Nigah

خطے کی نئی دہشت گرد صف بندی

[post-views]

جنوبی اور وسطی ایشیا کی سلامتی کے لیے اب سب سے بڑا سوال یہ نہیں رہا کہ کوئی ایک تنظیم کتنی طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ مختلف شدت پسند گروہ آپس میں کتنے جڑے ہوئے ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ ETIM، تحریک طالبان پاکستان TTP، بلوچستان لبریشن آرمی BLA اور القاعدہ AQ کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کا ذکر سامنے آ رہا ہے۔ یہ رجحان صرف تنظیموں کے ناموں کی فہرست نہیں، بلکہ ایک ایسے ابھرتے ہوئے نیٹ ورک کی تصویر ہے جو سرحدوں، قومیت اور مقامی ایجنڈے سے اوپر اٹھ کر مشترکہ مفادات کے تحت جڑ رہا ہے۔ پاکستان، چین اور پورے خطے کے لیے یہ بدلتی ہوئی صورت حال نہایت تشویشناک ہے۔

ETIM کی اپنی اصل توجہ چین کے سنکیانگ خطے اور وہاں کے علیحدگی پسند بیانیے پر رہی ہے، لیکن TTP اور BLA کے ساتھ تعلقات نے اسے جنوبی ایشیا کے اندر گہرائی تک رسائی کا نیا راستہ دیا ہے۔ BLA کے پاس بلوچ علاقوں کی زمینی حقیقت، سماجی ڈھانچے اور مقامی نیٹ ورکس کا تجربہ ہے۔ دوسری طرف TTP کے پاس سرحدی علاقوں میں نقل و حرکت، چھپنے، اور پاکستانی سکیورٹی ڈھانچے کی کمزور جگہوں کا عملی علم موجود ہے۔ جب ETIM ان دونوں کے ساتھ رابطہ بڑھاتا ہے تو اسے نہ صرف محفوظ پناہ گاہوں کے امکانات ملتے ہیں، بلکہ پاکستان اور ہمسایہ ممالک میں بھرتی، رابطے اور کارروائی کے نئے مواقع بھی ملتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ملاپ ہے جو کسی ایک ملک کے اندرونی مسئلے سے بڑھ کر پورے خطے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

اسی طرح ETIM کا TTP اور القاعدہ کے ساتھ بڑھتا ہوا تعلق ایک مختلف مگر اتنا ہی اہم پہلو ہے۔ القاعدہ کے پاس افغانستان، پاکستان اور اس سے آگے مشرق وسطیٰ تک پھیلا ہوا تجربہ، تربیتی ڈھانچہ اور عالمی نیٹ ورک موجود ہے۔ TTP اس خطے میں زمینی سطح پر متحرک اور جنگی تجربہ رکھنے والی تنظیم ہے۔ جب ETIM ان دونوں سے جڑتا ہے تو اسے جنگی مہارت، منصوبہ بندی، تربیت گاہوں تک رسائی اور عالمی سطح کے رابطوں کا مشترکہ فائدہ ملتا ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی کارروائیوں کی صلاحیت بڑھتی ہے بلکہ ایسی منصوبہ بندی بھی ممکن ہوتی ہے جس کے اثرات چین، پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ان گٹھ جوڑوں کا ایک خطرناک پہلو مشترکہ پروپیگنڈا ہے۔ مختلف زبانوں، مختلف علاقوں اور مختلف شکایات رکھنے والے گروہ جب ایک دوسرے کے بیانیے کو بڑھانا شروع کرتے ہیں تو آن لائن اور زمینی دونوں سطحوں پر ان کا اثر بڑھ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم، انکرپٹڈ میسنجر ایپس اور دیگر آن لائن چینلز کے ذریعے یہ تنظیمیں اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں، نوجوانوں کے غصے کو استعمال کرتی ہیں، اور اپنے لیے ہمدردی اور مالی مدد تلاش کرتی ہیں۔ جب ETIM، TTP، BLA اور القاعدہ جیسے گروہ ایک دوسرے کے پیغامات کو تقویت دیتے ہیں تو فنڈنگ، بھرتی اور نظریاتی اثر کے دائرے ضرب در ضرب بڑھنے لگتے ہیں۔

ایک اور اہم عنصر لاجسٹک تعاون ہے۔ افغانستان، پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے پہلے ہی سے اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت اور غیر رسمی نیٹ ورکس کے لیے مشہور رہے ہیں۔ شدت پسند گروہ انہی راستوں کو استعمال کر کے اپنے جنگجو، اسلحہ اور مالی وسائل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں۔ جب کئی گروہ اس لاجسٹک انفراسٹرکچر کو مشترکہ طور پر استعمال کرنا شروع کر دیں تو ان کی بقا اور آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہو جاتا ہے، چاہے ریاستی ادارے ان پر دباؤ بھی بڑھا دیں۔ دوسرے لفظوں میں، ایک تنظیم پر کارروائی کی جائے تو وہ دوسری کے نیٹ ورک کے ذریعے سانس لینے کے قابل رہتی ہے۔

رپورٹس اور انٹیلی جنس اشارے اس بات پر متفق ہیں کہ ان گروہوں کے درمیان صرف نظریاتی یا علامتی اتحاد نہیں، بلکہ عملی سطح پر مشترکہ پلاننگ، لاجسٹک شیئرنگ اور مشترکہ کارروائیاں بھی ہو رہی ہیں۔ جنگجو مختلف تنظیموں کے بیچ منتقل ہوتے ہیں، کہیں BLA کے افراد TTP کے کیمپ میں تربیت لیتے ہیں، کہیں ETIM کے افراد القاعدہ کے نیٹ ورک سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہتھیاروں کی فراہمی، مالی لین دین اور ہوشیار جنگی طریقوں کی منتقلی ان کو پہلے سے زیادہ مؤثر اور خطرناک بنا رہی ہے۔ یہی وہ حقائق ہیں جو اس تصور کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ گٹھ جوڑ محض پروپیگنڈا نہیں بلکہ عملی حقیقت بنتے جا رہے ہیں۔

یہ صورت حال نہ صرف پاکستان کے داخلی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ چین کے مفادات اور پورے خطے کی سلامتی کے لیے بھی چیلنج ہے۔ چین کے اقتصادی منصوبے، خصوصاً سی پیک، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے گزرتے ہیں، جہاں پہلے ہی سکیورٹی خطرات موجود ہیں۔ اگر ETIM جیسے چین مخالف ایجنڈا رکھنے والے گروہ کو TTP اور BLA کے ساتھ براہ راست تعاون ملتا ہے تو چینی شہریوں، منصوبوں اور انفراسٹرکچر پر حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس سے پاکستان چین تعلقات میں بھی تناؤ آ سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سکیورٹی صلاحیت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس بڑھتے ہوئے نیکسس کے مقابلے کے لیے کیا حکمت عملی ہونی چاہیے۔ صرف فوجی آپریشن، صرف انٹیلی جنس شیئرنگ یا صرف سفارتی کوششیں کافی نہیں ہوں گی۔ ضرورت ایک مربوط حکمت عملی کی ہے جس میں افغانستان میں موجود عبوری یا مستقل ڈھانچوں کے ساتھ حقیقی سکیورٹی تعاون، سرحدی نظم و نسق کی بہتری، مالی نیٹ ورکس کی کڑی نگرانی، اور آن لائن پروپیگنڈا کے مقابلے کے لیے متبادل بیانیہ شامل ہو۔ پاکستان کو چین، وسطی ایشیائی ریاستوں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا، کیونکہ یہ خطرہ اب کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہا۔

ساتھ ہی داخلی سطح پر ریاست کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اگر مقامی سطح کی محرومیاں، گورننس کی کمزوریاں اور سیاسی خلا برقرار رہے تو ایسے گروہوں کو انسانی وسائل اور ہمدردی ملتی رہے گی۔ بلوچستان میں احساس محرومی، قبائلی علاقوں میں بد اعتمادی اور شہروں میں موجود انتہا پسند بیانیہ، یہ سب وہ زمین ہے جہاں یہ نیٹ ورکس آسانی سے جڑ پکڑ سکتے ہیں۔ سخت سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی شمولیت، معاشی مواقع اور انصاف پر مبنی طرز حکمرانی کے بغیر دہشت گردی کے اس نئے مرحلے کا توڑ ممکن نہیں۔

آخر میں حقیقت یہ ہے کہ ETIM، TTP، BLA اور القاعدہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک خطرناک رجحان ہے جو آنے والے برسوں میں خطے کی سکیورٹی تصویر کو بدل سکتا ہے۔ ریاستوں کے لیے چیلنج یہ نہیں کہ کسی ایک تنظیم کو فہرست سے خارج یا شامل کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس پورے جڑے ہوئے نیٹ ورک کو سمجھ کر اس کے خلاف جامع اور دیرپا حکمت عملی بنائیں۔ اگر یہ گٹھ جوڑ اسی رفتار سے مضبوط ہوتا رہا تو نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ پورے جنوبی اور وسطی ایشیا کی سلامتی، ترقی اور استحکام پر سوال اٹھ سکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ ریاستیں اس خطرے کو سنجیدگی سے لیں اور ردعمل جزوی نہیں، بلکہ مشترکہ، مربوط اور دور اندیش ہو۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔