آزاد جموں و کشمیر میں تعلیمی نشستوں کے معاملے پر تازہ بحث نے ایک بنیادی سوال دوبارہ کھڑا کر دیا ہے، کیا ہم اصول پر بات کر رہے ہیں یا اپنے فائدے پر۔ مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان میں آباد ہونے والے مہاجرین کے لیے آزاد کشمیر کی جامعات میں مخصوص نشستوں پر اعتراض محض ایک انتظامی اختلاف نہیں رہتا، یہ ہمارے اجتماعی رویے اور انصاف کے پیمانے کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ کئی دہائیوں سے آزاد کشمیر کے طلبہ پاکستان کی سرکاری جامعات میں مخصوص نشستوں سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور وفاقی سطح پر میڈیکل، ڈینٹل، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں نشستیں مختص ہوتی رہی ہیں۔ یہ سہولت کسی خیرات کے طور پر نہیں دی گئی، یہ ریاستی بندوبست، باہمی اعتماد اور مسئلہ کشمیر کے سیاسی تناظر میں ایک تسلیم شدہ ترتیب کے طور پر چلتی رہی۔ نامزدگی بورڈ اور داخلہ کمیٹیاں بنیں، میرٹ کے قواعد بنے، اور طلبہ نے انہی قواعد کے تحت داخلے لیے۔
مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں یہی اصول الٹ سمت میں آتا ہے۔ جب آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کے لیے کچھ نشستیں مختص کی جاتی ہیں تو اچانک کچھ حلقوں کو یہ ناانصافی لگنے لگتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ نشستیں کم ہیں یا زیادہ، سوال یہ ہے کہ اصول ایک ہے یا دو۔ اگر مخصوص نشستوں کا نظام بذات خود غلط ہے تو پھر یہ غلطی صرف آزاد کشمیر میں کیوں نظر آتی ہے، پاکستان کی جامعات میں کیوں نہیں۔ اور اگر یہ نظام ایک تاریخی اور سیاسی ضرورت کے تحت درست ہے تو پھر اس کا اطلاق مہاجرین پر کیوں قابل اعتراض ہو جاتا ہے۔
یہ مہاجرین کسی باہر کے لوگ نہیں۔ ان کی ہجرت کسی معاشی موقع کی تلاش نہیں تھی، یہ جبر، جنگ اور قبضے کے نتیجے میں بے گھر ہونے کی کہانی ہے۔ ریاست نے انہیں اپنی پالیسی کے تحت آباد کیا، شناخت دی، اور مسئلہ کشمیر کے زندہ پہلو کے طور پر تسلیم کیا۔ اب اگر ہم تعلیم جیسے بنیادی حق میں ان کے لیے دروازہ تنگ کرتے ہیں تو ہم دراصل اپنی ہی پالیسی کی اخلاقی بنیاد کمزور کرتے ہیں۔ یہ بات تلخ سہی مگر حقیقت ہے کہ جو معاشرہ دکھ پر تو سیاست کرے اور ذمہ داری سے پیچھے ہٹے، وہ طویل مدت میں اپنا اخلاقی جواز کھو دیتا ہے۔
کچھ لوگ عدالتی فیصلوں کا حوالہ دے کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ مخصوص نشستیں ختم ہونی چاہییں۔ یہاں بھی دیانت کی ضرورت ہے۔ عدالتیں عمومی طور پر میرٹ، طریقہ کار، اور قانون کے دائرے میں رہنمائی دیتی ہیں۔ اگر کہیں طریقہ کار میں خامی ہو تو اس کی اصلاح ہونی چاہیے۔ مگر اصلاح اور انکار میں فرق ہوتا ہے۔ ایک نظام میں شفافیت بڑھانا اور بات ہے، پورے تصور ہی کو مسترد کر دینا اور بات۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ عدالت نے کس دائرے میں بات کی، اور انتظامیہ نے کس حد تک اس بات کو بڑھا کر سیاسی نعرہ بنا دیا۔
اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم میرٹ کا لفظ بہت آسانی سے استعمال کرتے ہیں، مگر میرٹ کی تعریف پر سنجیدہ گفتگو کم کرتے ہیں۔ میرٹ صرف نمبر نہیں، میرٹ کا ایک سماجی سیاق بھی ہوتا ہے۔ ریاستیں بعض اوقات کمزور گروہوں کے لیے محدود گنجائش نکالتی ہیں تاکہ ایک بڑے اجتماعی مقصد کی تکمیل ہو سکے، جیسے مہاجرین کا تحفظ، سماجی استحکام، اور ایک دیرینہ تنازع کے متاثرین کو بنیادی مواقع دینا۔ اگر یہ سب کچھ واضح قواعد، محدود کوٹے، اور شفاف نگرانی کے ساتھ ہو تو اسے محض امتیاز کہہ کر رد کرنا انصاف کی سادہ فہم تعبیر ہے۔
اس بحث میں مقامی طلبہ کے خدشات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ آزاد کشمیر کے اندر مواقع محدود ہیں، مقابلہ سخت ہے، اور ہر طالب علم اپنی جگہ حق مانگتا ہے۔ مگر حق مانگنے کا طریقہ یہ نہیں کہ دوسرے کے حق کا انکار کر دیا جائے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ نشستوں کی تعداد، معیار تعلیم، اور فنڈنگ کے مسائل پر دباؤ ڈالا جائے۔ جامعات میں استعداد بڑھائی جائے، نئے کیمپس اور نئے پروگرام کھولے جائیں، اور داخلہ پالیسی کو ایسا بنایا جائے کہ ایک طرف مقامی طلبہ کے لیے بھی جگہ بڑھے اور دوسری طرف مہاجرین جیسے حساس گروہوں کے لیے کم از کم تحفظ برقرار رہے۔
ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ اگر کوئی گروہ واقعی اصولی طور پر مخصوص نشستوں کے نظام کو غلط سمجھتا ہے تو اس کی آزمائش بہت سیدھی ہے۔ کیا وہ پاکستان کی جامعات میں آزاد کشمیر کے لیے مختص نشستوں کو بھی اسی شدت سے رد کرے گا۔ کیا وہ یہ کہے گا کہ ہمارے طلبہ لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں کسی رعایت کے بغیر مقابلہ کریں۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو کم از کم بات اصول پر آ جاتی ہے، پھر ہم ایک مشکل مگر دیانت دار بحث کر سکتے ہیں۔ مگر اگر جواب نہیں، اور خاموشی وہاں رہے جہاں فائدہ ملتا ہو، تو پھر یہ اصول نہیں، اپنی سہولت کی سیاست ہے۔
آخر میں بات سادہ ہے۔ مسئلہ کشمیر صرف نعروں سے زندہ نہیں رہتا، یہ ذمہ داری سے زندہ رہتا ہے۔ مہاجرین کے لیے تعلیم میں محدود گنجائش رکھنا کوئی احسان نہیں، یہ ایک تاریخی حقیقت کا اعتراف ہے۔ اس بندوبست میں خامیاں ہوں تو انہیں درست کریں، شفافیت بڑھائیں، میرٹ کے ضابطے سخت کریں، مگر دوہرے معیار کو اصول کا نام نہ دیں۔ ایک معاشرہ تب مضبوط ہوتا ہے جب وہ اپنے فائدے کے وقت بھی انصاف کی زبان بولے، اور اپنی تنگی کے وقت بھی انصاف سے نہ ہٹے۔
Author
-
ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
View all posts