سات نومبر 2025 کو راجستھان کی اینٹی ٹیررازم اسکواڈ نے جالور کے ضلع سانچور سے ایک مولوی اسامہ عمر کو گرفتار کیا۔ بظاہر یہ ایک مقامی گرفتاری لگتی ہے، مگر اس کے پیچھے کہانی کہیں بڑی ہے۔ تفتیش کے مطابق اسامہ تقریباً چار برس تک افغانستان میں موجود کمانڈروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا، اور گجرات راجستھان سرحد کے نزدیک ایک مسجد میں رہتے ہوئے شدت پسند سوچ پھیلاتا رہا۔ یہ واقعہ اس غلط فہمی کو توڑ دیتا ہے کہ فاک کی سرگرمیاں کسی ایک ملک یا ایک جغرافیے تک محدود ہیں۔
اس کیس کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس میں گولی نہیں چلی، بم نہیں پھٹا، پھر بھی نقصان کا راستہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ اگر ایک شخص مذہبی جگہ کو ڈھال بنا کر، انکرپٹڈ انٹرنیٹ کالنگ ایپس کے ذریعے کم از کم چار افراد کو شدت پسندی کی طرف دھکیلنے اور بھرتی کرنے کی کوشش کر سکتا ہے تو یہ جدید دہشت گردی کی شکل ہے۔ یہاں لڑائی میدان میں نہیں، ذہن میں لڑی جاتی ہے۔ اور جب ذہن پر قبضہ ہو جائے تو ریاستی سرحدیں کاغذ رہ جاتی ہیں۔
راجستھان ATS کی کارروائی بھی اسی لیے اہم ہے کہ یہ ایک فرد تک محدود نہیں رہی۔ جالور، باڑمیر، جودھپور اور کراؤلی میں مربوط آپریشن کے بعد پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، اور اسامہ کو پوچھ گچھ کے بعد باضابطہ گرفتار کیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نیٹ ورک کسی ایک جگہ بند نہیں تھا۔ پھیلاؤ موجود تھا، رابطے موجود تھے، اور مقامی سطح پر سہارے بھی موجود تھے۔ فاک جیسے گروہ یہی کرتے ہیں، وہ کم شور میں اپنا ڈھانچہ بناتے ہیں اور پھر اسے تیزی سے پھیلاتے ہیں۔
اسامہ کے بارے میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ دبئی کے راستے افغانستان فرار ہونے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ یہ نقطہ محض فرار کی کہانی نہیں، بلکہ لاجسٹکس کی پوری تصویر ہے۔ جب کسی شدت پسند نیٹ ورک کے پاس سفر کے راستے، مالی سہولت، اور بیرونی ٹھکانے ہوں تو وہ خود بخود علاقائی سے عالمی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایسے راستے ریاستی نگرانی سے بچنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، اور یہی راستے نئے لوگوں کی ترسیل، پیغام رسانی، اور فنڈنگ کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔
اس گرفتاری کی روشنی میں فاک کی حقیقت مزید کھلتی ہے۔ یہ محض ایک مقامی مزاحمتی یا سرحدی گروہ نہیں، بلکہ ایک مکمل بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کے طور پر کام کر رہا ہے۔ افغانستان میں کمانڈ لنکس، بھارت میں نظریاتی کام، اور دبئی جیسے روٹس، یہ سب مل کر ایک ایسا ماڈل بناتے ہیں جو آج کی دنیا میں زیادہ عام اور زیادہ خطرناک ہے۔ اس ماڈل میں مذہب کو شناخت کے طور پر نہیں، ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اور ٹیکنالوجی کو سہولت کے طور پر نہیں، محاذ کے طور پر۔
یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ بھارت اور طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی مشغولیت کو محض سفارت کاری سمجھنا کہاں تک درست تھا۔ کچھ حلقوں نے اسے زمینی حقیقت مان کر روابط کا راستہ قرار دیا، مگر راجستھان کیس ایک تلخ کمزوری دکھاتا ہے۔ دہشت گردی کے ماحول میں چیزیں الگ الگ خانوں میں نہیں رہتیں۔ ایک جگہ اگر کنٹرول کمزور ہو، قانون کی گرفت ڈھیلی ہو، یا کسی گروہ کو عملی تحفظ ملے، تو اس کے ساتھ جڑے نیٹ ورک خود بخود طاقت پکڑتے ہیں۔ طالبان کے زیر انتظام ماحول کو اگر کسی سطح پر قبولیت یا جگہ ملتی ہے تو اس کے اثرات صرف افغانستان تک نہیں رہتے۔
اس کیس میں مذہبی جگہ کا استعمال خاص توجہ مانگتا ہے، مگر اس کے ساتھ انصاف بھی ضروری ہے۔ مسئلہ مسجد نہیں، مسئلہ وہ فرد اور وہ نیٹ ورک ہے جو مذہبی اعتماد کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ فاک کی حکمت عملی ہر جگہ ایک جیسی دکھائی دیتی ہے، وہ کمزور نوجوانوں کو چنتا ہے، انہیں ایک سادہ مگر زہریلا بیانیہ دیتا ہے، پھر انہیں راز داری، خوف اور گروہی وفاداری کے ذریعے باندھتا ہے۔ ایسی سوچ کھلے مکالمے میں نہیں جیت سکتی، اس لیے یہ پردوں کے پیچھے پنپتی ہے، اور انکرپشن اس کے لیے بہترین ڈھال بن جاتی ہے۔
راجستھان کا واقعہ اس لیے بھی خبردار کرتا ہے کہ سیاسی حساب کتاب اکثر زمینی سلامتی پر غالب آ جاتا ہے۔ ریاستیں کبھی کبھی یہ سمجھ لیتی ہیں کہ روابط، ملاقاتیں یا محدود تعاون خطرات کو قابو میں رکھ لے گا۔ مگر بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں کسی بیانیے یا کسی سفارتی امید کی پابند نہیں ہوتیں۔ وہ موقع دیکھتی ہیں، خلا دیکھتی ہیں، اور اسی خلا میں اپنے لوگ بٹھا دیتی ہیں۔ آج بھارت میں جو دراڑ نظر آئی ہے، کل کہیں اور بھی نظر آ سکتی ہے، کیونکہ نیٹ ورک ایک ملک کے لیے نہیں بنتا، وہ پھیلنے کے لیے بنتا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کیس کو صرف قانون نافذ کرنے کی کامیابی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے اسٹریٹجک ثبوت کے طور پر پڑھا جائے۔ بھارت کے لیے بھی، پاکستان کے لیے بھی، اور پورے خطے کے لیے بھی۔ بارڈر سکیورٹی، مالی نگرانی، آن لائن پلیٹ فارمز پر بہتر تفتیش، اور مذہبی مقامات میں شفاف انتظامی نظام، یہ سب ضروری ہیں۔ ساتھ ہی نوجوانوں کے لیے تعلیم، روزگار اور ذہنی معاونت جیسے اقدامات بھی اتنے ہی اہم ہیں، کیونکہ بھرتی کا اصل شکار اکثر وہی بنتا ہے جو خود کو بے سہارا محسوس کرتا ہے۔
آخر میں سبق سادہ ہے۔ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں سرحدوں، اتحادوں اور دعووں کا احترام نہیں کرتیں۔ جو ریاستیں یہ سمجھتی ہیں کہ خطرہ کہیں اور کا ہے، وہ اکثر خود اسی خطرے کی اگلی منزل بن جاتی ہیں۔ راجستھان میں فاک سے جڑے کردار کی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ یہ مسئلہ ایک ملک کا نہیں رہا۔ اگر اسے اسی پیمانے پر نہ سمجھا گیا تو آج کی گرفتاری کل کے بڑے نقصان کی صرف ایک ابتدائی کہانی بن کر رہ جائے گی۔
Author
-
ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔
View all posts