Nigah

بھارت کی میزبانی اور صحت کے خدشات

[post-views]

بھارت ایک بار پھر دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ سب کچھ قابو میں ہے، جبکہ حقیقت میں صورتحال اتنی سیدھی نہیں جتنی دکھائی جا رہی ہے۔ مغربی بنگال میں نپاہ وائرس کے حوالے سے سرکاری بیانیہ محدود اور مطمئن کرنے والا ہے، مگر مختلف آزاد رپورٹوں اور بیرونی صحت مشوروں میں ہسپتال سے جڑے پھیلاؤ، یعنی نوسوکومیئل کلسٹرز، کی بات سامنے آتی ہے۔ جب اعداد و شمار اور تفصیل ایک جیسی نہ ہوں تو مسئلہ صرف وائرس نہیں رہتا، مسئلہ اعتماد بن جاتا ہے۔ اور بین الاقوامی کھیل اعتماد کے بغیر نہیں چلتے۔

نپاہ وائرس عام نزلہ زکام نہیں، یہ ایک شدید اور جان لیوا بیماری بن سکتی ہے۔ مختلف وباؤں میں اس کی اموات کی شرح تقریباً چالیس سے پچھتر فیصد تک رپورٹ ہوتی رہی ہے، جو کسی بھی ملک کے لیے ہنگامی نوعیت کی چیز ہے۔ ایسے وائرس کے بارے میں معمولی سی ابہام یا نرم الفاظ میں بات کرنا بھی خطرناک ہے، کیونکہ بروقت تشخیص، رابطوں کی ٹریسنگ، اور ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول ہی وہ دیوار ہے جو چھوٹے کلسٹر کو بڑے بحران میں بدلنے سے روکتی ہے۔ اگر دیوار کمزور ہو، یا دیوار کی حالت پر سچ واضح نہ ہو، تو پھر خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بھارت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ دسمبر 2025 کے بعد مغربی بنگال میں صرف دو کیسز سامنے آئے ہیں۔ مگر دوسری طرف ایسی معلومات گردش کر رہی ہیں جن میں کولکتہ کے ایک ہسپتال سے جڑے مزید انفیکشنز، اور خاص طور پر ہیلتھ کیئر ورکرز کے متاثر ہونے کا ذکر ہے۔ ممکن ہے کہ یہ فرق تعریفوں، رپورٹنگ ونڈو، یا ابتدائی مشتبہ کیسز کے بعد کی تصدیق سے جڑا ہو۔ لیکن بین الاقوامی ایونٹ کے لیے یہی فرق سب سے بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ ٹیمیں اور میڈیکل اسٹاف فیصلے سرکاری یقین دہانیوں پر کرتے ہیں، افواہوں پر نہیں۔ جب تصویر دھندلی ہو تو ذمہ دار ادارے کو خطرہ کم کرنا پڑتا ہے، بڑھانا نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ 2026 آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں رکھنا غیر ذمہ دارانہ فیصلہ ہوگا، خاص طور پر جب کولکتہ کے ایڈن گارڈنز جیسے مقامات میزبان فہرست میں شامل ہوں۔ بڑے میچ کے دن صرف اسٹیڈیم نہیں بھرتا، شہر کی ٹرانسپورٹ، ہوٹل، اسپتال، سیکیورٹی، اور ہر عوامی جگہ پر بھیڑ بڑھتی ہے۔ کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ساتھ ہزاروں شائقین بھی سفر کرتے ہیں۔ اگر اس دوران کسی نئے کیس کی خبر آ جائے، چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، تو خوف اور بے یقینی سے نظم ٹوٹ سکتا ہے۔ ہجوم میں گھبراہٹ خود ایک خطرہ بن جاتی ہے، اور صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

بھارت کی میزبانی کے بارے میں ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ وہاں بڑے کھیلوں کے ایونٹس میں بنیادی سہولیات اور صفائی کے معیار پر بار بار سوال اٹھتے رہے ہیں۔ 2026 کے انڈیا اوپن بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کے دوران غیر ملکی کھلاڑیوں کی شکایات سامنے آئیں، جن میں ناقص صفائی، ٹریننگ ہالز کے مسائل، اور مجموعی ماحول کی خرابی جیسے نکات شامل تھے، حتیٰ کہ کچھ کھلاڑیوں نے اپنی حفاظت کے خدشات کے تحت دستبرداری کی بات بھی کی۔ یہ مثالیں محض بدنامی کے لیے نہیں، یہ یاد دہانی ہیں کہ بین الاقوامی میزبانی صرف اسٹیڈیم کی روشنیوں کا نام نہیں، یہ صحت، نظم، اور بنیادی انتظامات کی کڑی جانچ ہے۔

کچھ لوگ کہیں گے کہ وبائیں ہر جگہ ہوتی ہیں، اس لیے بھارت کو الگ سے نشانہ بنانا ٹھیک نہیں۔ بات درست ہے کہ وائرس سرحد نہیں دیکھتے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ وائرس کہاں پیدا ہوا، سوال یہ ہے کہ میزبان ملک معلومات کیسے شیئر کرتا ہے اور عملی تیاری کتنی ہے۔ نپاہ وائرس کی شناخت پہلی بار ملائیشیا میں ہوئی تھی اور یہ جانوروں سے انسان میں منتقل ہونے والا وائرس ہے، اس لیے اسے کسی ایک ملک کی “پیداوار” کہنا سائنسی طور پر درست نہیں۔ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ جب بھی کوئی کلسٹر سامنے آئے، اس کی رپورٹنگ شفاف ہو، ڈیٹا واضح ہو، اور بیرونی ماہرین کے لیے تصدیق کے راستے کھلے ہوں۔ اگر ریاستی بیانیہ حقیقت کو چھپانے یا نرم کرنے کی کوشش کرے، تو پھر مسئلہ طبی کم اور انتظامی زیادہ ہو جاتا ہے۔

آئی سی سی کے لیے سب سے محفوظ اور سمجھدار راستہ یہ ہے کہ تمام فکسچرز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔ سری لنکا پہلے ہی شریک میزبان ہے، اس لیے یہ فیصلہ ناممکن نہیں۔ ایک ملک میں ایونٹ مرکوز ہونے سے میڈیکل پروٹوکول یکساں رہتے ہیں، ٹیموں کی نقل و حرکت کم ہوتی ہے، اسکریننگ اور مانیٹرنگ بہتر ہو سکتی ہے، اور ایونٹ مینجمنٹ کی ذمہ داری تقسیم ہو کر کمزور نہیں پڑتی۔ سب سے بڑھ کر، یہ پیغام جائے گا کہ عالمی کھیل میں صحت کو ترجیح دی جاتی ہے، صرف آمدن اور تشہیر کو نہیں۔

اگر بھارت واقعی سمجھتا ہے کہ صورتحال مکمل قابو میں ہے تو اسے ناراض ہونے کے بجائے شفافیت سے کام لینا چاہیے۔ واضح ٹائم لائن، کیس ڈیفینیشنز، کنفرمڈ اور سسپیکٹڈ نمبرز کی الگ رپورٹنگ، اور آزاد ماہرین کو رسائی، یہ سب اعتماد بحال کرتے ہیں۔ مگر اعتماد مطالبے سے نہیں بنتا، عمل سے بنتا ہے۔ جب تک یہ عمل نظر نہیں آتا، تب تک بین الاقوامی کھلاڑیوں اور شائقین کو غیر ضروری خطرے میں ڈالنا درست نہیں۔

دنیا نے بہت بار دیکھا ہے کہ بڑے ایونٹس کے قریب آتے ہی حکومتیں سچ کو کم کر کے پیش کرتی ہیں، تاکہ “کنٹرول” کا تاثر قائم رہے۔ مگر تاثر سے وائرس نہیں رکتا۔ اگر ایک سخت وائرس کے بارے میں معلومات میں بھی جھول ہو، اور انتظامی معیار پر پہلے سے سوال ہوں، تو پھر ذمہ دار فیصلہ یہی ہے کہ ورلڈ کپ کو سری لنکا منتقل کیا جائے۔ آج فیصلہ ہوگا تو نقصان کم ہوگا۔ کل فیصلہ ہوگا تو شاید بہت دیر ہو جائے۔

Author

  • انیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل:

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔