Nigah

افغانستان میں ڈرون جنگ

[post-views]

حالیہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق مشرقی ترکستان اسلامی موومنٹ، یعنی ای ٹی آئی ایم، اپنے ڈرون اور آئی ای ڈی ماہرین کو افغانستان منتقل کر رہی ہے۔ یہ تقدم محض چند افراد کی نقل و حرکت نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ لگتا ہے جس کا مقصد تنظیم کی تکنیکی اور عملی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی عدم استحکام، بداعتمادی اور دہشت گردی کے خطرات سے دوچار ہے، ڈرون اور بارودی سرنگوں کے ماہرین کی یہ آمد ایک نئی اور تشویش ناک جہت پیدا کر رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد گروہ خود کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر رہے ہیں اور روایتی حملوں سے آگے بڑھ کر زیادہ پیچیدہ اور دور رس حربے اپنانا چاہتے ہیں۔

ان ماہرین کا بنیادی کردار افغانستان میں موجود مقامی شدت پسندوں اور حلیف گروہوں کو تربیت دینا ہے۔ دستی بم یا خودکش جیکٹ سے آگے بڑھ کر ریموٹ کنٹرول بم، سینسر بیسڈ آئی ای ڈیز اور چھوٹے ڈرون کے ذریعے حملے وہ ہتھکنڈے ہیں جن پر کام ہو رہا ہے۔ جب مقامی بھرتی ہونے والے نوجوانوں کو ایسے ماہرین سے براہ راست تربیت ملتی ہے تو ان کی کاروائیوں کی مہارت اور مہلک پن کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ایک ایسا جنگجو جو پہلے صرف روڈ سائیڈ بم رکھنا جانتا تھا، اب ڈرون کے ذریعے ہدف کی ٹوہ لے سکتا ہے، ویڈیو بنا سکتا ہے، اور پھر محفوظ فاصلے سے ریموٹ ڈیٹونیشن کر سکتا ہے۔ اس ترقی کا مطلب ہے کہ سکیورٹی فورسز اور عام شہری دونوں کے لیے خطرات مزید بڑھ جائیں گے۔

ڈرون اور آئی ای ڈی ٹیکنالوجی کی منتقلی سے حملوں کے طریقہ کار میں بھی واضح تبدیلی آ رہی ہے۔ ڈرون سے ریکی، حساس تنصیبات کی نگرانی، سرحدی چوکیوں، مواصلاتی نظام اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریموٹ ڈیٹونیشن کی سہولت دہشت گردوں کو براہ راست جھڑپ سے دور رکھتی ہے، جس سے ان کی جانی نقصان کم اور حملے کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو اور مشکل بنا دیتا ہے۔ جب دشمن نظر ہی نہ آئے اور ہدف دور سے چنا جائے تو روایتی طریقہ کار اور پرانے رد عمل کافی نہیں رہتے۔

افغانستان کے دور افتادہ، غیر حکومتی کنٹرول والے اور قبائلی زیر اثر علاقے اس رجحان کے لیے زر خیز زمین ثابت ہو رہے ہیں۔ ایسی جگہیں جہاں ریاستی رٹ کمزور ہو، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی برائے نام ہو اور بین الاقوامی نگرانی محدود ہو، وہاں دہشت گرد گروہوں کو تربیتی کیمپ قائم کرنے، تجربات کرنے اور ناکام کوششوں کو چھپانے کا پورا موقع مل جاتا ہے۔ ڈرون اور آئی ای ڈی جیسی حساس ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے یہی ماحول درکار ہوتا ہے، جہاں نہ فضائی نگرانی کی مؤثر نظام ہو اور نہ ہی زمینی فورسز کے لیے باقاعدہ رسائی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب تک کسی نئی تکنیک کا عملی استعمال سامنے آتا ہے، وہ کئی مرحلوں سے گزر کر پہلے ہی کافی حد تک بہتر اور خطرناک شکل اختیار کر چکی ہوتی ہے۔

اس تناظر میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو علم اور مہارت کا پھیلاؤ ہے۔ ای ٹی آئی ایم کے یہ تکنیکی ماہرین صرف اپنے تنظیمی کیڈر کو تربیت نہیں دے رہے، بلکہ اطلاعات کے مطابق پابندی یافتہ تنظیموں جیسے تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ اور دیگر علاقائی شدت پسند گروہوں کے ساتھ بھی تعاون کر رہے ہیں۔ اس سے ایک ضرب دو کی صورت پیدا ہو جاتی ہے، جسے عسکری زبان میں ملٹی پلائر ایفیکٹ کہا جا سکتا ہے۔ ایک گروہ کی تیار کردہ تکنیک جب تین چار مختلف گروہوں کے ہاتھ میں آ جائے تو تمام کے تمام اپنی اپنی کارروائیوں میں زیادہ مؤثر ہو جاتے ہیں، اور مجموعی خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح ایک محدود تعداد کے ماہرین پورے خطے میں عدم استحکام کی نئی لہر کو جنم دے سکتے ہیں۔

یہ صورت حال پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے براہ راست سکیورٹی چیلنج ہے۔ پاکستان خاص طور پر اس لیے نشانے پر آ سکتا ہے کہ ماضی میں بھی یہاں ڈرون کی مدد سے نگرانی، سرحدی چوکیوں پر حملے اور اہم تنصیبات کے خلاف منصوبہ بندی کے آثار مل چکے ہیں۔ اگر افغانستان میں تربیت پانے والے یہ ماہرین دوبارہ پاکستان یا دیگر خطوں میں واپس آتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ صرف نظریہ اور نفرت نہیں لائیں گے، بلکہ آزمودہ تکنیک، بہتر حکمت عملی اور خطرناک تجربات بھی ساتھ لائیں گے۔ اس سے نہ صرف سکیورٹی فورسز بلکہ شہری آبادی، مواصلاتی نیٹ ورک، توانائی کے منصوبے اور اقتصادی راہداریوں تک سب کچھ نشانے پر آ سکتا ہے۔

ای ٹی آئی ایم کے ڈرون اور آئی ای ڈی ماہرین کی افغانستان منتقلی کو محض تکنیکی معاملہ سمجھنا غلط ہوگا۔ یہ ایک سیاسی اور نفسیاتی پیغام بھی ہے۔ تنظیم اپنے حامیوں اور مخالفین دونوں کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ وہ دنیا کی بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی سے ناواقف نہیں، بلکہ خود کو مسلسل ڈھال رہی ہے۔ جب کوئی دہشت گرد تنظیم جدید آلات، سافٹ ویئر، ریموٹ کنٹرول سسٹم اور ڈرون کے استعمال کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے تو اس کی کشش انتہا پسند ذہن رکھنے والے نوجوانوں کے لیے بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ کسی پرانی، فرسودہ، روایتی نیٹ ورک کا حصہ نہیں بلکہ ایک ایسی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں جو خود کو جدید کہہ سکتی ہے۔ یہ تاثر بھی ریاستوں کے لیے ایک الگ چیلنج ہے۔

اس پس منظر میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ خطے میں تکنیکی ماہرین کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جائے۔ صرف ہتھیاروں اور فنڈنگ کی نگرانی کافی نہیں رہی، اب وہ لوگ بھی سکیورٹی لینڈ اسکیپ کا حصہ ہیں جو سافٹ ویئر لکھتے ہیں، سرکٹ بناتے ہیں، ڈرون موڈیفائی کرتے ہیں اور ریموٹ ڈیٹونیشن کے نظام کو قابل عمل بناتے ہیں۔ سرحدی تعاون، مشترکہ انٹیلی جنس سیل، معلومات کے تبادلے کے فوری اور محفوظ چینل اور مشکوک افراد کی بلیک لسٹنگ جیسے اقدامات اب محض سفارتی نقطہ نظر نہیں بلکہ عملی ضرورت بن چکے ہیں۔ افغانستان، پاکستان، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان سکیورٹی تعاون جتنا مؤثر ہوگا، اتنی ہی کم گنجائش بچے گی کہ کوئی تنظیم خاموشی سے اپنے ماہرین کو ادھر ادھر منتقل کر کے پورے خطے کو نئے طرح کے خطرات سے دوچار کر سکے۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈرون اور آئی ای ڈی کی ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ اس کے ہاتھ ہیں جن میں یہ ٹیکنالوجی جا رہی ہے۔ دنیا بھر میں ڈرون زرعی اسپرے، سروے اور ریسکیو مشنز کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں، لیکن جب یہی آلہ دہشت گرد کے ہاتھ میں آتا ہے تو وہ آسمان سے موت برسا سکتا ہے۔ ای ٹی آئی ایم اور اس جیسے گروہوں کے تکنیکی ماہرین کو اگر کھلی چھوٹ مل گئی تو آنے والے برسوں میں خطے کے شہروں، سرحدوں اور اہم اقتصادی منصوبوں کے گرد ایک مستقل خوف کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ یہی وقت ہے کہ ریاستیں مل کر اس رجحان کو ابتدائی مرحلے میں روکیں، ورنہ کل کو صرف مذمت اور افسوس کے بیانات ہی باقی رہ جائیں گے۔

Author

  • ڈاکٹر ظہیرال خان

    ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔