Nigah

اقوام متحدہ کے سوال، بھارت کی خاموشی

[post-views]

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندگان نے جب بھارت سے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں وضاحت مانگی تھی تو یہ کوئی معمولی قدم نہیں تھا۔ یہ ایک باقاعدہ اور سنجیدہ سوال تھا کہ نئی دہلی اپنے آبی اقدامات کو اس تاریخی معاہدے کے تناظر میں کیسے جواز دیتی ہے۔ تاریخ بھی واضح تھی، جواب کے لیے مہلت 16 دسمبر 2026 تک دی گئی۔ آج اس مہلت کو گزرے 38 دن ہو چکے ہیں، لیکن اقوام متحدہ کے ریکارڈ پر ایک سطر بھی بطور جواب موجود نہیں۔ سوالات قائم ہیں، خاموشی برقرار ہے۔

یہ خاموشی محض سفارتی آہستگی نہیں بلکہ ایک رویہ بن کر سامنے آرہی ہے۔ ایک طرف بھارت خود کو ذمہ دار عالمی طاقت، جمہوری ملک اور قانون کی پاسداری کرنے والا ریاستی نظام قرار دیتا ہے، دوسری طرف اسی نظام کے تحت اٹھائے گئے سوالات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اگر عالمی ادارے سے وضاحت طلبی کا خط آتا ہے اور اس کا جواب نہیں دیا جاتا تو اسے محض تکنیکی تاخیر نہیں کہا جا سکتا۔ یہ واضح پیغام ہے کہ جائز سوالات کو سنا نہیں جا رہا، بلکہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ برصغیر کی تاریخ کا ایک نایاب معاہدہ ہے جس نے جنگوں، کشیدگیوں اور اعتماد کے بحرانوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے ایک فریم ورک کو قائم رکھا۔ یہی معاہدہ ہے جس نے دریاؤں کو مستقل تنازع بننے کے بجائے ایک نظم کے تحت رکھا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت اور پاکستان دونوں نے کچھ حقوق اور کچھ حدود قبول کیں۔ جب اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندگان یہ پوچھتے ہیں کہ بھارت نے ان حدود کے اندر رہ کر اقدامات کیے یا انہیں عبور کیا، تو دراصل وہ اسی اعتماد کے ڈھانچے کو پرکھ رہے ہوتے ہیں۔

اگر بھارت کو یقین ہے کہ اس نے سندھ طاس معاہدے کے تحت کوئی خلاف ورزی نہیں کی، تو سب سے مضبوط جواب یہی ہوتا کہ وہ اقوام متحدہ کو تفصیل کے ساتھ اپنا مؤقف بھیج دیتا۔ نقشے، اعداد و شمار، تکنیکی دلائل، قانونی نکات، سب کچھ سامنے رکھتا اور کہتا کہ اس کے اقدامات معاہدے کے عین مطابق ہیں۔ یہ راستہ مشکل ضرور ہوتا، لیکن عزت اور شفافیت اسی میں ہوتی۔ اس کے برعکس مکمل خاموشی یہ تاثر دیتی ہے کہ یا تو تیاری نہیں، یا پھر وضاحت دینے کی خواہش نہیں۔

بھارت اکثر بین الاقوامی فورموں پر قواعد پر مبنی عالمی نظام کی بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سب کو اصولوں کے تحت چلنا چاہیے، طاقت کے زور پر نہیں۔ لیکن اصولوں پر مبنی نظام ایک طرفہ نہیں چل سکتا۔ اگر بھارت دوسرے ممالک سے شفافیت، جواب دہی اور معاہدوں کی پاسداری کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے خود بھی اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندگان کی جانب سے بھیجے گئے سوال نامے کو نظر انداز کرنا اس اصولی موقف کو کمزور کرتا ہے جس پر بھارت خود زور دیتا رہا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ خصوصی نمائندگان عدالت نہیں ہوتے، ان کے خطوط فیصلہ نہیں، سوال ہوتے ہیں۔ مگر بین الاقوامی نظام میں سوالوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر ہر بڑا ملک یہ سمجھ لے کہ وہ سوالوں کو جواب کے بغیر چھوڑ سکتا ہے تو پھر عالمی اداروں کی اخلاقی حیثیت ختم ہو کر رہ جائے گی۔ بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک سے توقع یہی کی جاتی ہے کہ وہ مثال قائم کرے، نہ کہ خاموشی کو پالیسی بنا لے۔

سندھ طاس معاہدے پر سوالات صرف پاکستان کے نہیں، بلکہ ماحولیاتی تبدیلی، گلیشیئر پگھلنے، بارش کے پیٹرن بدلنے اور آبادی کے دباؤ کے تناظر میں پوری دنیا کی دلچسپی کا موضوع بنتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں اگر کوئی ریاست، خاص طور پر اپر ریپیرین ہونے کی حیثیت سے، اپنے اقدامات کے بارے میں وضاحت دینے سے گریز کرے تو تشویش بڑھتی ہے۔ کیونکہ پانی کے تنازعات کبھی بھی خالصتاً تکنیکی نہیں رہتے، وہ سیاسی اور سیکیورٹی خدشات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

بھارتی پالیسی ساز شاید یہ سوچتے ہوں کہ خاموشی سے تنازع کو ہوا نہیں ملتی، میڈیا میں شور نہیں اٹھتا اور کیس کسی بین الاقوامی فورم تک نہیں پہنچتا۔ لیکن یہ سوچ محدود ہے۔ خاموشی وقتی شور تو کم کر سکتی ہے، اعتماد نہیں بڑھا سکتی۔ پاکستان کے لیے یہ خاموشی ایک اشارہ ہے کہ شاید بھارت اپنے آبی منصوبوں پر کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ ایک سگنل ہے کہ نئی دہلی تنقیدی سوالات پر کھلے مکالمے سے کتراتی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے نظام میں خطوط اور رپورٹس وقت کے ساتھ ریکارڈ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ آج کا سوال کل کا حوالہ بنے گا۔ اگر بھارت مسلسل ایسے سوالات کو نظر انداز کرتا رہا تو ایک دستاویزی روایت بن جائے گی کہ اس نے حساس معاہدوں پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔ کل کو اگر کوئی بڑا تنازع ابھرتا ہے، تو یہی ریکارڈ اس کے خلاف بطور دلیل استعمال ہو سکتا ہے کہ اس نے بروقت شفافیت نہیں دکھائی۔

بھارت کے پاس ابھی بھی موقع موجود ہے کہ وہ تاخیر کے باوجود ایک جامع جواب بھیجے، حقائق رکھے، اپنا مؤقف واضح کرے اور یہ دکھائے کہ خاموشی پالیسی نہیں تھی، صرف سست روی تھی۔ کیونکہ اگر خاموشی ہی مستقل جواب بن گئی تو اس کا اثر صرف سندھ طاس معاہدے تک محدود نہیں رہے گا۔ پھر سوال یہ ہوگا کہ دوسرے معاہدوں، دوسرے تنازعات اور دوسرے خطوں میں بھارت کا رویہ کیا ہوگا۔

قواعد پر مبنی عالمی نظام کی اصل روح یہی ہے کہ سوال اٹھانے والے کی نیت پر بحث کرنے کے بجائے پہلے سوال کا جواب دیا جائے۔ بھارت کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندگان کے مکتوب کو ایک امتحان سمجھے، نہ کہ محض ایک بوجھ۔ امتحان یہ ہے کہ کیا وہ اپنے پانی کے منصوبوں اور معاہدہ جاتی رویے کا دفاع دلیل اور دستاویز کے ساتھ کر سکتا ہے یا نہیں۔ اس امتحان سے بھاگنے کا مطلب یہ نہیں کہ سوال ختم ہو گیا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ بھارت نے خود کو کٹہرے میں کھڑا ہونے سے بچانے کو ترجیح دی، جواب دینے کو نہیں۔

آخر میں حقیقت تلخ مگر سادہ ہے۔ اقوام متحدہ نے سوال پوچھ لیا، مہلت بھی دی، 34 دن بھی گزر گئے۔ جواب ابھی تک غائب ہے۔ سوال اپنی جگہ موجود ہے، ریکارڈ محفوظ ہے، اور خاموشی خود ایک بیان بن چکی ہے۔ اب دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا ایک خود کو بڑی جمہوریت کہنے والا ملک اپنی خاموشی کو توڑ کر وضاحت دے گا، یا خاموشی ہی اس کی مستقل پالیسی بن جائے گی۔

Author

  • Prof. Dr. Ghulam Mujaddid

    ڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔