پاکستان اس وقت داخلی سلامتی کے ایک سخت دور سے گزر رہا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کی سرحدی پٹی میں حملے، جھڑپیں اور نفوذ کی کوششیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جانیں جا رہی ہیں، مقامی معیشت دباؤ میں ہے، اور ریاست کی توجہ مسلسل ہنگامی ردعمل پر لگی رہتی ہے۔ ایسے ماحول میں بیرونی عوامل کی معمولی سی حرکت بھی زمینی صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے، کیونکہ جب اندرونی محاذ پہلے ہی گرم ہو تو کسی بھی نئی سمت سے آنے والا دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں بھارت کی طالبان قیادت کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی بات چیت ایک بڑی علامتی اور عملی تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ گزشتہ برسوں میں کابل میں بھارتی حکام کی ملاقاتیں، رابطوں کا تسلسل، اور پھر اکتوبر 2025 میں طالبان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا بھارت کا دورہ، اس بات کا اشارہ ہے کہ نئی دہلی اب طالبان کے ساتھ براہ راست معاملات کرنے میں ہچکچاہٹ کم کر رہی ہے۔ یہ اقدام محض سفارتی تصویر نہیں، بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اور اثر و رسوخ کی نئی ترتیب کی طرف بڑھتا قدم ہے۔
بھارت اپنی بات چیت کو تجارت، ترقیاتی تعاون اور انسانی امداد کے فریم میں پیش کرتا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ افغانستان میں انسانی ضروریات حقیقی ہیں۔ لیکن مسئلہ نیت کے دعوے سے زیادہ نتائج اور راستوں کا ہے۔ افغانستان ایک ایسا جغرافیہ ہے جہاں مختلف ریاستیں اور غیر ریاستی نیٹ ورک برسوں سے اپنے اپنے مفادات کے لیے جگہ بناتے رہے ہیں۔ جب کوئی بڑی علاقائی طاقت طالبان کے ساتھ تعلقات بڑھاتی ہے تو اس کا اثر صرف کابل اور نئی دہلی تک محدود نہیں رہتا، وہ اثر سرحدی علاقوں، انٹیلی جنس مقابلے اور پراکسی سیاست تک پھیل جاتا ہے۔
پاکستان میں اس عمل کو خاص طور پر اس زاویے سے دیکھا جا رہا ہے کہ آیا بھارت اپنے ان روابط کو پاکستان کے خلاف غیر اعلانیہ دباؤ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ پاکستانی اداروں اور بعض علاقائی رپورٹس میں یہ تاثر موجود ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را، افغانستان میں موجود رہتے ہوئے کچھ ایسے عناصر کی سہولت کاری کر سکتی ہے جو پاکستان کے اندر حملوں یا بدامنی سے جڑے رہے ہیں۔ یہ ایک سنگین الزام ہے، اور اس پر عوامی سطح پر ٹھوس شواہد کم سامنے آتے ہیں، لیکن سلامتی کے میدان میں تاثر بھی بعض اوقات حقیقت کی طرح نتائج پیدا کرتا ہے، کیونکہ اسی تاثر کی بنیاد پر خطرے کا تخمینہ، فورس پوسچر اور پالیسیاں بنتی ہیں۔
یہاں ایک اور پہلو بھی ہے۔ طالبان حکومت عالمی سطح پر محدود تسلیم شدگی کے باوجود حقیقتاً افغانستان کے اقتدار میں ہے۔ بھارت کا نقطہ نظر غالباً یہ ہے کہ اگر کابل میں اس کی موجودگی کمزور رہی تو خلا دوسرے بھر دیں گے، اور نئی دہلی اپنے مفادات، خصوصاً وسطی ایشیا تک رسائی، تجارت اور سفارتی اثر کو نقصان میں دیکھتی ہے۔ اسی لیے بھارت نے طالبان کے ساتھ روابط بڑھائے، اور اکتوبر 2025 کی ملاقاتوں میں وسیع موضوعات پر بات ہوئی، جبکہ بھارت نے یہ بھی کہا کہ رابطہ رکھنا تسلیم کرنا نہیں۔ یہ سب اپنی جگہ، مگر پاکستان کے لیے سوال یہ ہے کہ اس رابطے کی قیمت اسلام آباد کو کس شکل میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
سرحد پار مسلح سرگرمی کے نیٹ ورک اکثر دو چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، محفوظ پناہ گاہیں اور نقل و حرکت کے راستے۔ جب ریاستی سطح پر سفارتی دروازے کھلتے ہیں تو مقامی طاقتیں زیادہ بااعتماد ہو جاتی ہیں، اور کئی بار غیر ریاستی عناصر بھی اسی فضا سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے خدشات یہی ہیں کہ اگر افغانستان میں کسی وجہ سے ایسے گروہوں کو زیادہ جگہ ملتی ہے، یا انہیں مالی اور تکنیکی مدد کا احساس ہوتا ہے، تو وہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں مزید جری ہو سکتے ہیں۔ یہ خدشہ اس لیے بھی بڑھ جاتا ہے کہ پاکستان پہلے ہی کئی محاذوں پر انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں، سرحدی نظم، اور داخلی استحکام کی کوششیں ایک ساتھ چلا رہا ہے۔
اکتوبر 2025 کے دورے کو محض ایک سفارتی واقعہ سمجھ کر نظر انداز کرنا مشکل ہے، کیونکہ یہ پہلی بار تھا کہ طالبان کی جانب سے اس سطح کا وفد بھارت آیا، اور اس کے لیے اقوام متحدہ کی سفری پابندی میں عارضی نرمی بھی درکار ہوئی۔ اس سے طالبان کو یہ پیغام بھی ملا کہ علاقائی سطح پر ان کے لیے آپشنز بڑھ رہے ہیں۔ جب آپشنز بڑھتے ہیں تو سودے بازی کی طاقت بڑھتی ہے، اور پھر کابل مختلف ریاستوں کے درمیان توازن بنا کر اپنے لیے گنجائش نکالتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ توازن تب مسئلہ بنتا ہے جب اس کے نتیجے میں سرحدی سلامتی پر دباؤ بڑھے یا پراکسی مقابلہ پھر سے زندہ ہو۔
اس صورتحال میں پاکستان کے پاس محض احتجاج یا شکوہ کافی نہیں۔ پہلی ضرورت ایک واضح، قابل عمل سرحدی حکمت عملی ہے جو مقامی انٹیلی جنس، فینسنگ، قانونی آمد و رفت کے پوائنٹس، اور تیز ردعمل کی صلاحیت کو ایک مربوط ڈھانچے میں جوڑ دے۔ دوسری ضرورت کابل کے ساتھ براہ راست اور مسلسل رابطہ ہے، کیونکہ شکایت کا سب سے مؤثر جواب وہی ہوتا ہے جو سامنے والے کو قابل پیمائش ذمہ داری میں باندھے۔ اگر افغانستان کی سرزمین سے حملے یا سہولت کاری کا تاثر موجود ہے تو پاکستان کو ایسے مشترکہ میکانزم پر زور دینا چاہیے جو فیلڈ لیول پر تصدیق، گرفت اور روک تھام کر سکے۔
تیسری ضرورت علاقائی سفارت کاری میں فعال کردار ہے۔ پاکستان کو یہ بیانیہ مضبوط کرنا ہوگا کہ کسی بھی ملک کی افغانستان میں موجودگی تب ہی قابل قبول ہے جب وہ سرحد پار مسلح سرگرمی کے خلاف واضح مؤقف اور عملی تعاون دکھائے۔ بھارت اگر واقعی انسانی امداد اور تجارت کے لیے طالبان سے بات کر رہا ہے تو پھر اسے بھی اصولی طور پر اس بات کی حمایت کرنی چاہیے کہ افغان سرزمین کسی ہمسایہ کے خلاف استعمال نہ ہو۔ اسی معیار پر پاکستان کو نئی دہلی کے دعووں کو پرکھنا چاہیے، اور جہاں تضاد ہو وہاں بین الاقوامی اور علاقائی فورمز میں معاملہ دستاویزی انداز میں اٹھانا چاہیے۔
آخر میں حقیقت یہ ہے کہ خطہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں پرانی صف بندیاں نرم اور نئے رابطے تیز ہو رہے ہیں۔ بھارت اور طالبان کے درمیان بڑھتا رابطہ اسی تبدیلی کی ایک مثال ہے۔ پاکستان کے لیے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون کس سے بات کر رہا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اس بات چیت کے سائے میں سرحد پار تشدد اور داخلی عدم استحکام کو کون، کیسے، اور کس مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ اگر اسلام آباد نے اس سوال کا جواب صرف نعروں میں دیا تو خطرہ بڑھے گا۔ اگر جواب زمینی انتظام، واضح سفارت کاری اور قابل تصدیق مطالبات کی شکل میں دیا گیا تو پاکستان نہ صرف اپنے خدشات بہتر طریقے سے سنبھال سکے گا بلکہ خطے میں ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کیس بھی مضبوط کر سکے گا۔
Author
-
ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
View all posts