Nigah

افغانستان، عالمی منشیات سپلائی کا مرکزی گِرہ

[post-views]

ترک ڈرگ رپورٹ ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جس میں منشیات کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ پہلے توجہ زیادہ تر پودوں سے بننے والی منشیات پر تھی، جیسے افیون اور ہیروئن۔ اب منظرنامہ زیادہ خطرناک ہو چکا ہے کیونکہ مصنوعی منشیات اور نئی نفسیاتی کیمیکلز (این پی ایس) تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ یہ تبدیلی صرف صحت کا مسئلہ نہیں رہی، یہ ریاستی سلامتی، سرحدی نظم، مالیاتی نظام، اور علاقائی استحکام کا مسئلہ بن چکی ہے۔ اس رپورٹ میں ترکی کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ وہ اب بھی بالکن روٹ پر ہیروئن کے لیے مرکزی پل ہے، مگر ساتھ ہی کوکین اور میتھ ایمفیٹامین کی ترسیل کے لیے بھی ایک نمایاں راہداری بنتا جا رہا ہے، جو لاطینی امریکا اور ایشیا سے یورپ کی طرف جاتی ہیں۔

افغانستان اس رپورٹ کے مطابق عالمی منشیات معیشت کا مرکز بدستور ہے، مگر اس کی نوعیت بدل رہی ہے۔ طالبان کے اپریل 2022 کے حکم نامے میں پوست کی کاشت اور منشیات کی تیاری و تجارت پر پابندی لگائی گئی۔ بظاہر یہ ایک سخت قدم تھا، اور 2023 میں افیون کی پیداوار میں 95 فیصد کمی بھی رپورٹ ہوئی۔ اسی وجہ سے کچھ عرصے کے لیے میانمار دنیا کا سب سے بڑا پیدا کنندہ بن گیا۔ لیکن 2024 میں افغانستان میں پوست کی کاشت میں 19 فیصد اضافہ دکھائی دیتا ہے۔ اس تضاد سے یہی سمجھ آتی ہے کہ مسئلہ محض پابندی یا ناکامی نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جس میں پیداوار کو کم یا زیادہ کر کے بازار کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ یعنی مقصد خاتمہ نہیں، قیمت اور رسد پر گرفت مضبوط کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

میرے نزدیک اصل نکتہ “منظم قلت” ہے۔ افغانستان کئی دہائیوں سے افیون کی پیداوار اور ترسیل کے لیے ایک مکمل ڈھانچہ بنا چکا تھا، کاشت، پروسیسنگ، ذخیرہ، اسمگلنگ راستے، سرحد پار رابطے، اور مقامی و علاقائی نیٹ ورکس۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ ڈھانچہ ختم نہیں ہوا، اس نے صرف شکل بدلی۔ جب پیداوار کم کی جاتی ہے تو مارکیٹ میں کمی پیدا ہوتی ہے، قیمتیں اوپر جاتی ہیں، اور فائدہ کسان سے نکل کر ذخیرہ رکھنے والے اور تقسیم کنٹرول کرنے والے گروہوں کی طرف چلا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ خشک افیون کی قیمت 2022 میں تقریباً 110 ڈالر تھی جو 2024 میں بڑھ کر تقریباً 780 ڈالر تک پہنچ گئی۔ اتنی تیز قیمت بڑھوتری کو صرف اتفاق کہنا مشکل ہے، یہ مارکیٹ پاور کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

اسی دوران افغانستان کا ایک اور رخ زیادہ تشویش ناک ہے، میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار۔ اب افغانستان صرف افیون اور ہیروئن کا ذریعہ نہیں رہا، وہ مصنوعی منشیات کی عالمی سپلائی میں بھی اہم کھلاڑی بنتا جا رہا ہے۔ اسمگلرز ایفیڈرا پودے سے ایفیڈرین نکال کر بڑے پیمانے پر میتھ بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس ماڈل کی طاقت یہ ہے کہ یہ فصل اور موسم پر کم انحصار کرتا ہے، چھوٹے حجم میں زیادہ قیمت لے جاتا ہے، ذخیرہ اور نقل و حمل آسان ہے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اسے پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہمسایہ ممالک کے علاوہ یورپ اور مشرقی افریقہ تک افغان سورسڈ مصنوعی منشیات کی ضبطگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پابندیوں کے باوجود نئی معیشت پھل پھول رہی ہے۔

یہاں ترکی کی پوزیشن بہت حساس ہو جاتی ہے۔ جب ایک ملک ایک ہی وقت میں ہیروئن، کوکین، اور میتھ کی راہداری بن جائے تو مسئلہ صرف سرحد پر پکڑ دھکڑ کا نہیں رہتا۔ نیٹ ورکس ایک راستے پر دباؤ آئے تو دوسرے پر شفٹ کر جاتے ہیں، ایک شے پکڑی جائے تو دوسری زیادہ آسانی سے نکل جاتی ہے، اور مختلف منشیات کی ترسیل ایک ہی لاجسٹک چین میں ضم ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں صرف زیادہ چھاپے یا زیادہ ضبطگیاں کافی نہیں۔ اصل جنگ پیسوں، کیمیکل سپلائی، اور نیٹ ورک کے فیصلے کرنے والوں کے خلاف ہوتی ہے، نہ کہ صرف نچلے درجے کے کیریئرز کے خلاف۔

میری رائے میں اگر اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لیا جائے تو ریاستوں کو تین سطحوں پر سوچ بدلنی ہوگی۔ پہلی سطح، پیشگی کیمیکلز اور سپلائی چین۔ مصنوعی منشیات کی طاقت ان کے خام مال میں ہے، جسے ٹریک کیے بغیر میتھ کی پیداوار رکتی نہیں۔ دوسری سطح، مالیاتی نظام۔ منشیات کا کاروبار نقد، ہنڈی، فرنٹ کمپنیوں، اور منی لانڈرنگ کے بغیر نہیں چلتا۔ اگر پیسوں کے راستے بند نہ ہوں تو ترسیل کے راستے بار بار بدل جائیں گے۔ تیسری سطح، طلب اور علاج۔ یورپ اور خطے میں ڈیمانڈ رہے گی تو نیٹ ورکس سپلائی نکالتے رہیں گے، چاہے شکل افیون ہو یا میتھ، یا کوئی نئی این پی ایس۔

آخر میں، افغانستان کی کہانی “کمزوری” کی نہیں، “اثر” کی ہے۔ طالبان کی حکمرانی میں منشیات کی معیشت ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی، وہ زیادہ کنٹرولڈ، زیادہ منافع بخش، اور زیادہ متنوع ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عالمی منشیات مارکیٹ میں افغانستان کا وزن برقرار رہتا ہے، اور ساتھ ہی عدم استحکام باہر کی دنیا تک ایکسپورٹ ہوتا رہتا ہے۔ اگر خطہ اور یورپ اس حقیقت کو صرف پولیسنگ کے زاویے سے دیکھیں گے تو وہ ہر سال نئے سرپرائز دیکھیں گے۔ اسے سلامتی، معیشت، صحت، اور بین الاقوامی تعاون کے ایک مشترک مسئلے کے طور پر دیکھنا پڑے گا، ورنہ منظم قلت اور مصنوعی توسیع کا یہ ماڈل مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔