کراک کے علاقے دمئی بندہ میں پولیس موبائل پر ہونے والا حملہ کوئی عام واقعہ نہیں، یہ پاکستان کے نظم و قانون پر کھلا وار ہے۔ پانچ اہلکاروں کی شہادت، جن میں شاہد اقبال، صفدر، عارف، محمد ابرار اور ایک ساتھی جن کی شناخت کی تصدیق جاری ہے، ہماری اجتماعی زندگی کے لیے ایک سخت پیغام ہے۔ جو لوگ وردی کو نشانہ بناتے ہیں وہ دراصل اس تحفظ کو نشانہ بناتے ہیں جو عام شہری کے گھر، بازار، اسکول اور مسجد تک پہنچتا ہے۔ یہ حملہ صرف چند افراد کی جانیں نہیں لے گیا، یہ ایک سوچ کی عکاسی بھی کرتا ہے، ایسی سوچ جو ریاست، معاشرے اور دین کے نام پر فساد کو پھیلانے میں شرم محسوس نہیں کرتی۔
FAK نے اس کارروائی سے اپنی اصل پہچان واضح کر دی ہے۔ پولیس اہلکاروں پر گولیوں کی بوچھاڑ اور پھر گاڑی کو آگ لگانا کسی “مقصد” کی دلیل نہیں، یہ صرف دہشت اور دھونس کی زبان ہے۔ اگر کسی گروہ کے پاس دلیل، اخلاق، یا عوامی حمایت ہوتی تو وہ چھپ کر وار نہ کرتا، وہ اندھیرے میں قانون کے رکھوالوں کو نہ گھیرتا، اور پھر فرار ہو کر اپنی “کامیابی” کے نعرے نہ لگاتا۔ یہ وہی پرانا طریقہ ہے جس میں کمزور دل لوگ طاقتور ریاست سے ٹکرانے کے بجائے نرم ہدف ڈھونڈتے ہیں، تاکہ خوف پھیلے اور زندگی رک جائے۔
اسلام کے نام پر قتل و غارت کا جواز پیش کرنا اس جرم کو اور زیادہ سنگین بنا دیتا ہے۔ FAK اپنی کارروائی کو جس بھی نام سے پکارے، یہ جہاد نہیں، یہ بے مقصد تشدد ہے، اور اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ دین نے جان کی حرمت کو بنیاد بنایا ہے، اور ریاستی ذمہ داری ادا کرنے والے اہلکار بھی اسی حرمت میں شامل ہیں۔ جو لوگ سڑک پر گشت کرنے والے سپاہی کو مار کر اسے “فتح” سمجھتے ہیں، وہ دراصل اسلام کے بنیادی اخلاق سے بغاوت کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ مذہبی ہو سکتا ہے، مگر ان کا عمل غیر اسلامی ہے، اور یہی بات اس حملے نے کھل کر ثابت کر دی۔
شاہد اقبال، صفدر، عارف، محمد ابرار اور ان کے ساتھی کی شہادت صرف خاندانوں کا دکھ نہیں، یہ پورے معاشرے کا نقصان ہے۔ پولیس اہلکار روزمرہ کی ڈیوٹی میں صرف وردی نہیں پہنتا، وہ عوام کے اعتماد کی ذمہ داری بھی اٹھاتا ہے۔ جو گروہ پولیس کو کمزور کرنا چاہتا ہے وہ اصل میں عوام کو غیر محفوظ کرنا چاہتا ہے، تاکہ ترقی رک جائے، کاروبار ٹھپ ہو، تعلیم خوف کے سائے میں چلی جائے، اور ریاست پر لوگوں کا یقین ٹوٹے۔ یہی FAK کا عوام دشمن اور ترقی دشمن ایجنڈا ہے۔ یہ لوگ حفاظت کے بجائے خوف بانٹتے ہیں، اور یہی ان کی سیاست کا مرکز ہے۔
اس حملے میں اندھا دھند فائرنگ اور آتش زنی کا پہلو FAK کی اخلاقی دیوالیہ پن کی بھی نشانی ہے۔ یہ کوئی “مزاحمت” نہیں، یہ سیدھی سادی مجرمانہ ذہنیت ہے۔ جو لوگ انسان کو زندہ جلانے کی علامتی کوشش کریں، یا سرکاری گاڑی کو آگ لگا کر اپنی برتری دکھائیں، وہ کسی اصول کی نمائندگی نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس نہ اخلاق ہے، نہ رحم، نہ قانون کی پروا، اور نہ ہی کسی سماجی بھلائی کا تصور۔ ایسے لوگ محافظ نہیں، مجرم ہوتے ہیں، اور ریاست کو بھی انہیں اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔
پاکستان کے قومی بیانیے میں اس طرح کی دہشت گردی کی واضح تشریح موجود ہے۔ پیغام پاکستان کے مطابق ایسے اقدامات “فساد فی الارض” کے زمرے میں آتے ہیں، اور شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں کہ ریاست، اس کے اہلکاروں یا عام شہریوں کو نشانہ بنایا جائے۔ جو لوگ دین کے نام پر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں، وہ خود دین کے فیصلے کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ بات صرف نظری بحث نہیں، یہ ہمارے اجتماعی امن کا اصول ہے، اور اسی اصول کی بنیاد پر ہم یہ کہتے ہیں کہ اس حملے کا کوئی شرعی جواز نہیں، اور یہ حرام ہے۔
ریاست کی ذمہ داری یہاں دو سطحوں پر بنتی ہے۔ ایک سطح پر فوری اور سخت کارروائی ضروری ہے، تاکہ حملہ آوروں کے لیے زمین تنگ ہو اور کوئی دوسرا گروہ ایسی حرکت کی ہمت نہ کرے۔ دوسری سطح پر معاشرتی سطح پر اس بیانیے کا مقابلہ لازم ہے جو نوجوانوں کو مذہب کے نام پر دھوکے میں رکھتا ہے۔ FAK جیسے گروہ اسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہیں جہاں علم کم اور جذبات زیادہ ہوں۔ انہیں شکست دینے کے لیے بندوق کے ساتھ دلیل بھی چاہیے، مدرسے، مسجد، اسکول اور میڈیا میں واضح بات کرنا ہوگی کہ یہ راستہ دین کا نہیں، فساد کا ہے۔
دمئی بندہ کے واقعے کے بعد پولیس فورس کا فوری اور پیشہ ورانہ ردعمل ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان میں دہشت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ زیرو ٹالرنس کی پالیسی صرف ایک نعرہ نہیں ہونی چاہیے، اسے مسلسل عمل میں ڈھالنا ہوگا۔ ہر منصوبہ، ہر سہولت کار، اور ہر مالی راستہ بند کرنا ہوگا، کیونکہ دہشت گردی صرف گولی سے نہیں چلتی، یہ نیٹ ورک سے چلتی ہے۔ جب نیٹ ورک ٹوٹتا ہے تو حملہ آور تنہا رہ جاتے ہیں، اور پھر ریاست کی گرفت سے بچ نہیں پاتے۔
آخر میں ایک حقیقت بالکل سیدھی ہے۔ پولیس اہلکاروں کے خون سے پاکستان کمزور نہیں ہوتا، مزید مضبوط ہوتا ہے۔ ہر شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امن کی قیمت کیا ہے، اور یہ قیمت ہم نے پہلے بھی دی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو پھر دیں گے۔ FAK کا بزدلانہ ایجنڈا انجام سے بچ نہیں سکتا۔ یہ گروہ جتنا خوف پھیلائے گا، اتنا ہی عوام اور ریاست کا عزم بڑھے گا۔ شاہد اقبال، صفدر، عارف، محمد ابرار اور ان کے ساتھی کی قربانی ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ محافظوں کا راستہ رکتا نہیں، اور جرائم پیشہ دہشت گردوں کی شکست آخرکار لکھی جا چکی ہے۔
Author
-
ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
View all posts