آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ صورت حال میں عوامی ایکشن کمیٹی کا حکومت کے ساتھ مذاکرات سے مسلسل انکار ایک سنجیدہ سوال بن چکا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومت نے بڑی حد تک کمیٹی کے تقریباً تمام بڑے مطالبات پورے کر دیے ہیں، احتجاج پر اصرار اور مکالمے سے گریز محض سیاسی حکمت عملی نہیں لگتا، بلکہ یہ طرز عمل تخریبی عزائم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ امن کی راہ کھلی ہے، احتجاج کی ضد کیوں؟ یہ سوال آج ہر سنجیدہ شہری کے ذہن میں موجود ہے۔
پس منظر واضح ہے۔ حکومت آزاد جموں و کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے اٹھائے گئے بنیادی مطالبات کو محض کاغذی وعدوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ عملی اقدامات اٹھائے۔ ہیلتھ کارڈ کی بحالی جیسے عوام دوست قدم کا براہ راست فائدہ غریب اور متوسط طبقے کو پہنچتا ہے، جو مہنگے علاج کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔ سیلولر سروسز کی بہتری کے لیے فنڈز کا اجرا، جدید معیشت، تعلیم، روزگار اور رابطہ کاری کے لیے ناگزیر ہے۔ اسی طرح احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والوں کی رہائی اور ان کے خلاف قائم ایف آئی آرز کی واپسی، حکومت کے مصالحتی اور مفاہمانہ رویے کا واضح اظہار ہے، ٹکراؤ کا نہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، ادارہ جاتی اصلاحات کو اسمبلی کے فریم ورک کے اندر لے کر آنا، اس بات کی علامت ہے کہ حکومت نظام کو اندر سے بہتر بنانے کے لیے تیار ہے، نہ کہ وقتی دباؤ میں آ کر کوئی بے سمت اعلان کرنا چاہتی ہے۔ ایئرپورٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی جیسے اسٹریٹجک اقدامات مستقبل قریب میں سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست نے ہاتھ ملایا، کمیٹی نے منہ موڑ لیا۔ یعنی حکومت حل کی طرف بڑھی، مگر ایکشن کمیٹی نے خود کو بند گلی میں کھڑا کر دیا۔
اب سوال یہ ہے کہ جب حکومت عملاً مطالبات کے بڑے حصے کو تسلیم کر چکی ہے، تو پھر بھی عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات سے انکار کیوں کر رہی ہے۔ یہاں آ کر معاملہ محض حقوق کی جدوجہد سے آگے نکل کر سیاسی مفادات کے کھیل میں تبدیل ہوتا نظر آتا ہے۔ عوامی مفاد یا سیاسی مفاد؟ ایکشن کمیٹی کا دہرا معیار بے نقاب۔ اگر مقصد واقعی عوام کی سہولت، سستی بجلی، بہتر صحت، بہتر رابطہ کاری اور شفاف گورننس ہے، تو پھر منطقی راستہ یہی تھا کہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اگلے مرحلے کی حکمت عملی طے کی جاتی، نہ کہ سڑکوں پر مسلسل کشیدگی کو ہوا دی جاتی۔
جمہوری معاشروں میں احتجاج ایک جائز اور اہم حق ہے۔ لیکن احتجاج ہمیشہ کسی مطالبے کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے، خود مقصد نہیں بن جاتا۔ جب مطالبات تسلیم ہو جائیں، مکالمے کے دروازے کھل جائیں اور حکومت خود اصلاحات کے ایجنڈے کی علمبردار بننے پر آمادہ ہو، تو پھر احتجاج پر اصرار بد نیتی کا تاثر پیدا کرتا ہے۔ حقوق کی جنگ ختم، اب صرف بے جا ضد باقی۔ یہ ضد دراصل اس بیانیے کو کمزور کر رہی ہے جس کے نام پر عوام کو سڑکوں پر نکالا گیا تھا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلسل دباؤ، بے یقینی اور افواہوں سے سیاسی درجہ حرارت تو بڑھتا ہے، لیکن عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ کاروبار متاثر ہوتے ہیں، روزگار کے مواقع سکڑتے ہیں، تعلیم اور صحت کے نظام پر نفسیاتی دباؤ بڑھتا ہے۔ جب عوامی ایکشن کمیٹی مسلسل یہ تاثر دے کہ ریاستی ادارے ناقابل اعتماد ہیں، ہر پیش رفت کو شک کی نظر سے دیکھے اور ہر حل کو سازش بنا کر پیش کرے، تو اس سے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے۔ گورننس کے ثمرات اور سماجی ہم آہنگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ بہبود کے تمام راستے مذاکرات سے، انتشار سے نہیں۔
اگر واقعی مقصد ادارہ جاتی اصلاحات ہے، تو ان کے لیے اصل فورم اسمبلی اور متعلقہ ادارے ہیں، نہ کہ سڑک اور سوشل میڈیا کے محاذ۔ اصلاحات ہمیشہ قانون کے اندر رہ کر کی جاتی ہیں، قانون کے سر پہ کھڑے ہو کر نہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی اگر خود کو حقیقی عوامی نمائندہ فورم سمجھتی ہے، تو اسے زیادہ ذمہ داری، شفافیت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ایجنڈا واضح ہو گیا: مقصد حل نہیں، صرف بے چینی پھیلانا۔ اس بے چینی کا فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے، یہ سوال بھی اٹھنا چاہیے۔
یہ بھی قابل غور ہے کہ حکومت نے عملی اقدامات کے ذریعے خود کو تعمیر کشمیر کے ایک سنجیدہ شراکت دار کے طور پر پیش کر دیا ہے۔ ہیلتھ کارڈ سے لے کر سیلولر سروسز کی بہتری اور ادارہ جاتی اصلاحات تک، ہر اقدام براہ راست عوام کی سہولت، عزت نفس اور معیار زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے برعکس، عوامی ایکشن کمیٹی کا موجودہ طرز عمل اسے اس جگہ لا کھڑا کرتا ہے جہاں تعمیر کشمیر میں حکومت شراکت دار، ایکشن کمیٹی قصوروار دکھائی دیتی ہے۔ عوام اب یہ فرق محسوس کر رہے ہیں کہ کون سہولیات دے رہا ہے اور کون عدم استحکام کو طول دے رہا ہے۔
اس مرحلے پر سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا، سول سوسائٹی اور باشعور شہری جذبات سے بالاتر ہو کر حقائق کو پرکھیں۔ ہر نعرہ مقدس نہیں ہوتا، ہر احتجاج مقدس نہیں ہوتا، اصل کسوٹی یہ ہے کہ عام شہری کی زندگی میں عملی بہتری آ رہی ہے یا نہیں۔ جب ریاست مذاکرات کی میز پر موجود ہو، مطالبات تسلیم کر رہی ہو اور اصلاحات کے لیے تیار ہو، تو پھر مستقل محاذ آرائی کسی بھی طرح عوام کے مفاد میں نہیں۔ بہبود کے تمام راستے مذاکرات سے گزرتے ہیں، انتشار سے نہیں۔
آخر میں تصویر خاصی صاف ہو چکی ہے۔ ایک طرف وہ حکومت ہے جو اپنے اقدامات سے مصالحت، مکالمہ اور بہتری کی طرف قدم بڑھا چکی ہے۔ دوسری طرف ایک ایسی کمیٹی ہے جو مسلسل سخت بیانیے، افواہوں اور گریز کی سیاست پر قائم ہے۔ عوام کے سامنے اب انتخاب واضح ہے۔ تعمیر، اصلاح اور مکالمہ یا ضد، انتشار اور بے یقینی۔ امن کی راہ کھلی ہے، احتجاج کی ضد کیوں۔
Author
-
View all postsانیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل: