افغانستان کی سرزمین ایک عرصے سے خطے میں دہشت گردی کے لیے محفوظ پناہ گاہ، تربیتی میدان اور کارروائیوں کا مرکز سمجھی جاتی رہی ہے۔ آج یہ مسئلہ محض تاثر نہیں رہا، بلکہ بین الاقوامی نگرانی اور زمینی حقائق اسے واضح کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں متعدد مسلح گروہ فعال ہیں، جو مقامی سرپرستی یا کم از کم عملی چشم پوشی کے ماحول میں اپنی تنظیم، بھرتی اور تربیت کے مواقع برقرار رکھتے ہیں۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے براہ راست سکیورٹی خطرہ ہے، کیونکہ سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی، افرادی قوت کی تیاری اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے افغانستان ایک قابل اعتماد پچھلا مورچہ بن چکا ہے۔
یہاں بنیادی سوال نیت کا نہیں، نتیجے کا ہے۔ اگر کسی ریاست کے زیر اثر علاقے میں ایک درجن سے زائد دہشت گرد تنظیمیں آزادانہ حرکت کر رہی ہوں، تربیتی ڈھانچے موجود ہوں اور سرحدی علاقوں میں حملوں کی صلاحیت مسلسل برقرار رہے، تو اس کے اثرات ہمسایہ ممالک پر لازماً پڑتے ہیں۔ پاکستان میں ٹی ٹی پی، فاک، ایچ جی بی اور ان کے اتحادی دھڑوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کا تسلسل یہی بتاتا ہے کہ سرحد کے دوسری جانب صرف جگہ نہیں، ایک ایسا نظام بھی میسر ہے جو انہیں سانس لینے، دوبارہ منظم ہونے اور اگلا وار کرنے کی گنجائش دیتا ہے۔ یہ بات محض بیانیہ نہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹس میں افغانستان کے اندر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے باہمی روابط پر مسلسل تشویش سامنے آتی رہی ہے۔
پاکستانی سکیورٹی اداروں نے شمالی وزیرستان، ملاکنڈ، باجوڑ، ژوب، بنوں اور دتہ خیل سمیت مختلف علاقوں میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے بارہا یہ دکھایا ہے کہ خطرہ زمینی اور فوری نوعیت کا ہے۔ گرفتاریوں میں غیر ملکی عناصر کا سامنے آنا، اسلحہ اور بارودی مواد کی برآمدگی، اور رابطہ آلات کا ملنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ نیٹ ورکس محض چھوٹے گروہ نہیں بلکہ منظم، وسائل یافتہ اور آپریشنل تیاری کے حامل ہیں۔ جب پاکستان کے اندر کارروائی کے لیے تیار افراد اور مواد پکڑا جائے تو لازمی طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان کی تربیت، مالی معاونت، نقل و حرکت اور پناہ کہاں سے میسر رہی۔
اسی تناظر میں افغانستان کے اندر بعض مقامات پر کیے گئے ہدفی حملوں اور ان کے ذریعے اعلی قدر اہداف کے خاتمے کے دعوے بھی اہم اشارے دیتے ہیں کہ کمانڈ اور کنٹرول کے دھاگے سرحد پار موجود ہیں۔ اگر قیادت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں حملوں کی سمت طے کرتی ہے تو پھر یہ صرف سرحدی نظم و نسق کا مسئلہ نہیں رہتا، یہ ریاستی ذمہ داری اور علاقائی سلامتی کی ناکامی بن جاتا ہے۔ مزید تشویش اس وقت بڑھتی ہے جب مختلف نیٹ ورکس کے درمیان افرادی قوت کی منتقلی یا سہولت کاری کی اطلاعات سامنے آئیں، کیونکہ اس سے ایک گروہ کو دبانے کے بعد دوسرے گروہ کے ذریعے خلا پُر کرنے کا راستہ نکل آتا ہے۔
خطرے کی نوعیت اب روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی۔ جدید نائٹ وژن آلات، خودکار رائفلیں، بہتر مواصلاتی سامان اور بعض مقامات پر جدید حربی ساز و سامان کی موجودگی نے دہشت گردوں کی عملی صلاحیت بڑھائی ہے۔ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں بڑی مقدار میں فوجی ساز و سامان کے بچ جانے پر بین الاقوامی سطح پر بھی بحث ہوتی رہی ہے، اور بعض رپورٹس میں اس کی مالیت اربوں ڈالر بتائی گئی ہے۔ جب یہ مواد ریاستی کنٹرول سے باہر نکلے تو اس کے ہاتھوں میں جانے کی سمت اکثر وہی ہوتی ہے جہاں غیر ریاستی مسلح نیٹ ورکس پہلے سے موجود ہوں۔
یہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان کی سرزمین اب صرف مقامی یا سرحدی گروہوں تک محدود میدان نہیں رہی، بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق غیر ملکی عناصر بھی اسی راستے سے فعال ہو رہے ہیں، جن میں بنگلہ دیشی انتہا پسند نیٹ ورک کے وابستگان کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس طرح افغانستان ایک ایسا دروازہ بن جاتا ہے جہاں سے مختلف ممالک کے افراد ایک ہی نظریاتی اور عملی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ نتیجتاً خطرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وسطی ایشیا اور وسیع تر خطے کے لیے بھی یہ ایک پھیلتا ہوا مسئلہ بنتا ہے۔
ایک اور پہلو، جو اکثر نظر سے اوجھل رہتا ہے، وہ یہ ہے کہ دہشت گردی محض حملے کا نام نہیں، بلکہ ایک سپلائی چین ہے۔ تربیت گاہیں، بارودی مواد کے ذخیرے، نقل و حمل کے راستے، دراندازی کے پوائنٹس، سہولت کاروں کے گھر، اور مالی ترسیلات کا نظم، یہ سب مل کر ایک مستقل مشین بناتے ہیں۔ جب تک اس مشین کو افغانستان کے اندر سے توڑا نہیں جاتا، پاکستان میں آپریشنز محض نقصان کم کر سکتے ہیں، خطرے کی جڑ نہیں کاٹ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود حملوں کا لوپ دوبارہ چل پڑتا ہے، کیونکہ دوسری طرف ری گروپنگ اور دوبارہ تیاری کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
اس صورت حال کا حل نعروں میں نہیں، ٹھوس اقدامات میں ہے۔ پاکستان کے لیے لازم ہے کہ بارڈر مینجمنٹ، انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں، اور داخلی سطح پر انسداد انتہا پسندی کے اقدامات کو یکجا رکھے، تاکہ اندرونی کمزوریاں دہشت گردوں کے لیے آسانی نہ بنیں۔ دوسری جانب افغانستان کی عبوری حکمران اتھارٹی پر بھی بین الاقوامی دباؤ اور مشروط روابط ناگزیر ہیں، کیونکہ یہ مسئلہ دو طرفہ الزام تراشی سے آگے جا چکا ہے۔ اگر اقوام متحدہ کی رپورٹس افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں پر مسلسل تشویش ظاہر کر رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ عالمی برادری کو بھی حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی، ورنہ یہ خطرہ صرف سرحد پار نہیں پھیلے گا، پورے خطے میں عدم استحکام کی نئی لہر بن جائے گا۔
Author
-
مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔
View all posts