Nigah

طالبان فوجداری ضابطہ 2026

[post-views]

جنوری 2026 میں نافذ کیا گیا طالبان کا نیا فوجداری طریقہ کار ضابطہ بظاہر عدالتی اصلاحات کی شکل میں پیش کیا گیا، مگر حقیقت میں یہ قانون کم اور اقتدار کی گرفت زیادہ ہے۔ طریقہ کار کے ضابطے کا مقصد عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ گرفتاری، تفتیش، شہادت، سماعت اور اپیل کے مراحل واضح ہوں، تاکہ ریاست کی طاقت حدود میں رہے اور شہریوں کو انصاف تک رسائی ملے۔ طالبان کا یہ ضابطہ اس بنیادی مقصد سے ہٹ کر زندگی کے تقریباً ہر حصے کو قانون کے ذریعے قابو میں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عدالتوں کے قواعد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ مذہبی شناخت، سیاسی وفاداری، سماجی رویّوں اور خاندانی معاملات تک کو جرم اور سزا کی زبان میں ڈھالتا ہے۔

اس ضابطے کی سب سے خطرناک بات اس کا “اطاعت” کو انصاف کی جگہ بٹھانا ہے۔ قانون اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اختلاف رائے کو صرف سیاسی اختلاف نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے مذہبی انحراف اور فساد کے درجے میں رکھا جائے۔ جب ریاست اپنے مخالف کو شہری نہیں بلکہ “گمراہ” قرار دے کر سزا دے، تو پھر عدالت انصاف کا ادارہ نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسا فورس میکانزم بن جاتی ہے جو حکومت کے بیانیے کو طاقت کے ساتھ نافذ کرتا ہے۔ اسی لیے یہ ضابطہ محض قانونی متن نہیں، ایک مکمل سیاسی پروجیکٹ ہے، جو شہری کو حقوق دینے کے بجائے اس سے خوف، خاموشی اور مکمل تابعداری کا مطالبہ کرتا ہے۔

اس قانون میں طبقاتی تقسیم کا عنصر ایک کھلا اعلان ہے کہ سب لوگ قانون کے سامنے برابر نہیں۔ اگر ایک ہی عمل پر مختلف طبقات کے لیے مختلف ردعمل تجویز ہوں، کسی کے لیے نصیحت، کسی کے لیے طلبی، کسی کے لیے قید اور کسی کے لیے قید کے ساتھ جسمانی سزا، تو پھر انصاف کا تصور ہی بدل جاتا ہے۔ یہ صرف امتیاز نہیں، یہ ادارہ جاتی ناانصافی ہے۔ اس نظام میں غریب اور کمزور فرد کے لیے قانون خطرہ بنتا ہے اور بااثر کے لیے ڈھال۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جرم کی تعریف بھی طاقت طے کرتی ہے، اور سزا کی شدت بھی طاقت کے پاس رہتی ہے۔

اسلامی نقطہ نظر سے یہی جگہ سب سے بڑی فکری اور اخلاقی لغزش ہے۔ اسلامی تعلیمات میں عدل کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے چاہے حالات کچھ بھی ہوں، بلکہ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ قانون کا اطلاق حیثیت اور نسب دیکھ کر نہ ہو۔ فعل دیکھا جائے، منصب نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معروف تنبیہ کہ پچھلی قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ طاقتور کو چھوڑ دیا جاتا تھا اور کمزور کو سزا دی جاتی تھی، آج کے حالات میں بالکل زندہ حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔ اگر قانون خود طاقتور کو رعایت دے اور کمزور پر سختی کرے تو اسے “شریعت” کہنا بھی شریعت پر ظلم ہے۔

سیاسی اختلاف کو مذہبی جرم بنا دینا اس ضابطے کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت سے اختلاف، تنقید یا مخالفت کو بغاوت اور فساد کے لیبل کے ساتھ جوڑ کر سزائے موت تک کی راہیں کھولی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ خاموش رہنا بھی جرم کے دائرے میں آ سکتا ہے، کیونکہ رپورٹ نہ کرنے اور “مخالف سرگرمی” کی اطلاع نہ دینے جیسے تقاضے شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتے ہیں۔ ایسا ماحول معاشرے کو مضبوط نہیں کرتا، اسے اندر سے توڑ دیتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں حکمران سے سوال کرنا، اس کی غلطی پر تنبیہ کرنا اور مشورہ دینا ایک معروف روایت رہی ہے۔ طالبان کا ضابطہ اسی روایت کو الٹ کر اطاعت کو دین اور سوال کو جرم بنا دیتا ہے۔

ثقافتی اور سماجی زندگی پر پابندیاں بھی اسی کنٹرول کے ذہن کی پیداوار ہیں۔ رقص، رقص دیکھنا، مخصوص اجتماعات میں موجودگی، یا بعض سماجی سرگرمیوں کو جرم قرار دینا عوامی نظم سے زیادہ “عوامی وجود” پر حملہ ہے۔ ثقافت انسان کو سانس لینے کی جگہ دیتی ہے، اسے شناخت دیتی ہے، اسے خوشی کے چھوٹے چھوٹے مواقع دیتی ہے۔ جب ریاست ان چیزوں کو جرم بنا دے تو مقصد اخلاق نہیں، خوف پیدا کرنا ہوتا ہے۔ خوف وہ ماحول ہے جس میں سوال ختم ہو جاتا ہے، اور سوال ختم ہو جائے تو اقتدار محفوظ ہو جاتا ہے۔

اس ضابطے میں خواتین سے متعلق دفعات ایک ایسی سوچ ظاہر کرتی ہیں جو عورت کو خود مختار اخلاقی اور قانونی شخصیت ماننے کے بجائے “نگرانی کے تحت” وجود سمجھتی ہے۔ والدین کے گھر بار بار جانا، شوہر کی اجازت کے بغیر، جرم کے طور پر پیش کیا گیا اور انکار کی صورت میں قید کی بات کی گئی ہے۔ سرپرست اور شوہر کو سزا دینے کا اختیار دینا گھریلو تشدد کو قانونی رنگ دے سکتا ہے۔ مزید یہ کہ عورت پر ہونے والے تشدد کو صرف شدید ظاہری چوٹ تک محدود کر دینا، نفسیاتی، جنسی اور مسلسل جبر کو نظر انداز کرتا ہے، حالانکہ یہی جبر عموماً سب سے زیادہ تباہ کن ہوتا ہے۔ اسلام میں عورت کے حقوق، نکاح میں رضامندی، مالکانہ اختیار، اور قانونی گواہی و ذمہ داری جیسے اصول واضح ہیں۔ عورت کو محض تابع اور قابو میں رکھنے والی شے بنانا نہ دینی روح کے مطابق ہے نہ معاشرتی انصاف کے۔

غلامی کی قانونی شناخت کا برقرار رہنا بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔ آج کے دور میں کسی بھی قانون میں آزاد اور غلام جیسی تقسیم کا رہ جانا انسانی وقار کے خلاف ہے۔ اسلامی تعلیمات میں غلامی کو بڑھاوا دینے کے بجائے آزادی کی ترغیب، مکاتبت، کفاروں میں آزادی، اور انسانی مساوات کی طرف تدریجی سفر کا تصور ملتا ہے۔ طالبان کا یہ قانونی فریم اگر غلامی کے تصور کو معمول کے طور پر رکھتا ہے تو یہ دین کی اخلاقی سمت کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔

ریاستی نظم کے اعتبار سے بھی یہ ضابطہ افغانستان کو مزید غیر مستحکم کرتا ہے۔ کوئی بھی ملک تب چلتا ہے جب قانون واضح ہو، عدالتیں قابل اعتماد ہوں، اور ریاست کی طاقت محدود اور جواب دہ ہو۔ جب جرائم کی تعریف مبہم ہو، سزائیں اختیار پر چھوڑ دی جائیں، اور قانون کا مقصد اطاعت نافذ کرنا بن جائے، تو معاشرہ اعتماد کھو دیتا ہے۔ لوگ عدالتوں سے انصاف لینے کے بجائے خود کو بچانے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں، خاموشی اختیار کرتے ہیں، یا ہجرت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ نظم نہیں، مسلسل دبا ہوا بحران ہے۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ طالبان اس ضابطے کو کس نام سے پکارتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ ضابطہ کس کام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کی ساخت، زبان اور ترجیحات بتاتی ہیں کہ یہ انصاف کی خدمت کے لیے نہیں، اقتدار کی حفاظت کے لیے ہے۔ شریعت کا بنیادی مقصد ظلم روکنا اور عدل قائم کرنا ہے۔ جو قانون ظلم کو مقدس بنا دے، وہ دین کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔ یہ ضابطہ اگر نافذ رہے تو افغانستان میں عدالتیں کمزور ہوں گی، سماج منقسم ہوگا، اور مذہب کو ایک ایسے سیاسی ہتھیار میں بدل دیا جائے گا جو خود مذہب کی روح کو زخمی کرتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر محمد سلیم

    محمد سلیم برطانیہ میں مقیم مصنف اور محقق ہیں جن کی اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ایک مضبوط علمی بنیاد ہے۔ اس کا کام طاقت اور حکمت عملی کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتا ہے۔ وہ جغرافیائی سیاست، علاقائی معاملات، اور آج کی دنیا کو تشکیل دینے والے نظریات کے لیے ایک باریک عینک لاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔