیادتوں اور عوام دونوں کو اس رجحان کا سنجیدہ جائزہ لینا ہوگا کہ کہیں حقوق کی حقیقی جدوجہد کو انتشار کی راہ پر تو نہیں ڈال دیا گیا۔
Author
-
View all posts
ڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔