Nigah

تراہ کی یخ بستہ راتیں

[post-views]

تراہ کی سردیاں ہمیشہ سخت رہی ہیں، مگر اس سال برف باری کی شدت اور سکیورٹی آپریشنز نے اس وادی کی آزمائش کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پہاڑی راستے بند ہوں، راتیں لمبی اور یخ بستہ ہوں، اور گھر بار چھوڑ کر عارضی ٹھکانوں کی طرف جانا پڑے تو دکھ حقیقی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مقامی خاندان مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم زمینی حقیقت کو پورے تناظر میں دیکھیں، نہ کہ ایک رخا بیانیہ بنا کر پھیلائیں۔ جذبات کے شور میں اگر حقائق دب جائیں تو نقصان صرف ایک فریق کا نہیں ہوتا، پوری کمیونٹی اور پورے خطے کا ہوتا ہے۔

تراہ میں سکیورٹی کارروائیاں کسی ضد یا شوق کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسے خطرے کے خلاف قدم ہے جو برسوں سے امن کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ دہشت گرد گروہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کو پناہ گاہ بناتے ہیں، وہیں سے حملوں کی تیاری کرتے ہیں، اور پھر عام لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کرے۔ امن کا مطلب صرف خاموشی نہیں، امن وہ حالت ہے جہاں اسکول کھلیں، بازار چلیں، سفر محفوظ ہو، اور کسی ماں کو یہ خوف نہ ہو کہ اس کا بچہ راستے میں نشانہ بن جائے۔ اگر دہشت گردی کے مراکز باقی رہیں تو ترقی اور معمول کی زندگی محض خواب رہ جاتی ہے۔

یہ کہنا آسان ہے کہ لوگ بے یار و مددگار چھوڑ دیے گئے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ شدید سردی میں جو جوان چوکیوں پر کھڑے ہیں، وہ کوئی الگ دنیا کے باسی نہیں۔ وہ بھی اسی برف، اسی ہوا اور اسی دشوار راستوں میں اپنی ڈیوٹی نبھا رہے ہیں۔ فوجی کسی گرم کمرے میں بیٹھ کر حکم نہیں چلا رہے، وہ سامنے موجود ہیں، اور اس وقت دو محاذوں پر کام کر رہے ہیں، ایک طرف دہشت گردی کے خطرے کو روکنا، دوسری طرف متاثرہ خاندانوں کو سہارا دینا۔ یہ تضاد نہیں، یہی اس خطے کی حقیقت ہے جہاں سکیورٹی اور انسانی ضرورتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

بھاری برف باری کے دوران عارضی طور پر منتقل کیے گئے شہریوں کے لیے مدد کا انتظام بھی سامنے آتا ہے۔ خوراک، گرم کپڑے، کمبل، عارضی رہائش، اور بنیادی ضروریات کی فراہمی جیسے اقدامات ایسے دنوں میں زندگی اور موت کا فرق بن جاتے ہیں۔ نقل و حرکت اور منتقل کرنے کے عمل میں بھی ترتیب کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر جب راستے تنگ ہوں اور موسم تیزی سے بدلتا ہو۔ بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کے لیے الگ توجہ اور سہولتیں اس لیے اہم ہیں کہ یہی وہ طبقے ہیں جو سردی اور بے گھری کے اثرات سب سے پہلے جھیلتے ہیں۔ اگر کہیں کمی رہ جاتی ہے تو اسے تسلیم کر کے بہتر کرنا چاہیے، مگر پورے عمل کو نفی کے ایک جملے میں دفن کر دینا انصاف نہیں۔

سڑکوں کی بحالی اور ایمرجنسی رسپانس بھی ایسے حالات میں بڑی ذمہ داری ہے۔ پہاڑی علاقوں میں ایک چھوٹا سا ملبہ یا برف کا تودہ پورے راستے کو بند کر سکتا ہے، اور پھر بیمار مریض، حاملہ خواتین، یا پھنسے ہوئے مسافر سب خطرے میں آ جاتے ہیں۔ ایسے میں روڈ پوائنٹس پر موجود ٹیمیں ٹریفک کو منظم کرنے، بندشیں دور کرنے اور فوری مدد پہنچانے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ برف میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنا، ضرورت مندوں کو محفوظ جگہ پہنچانا، اور امدادی سامان کی ترسیل کو ممکن بنانا وہ کام ہیں جو اکثر خبروں میں نظر نہیں آتے، مگر مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی میں ان کی اہمیت بہت واضح ہوتی ہے۔

بدقسمتی سے جب محنت اور مدد جاری ہو تو کچھ حلقے اسے نظرانداز کر کے صرف سیاسی بیانیہ آگے بڑھاتے ہیں۔ اختلاف رائے ہر معاشرے میں ہوتا ہے، اور تنقید بھی حق ہے، مگر سوال نیت اور طریقے کا ہے۔ اگر مقصد واقعی عوام کی بہتری ہو تو بات شواہد کے ساتھ ہو، زمینی ضرورتوں پر ہو، اور ایسے حل کی طرف جائے جو لوگوں کی تکلیف کم کرے۔ صرف الزام تراشی اور یک طرفہ باتوں سے نہ برف کم ہوتی ہے، نہ راستے کھلتے ہیں، نہ دہشت گردی کا خطرہ ختم ہوتا ہے۔ ایسے حساس وقت میں کنفیوژن پھیلانا اور قومی یکجہتی کو کمزور کرنا براہ راست متاثرہ خاندانوں ہی کے لیے مزید مشکل پیدا کرتا ہے۔

تراہ کے لوگ امن، سکیورٹی اور ترقی کے پورے حق دار ہیں۔ انہیں ایسی فضا چاہیے جہاں زراعت، تجارت، تعلیم اور صحت کے مواقع بڑھیں، اور نوجوانوں کے سامنے بندوق نہیں، کتاب اور ہنر کا راستہ ہو۔ دہشت گردوں کا خاتمہ اسی مستقبل کی شرط ہے۔ ہاں، عارضی تکلیف تلخ حقیقت ہے، اور اس تلخی کو کم سے کم کرنا ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔ مگر بڑے مقصد کو بھی نظر سے اوجھل نہیں کرنا چاہیے۔ آج اگر سختی اور قربانی سے راستہ صاف ہو رہا ہے تو کل اسی راستے پر امن اور خوشحالی چل سکتی ہے۔ اس جدوجہد میں فوج اور مقامی آبادی کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں، ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا دکھائی دینا چاہیے، کیونکہ آخر میں جیت اسی کی ہے جس کے حصے میں امن آتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر محمد عبداللہ

    محمد عبداللہ آسٹن یونیورسٹی، برطانیہ میں بین الاقوامی تعلقات میں امیدوار۔ ان کی تحقیقی دلچسپیاں عالمی سلامتی، خارجہ پالیسی کے تجزیہ اور بین الاقوامی سفارت کاری کی ابھرتی ہوئی حرکیات پر مرکوز ہیں۔ وہ علمی گفتگو میں فعال طور پر مصروف ہیں اور جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست اور کثیر جہتی تعلقات پر خاص زور دینے کے ساتھ علمی پلیٹ فارمز میں حصہ ڈالتے ہیں۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔