Nigah

سونے کی چمک، زہر آلود دریا، اور مسلح قبضہ

[post-views]

افغانستان کی معدنی دولت کو عام حالات میں قومی بحالی کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، مگر طالبان کے زیرِ کنٹرول یہ شعبہ ایک ایسے نظام میں ڈھل چکا ہے جہاں طاقت، محرومی اور راز داری مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ کان کنی اب عوامی ترقی کی منصوبہ بندی نہیں رہی، بلکہ آمدن سمیٹنے، وفاداریاں خریدنے اور سیاسی گرفت مضبوط کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ بدخشاں اور تخار کی مثالیں صاف دکھاتی ہیں کہ سونے کی کانیں ریاستی انتظام کے تحت نہیں چل رہیں، بلکہ مسلح کنٹرول کے تحت ایک متوازی معیشت کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

طالبان اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے سکیورٹی بہتر کی ہے اور معیشت کو سہارا دیا ہے۔ مگر کان کنی والے علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان دعووں کی نفی کرتا ہے۔ یہاں سکیورٹی کا مطلب عوام کی حفاظت نہیں، بلکہ کانوں کی حفاظت اور آمدن کے راستوں کی نگرانی ہے۔ زمینوں پر قبضہ، مقامی لوگوں کو اجازت ناموں سے محروم کرنا، اور کانوں کا کنٹرول مخصوص نیٹ ورکس کو سونپنا، یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ وسائل عوام کے لیے نہیں، اقتدار کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

تخار کے چاہ آب اور بدخشاں کے اویزہئی پن مور میں پیدا ہونے والا اضطراب اسی پس منظر میں سمجھ میں آتا ہے۔ جب طالبان پشت پناہی رکھنے والی فورسز نے مقامی سونے کی کانوں پر قبضہ کیا تو لوگوں نے مزاحمت کی، کیونکہ وہ اسے ترقی نہیں بلکہ بے دخلی سمجھتے تھے۔ احتجاج اس خوف کا اظہار تھا کہ مقامی روزگار، زمین اور پانی پر وہ حق ختم کیا جا رہا ہے جو نسلوں سے لوگوں کے پاس تھا۔ ایسے میں ریاست کا کام مذاکرات، شفافیت اور انصاف ہونا چاہیے تھا، مگر جواب گولیاں، دھمکیاں اور جبر کی صورت میں آیا۔

اس بحران میں بشیر حاجی نورزی جیسے کرداروں کا نام آنا ایک اور خطرناک پہلو ہے۔ ایک سابق منشیات اسمگلر کے پاس لاجسٹکس، غیر قانونی تجارت، اور مسلح نیٹ ورکس چلانے کا تجربہ ہوتا ہے۔ اگر ایسے افراد کان کنی کی نگرانی یا انتظام میں شریک ہوں تو یہ شعبہ لازماً قانون کے بجائے غیر رسمی طاقت کے اصولوں پر چلے گا۔ پھر کانوں سے نکلنے والا سونا صرف مارکیٹ تک نہیں جاتا، وہ ایک ایسے مالی سلسلے میں شامل ہو جاتا ہے جس میں شفافیت کم اور بداعتمادی زیادہ ہوتی ہے۔

طالبان کی کان کنی کی حکمت عملی بنیادی طور پر وسائل پر منظم قبضہ ہے۔ مقامی آپریٹرز کو ہٹایا جاتا ہے، رہائشیوں کو اجازت نہیں دی جاتی، اور کنٹرول وفادار عناصر یا مسلح گروہوں کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ آمدن کے بارے میں عوام کو کچھ معلوم نہیں ہوتا، نہ یہ واضح ہوتا ہے کہ کس شرح سے ٹیکس لیا جا رہا ہے اور کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کان کنی ایک متوازی مالی ڈھانچہ بن جاتی ہے، جس میں رقم رسمی بجٹ کے بجائے کمانڈ اسٹرکچر اور غیر رسمی چینلز کے ذریعے گردش کرتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ریاستی معیشت کمزور اور جنگی معیشت مضبوط ہوتی ہے۔

اس آمدن کا سب سے تشویش ناک استعمال دہشت گرد نیٹ ورکس کی تقویت ہے۔ جب معدنی دولت کا حساب کتاب عوامی نگرانی سے باہر ہو، اور جب مسلح گروہ اپنے لیے وسائل اکٹھا کر رہے ہوں، تو یہ رقم ہتھیاروں، تنخواہوں، نفاذی یونٹس اور آپریشنل سپورٹ پر لگتی ہے۔ بدخشاں میں سونے کی کانوں کی آمدن کے بارے میں یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ اس سے القاعدہ جیسے گروہوں کو سہولت اور مالی سہارا مل سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کے لیے بھی سرحد پار مالی مدد کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ یہ محض افغان مسئلہ نہیں رہتا، یہ علاقائی عدم استحکام میں بدل جاتا ہے۔

کمزور نگرانی اور غیر شفاف معاہدے غیر ریاستی عناصر کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں۔ 2021 کے بعد بہت سے سودے ایسے ماحول میں ہوئے جہاں نہ ماحولیات کی جانچ ہوئی، نہ آزاد مانیٹرنگ، نہ مسابقتی بولی کا نظام۔ جب سونے کے بیلٹس کے ساتھ دیگر اسٹریٹجک معدنیات کے امکانات بھی موجود ہوں تو اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے علاقے جہاں غیر رسمی ٹیکس نیٹ ورک اور مسلح اثر و رسوخ پہلے ہی موجود ہو، وہاں غیر منظم کان کنی ایک طویل المدت فنڈنگ لائن بن سکتی ہے جو جواب دہی سے باہر رہتی ہے۔

ماحولیاتی اور صحت کے نقصانات اس بحران کو مزید سنگین بناتے ہیں۔ سونے کی کان کنی میں پارہ اور سائنائیڈ جیسے کیمیکل بغیر حفاظتی اقدامات کے استعمال ہوں تو دریا آلودہ ہوتے ہیں، کھیتی باڑی متاثر ہوتی ہے، مویشی بیمار پڑتے ہیں، اور مچھلیوں سمیت پوری غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے۔ آلودہ پانی سے اعصابی بیماریاں، گردوں کے مسائل، حمل میں پیچیدگیاں اور بچوں کی صحت پر دیرپا اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ اگر بھاری دھاتیں مٹی اور پانی میں شامل ہو جائیں تو ہزاروں گھرانے کئی برس تک اس کے نتائج بھگتتے رہتے ہیں۔ طالبان کے پاس نہ اس کی نگرانی کی صلاحیت نظر آتی ہے اور نہ اس کی سنجیدہ خواہش۔

مزدوروں کی سلامتی بھی نظر انداز ہے۔ کانوں میں سرنگیں گرنے کے واقعات، لینڈ سلائیڈنگ، اور حادثات عام ہیں۔ مزدوروں کے پاس نہ مناسب حفاظتی سامان، نہ تربیت، نہ انشورنس، نہ معاوضے کی ضمانت۔ پھر طالبان کی جانب سے سکیورٹی کے بڑے بڑے دعوے بھی بے معنی لگتے ہیں، کیونکہ زمینی حقیقت میں فورسز کا بڑا کردار کانوں پر پہرہ دینا اور احتجاج دبانا بن جاتا ہے، نہ کہ لوگوں کے جان و مال، پانی، زمین اور صحت کے تحفظ کو یقینی بنانا۔

بدخشاں اور تخار کے احتجاج ایک گہرے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، یعنی حکمرانی کی اخلاقی بنیاد کا بحران۔ مقامی بزرگ اور شہری اس سوال کو اٹھا رہے ہیں کہ بغیر قانونی مینڈیٹ اور عوامی رضا مندی کے قومی وسائل کو نکالنے کا حق کس کے پاس ہے۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر طالبان کے ساتھ معاشی معاملات میں جھجھک نظر آتی ہے، کیونکہ جب وسائل کی آمدن دہشت گردی کو سہارا دے، اور جب عوام کو جبر کے ذریعے خاموش کرایا جائے، تو دنیا کے لیے اسے معمول کا معاشی شعبہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

افغانستان کی معدنی دولت اگر شفافیت، قانون، اور مقامی شمولیت کے ساتھ استعمال ہو تو وہ روزگار، آمدن اور ترقی لا سکتی ہے۔ مگر مسلح کنٹرول کے تحت کان کنی، ترقی نہیں، اقتدار کی معیشت بن جاتی ہے۔ یہ دولت چند ہاتھوں میں جمع ہوتی ہے، دہشت گرد نیٹ ورکس کو طاقت دیتی ہے، ماحول کو برباد کرتی ہے، اور خطے میں عدم استحکام بڑھاتی ہے۔ جب تک کان کنی کو شفاف نظام، آزاد نگرانی، اور عوامی مفاد سے جوڑا نہیں جاتا، تب تک افغانستان کی زمین سے نکلنے والی دولت، امن کے بجائے مزید بحران پیدا کرتی رہے گی۔

Author

  • ڈاکٹر ظہیرال خان

    ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔