پاکستان کی معاشی تاریخ میں بہت سے منصوبے امید دلاتے رہے ہیں، مگر اکثر بنیادی رکاوٹیں وہی رہیں، بجلی کی کمی، مہنگی لاجسٹکس، کمزور صنعتی ڈھانچہ، اور پالیسی کا عدم تسلسل۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک، اس لیے مختلف ہے کہ یہ صرف ایک منصوبہ نہیں رہا، بلکہ وقت کے ساتھ ایک ایسا فریم ورک بنتا جا رہا ہے جو پاکستان کو جدید مینوفیکچرنگ کی سمت لے جا سکتا ہے۔ ساٹھ ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ساتھ سی پیک نے پاکستان کے لیے یہ امکان پیدا کیا کہ وہ محض صارف بازار نہ رہے بلکہ خطے میں پیداوار، تجارت اور ترسیل کا مرکز بنے۔
سی پیک کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ صنعتی ترقی صرف فیکٹری لگانے کا نام نہیں۔ صنعت وہاں پھلتی ہے جہاں توانائی مستحکم ہو، سڑکیں اور ریل کا نظام قابلِ بھروسا ہو، بندرگاہیں موثر ہوں، اور سپلائی چین میں غیر ضروری تاخیر کم سے کم ہو۔ 2013 میں آغاز کے بعد سی پیک نے گوادر کو چین کے سنکیانگ خطے سے جوڑنے کے لیے شاہراہوں، ریل، اور توانائی کے منصوبوں کا جال بچھایا۔ پھر 2017 سے 2030 کے طویل المدتی منصوبے میں تعاون کو ٹرانسپورٹ سے آگے بڑھا کر توانائی، صنعت، زراعت، اور سماجی شعبوں تک پھیلا دیا گیا۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سی پیک محض تعمیرات سے نکل کر معاشی تبدیلی کا راستہ بن جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا بریک ہمیشہ توانائی رہی ہے۔ صنعت کار کی نظر میں بجلی کی بندش ایک عام مسئلہ نہیں، یہ براہِ راست لاگت اور بدنامی ہے، آرڈر لیٹ، معیار متاثر، اور خریدار کا اعتماد ختم۔ سی پیک کے تحت قومی گرڈ میں آٹھ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کے اضافے نے اسی رکاوٹ کو کم کرنے میں مدد دی۔ جب توانائی نسبتاً مستحکم ہوتی ہے تو فیکٹریاں طویل شفٹ چلا سکتی ہیں، مشینری میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے، اور پیداواری لاگت نیچے آتی ہے۔ یہ تبدیلی خاموش ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات بہت بڑے ہوتے ہیں، کیونکہ یہی بنیاد برآمدات میں سنجیدہ اضافہ ممکن بناتی ہے۔
لازمی بات لاجسٹکس کی ہے۔ پاکستان میں مال کی ترسیل کا وقت اور خرچ اکثر علاقائی حریفوں کے مقابلے میں زیادہ رہا ہے۔ سی پیک کے تحت سینکڑوں کلومیٹر شاہراہوں اور ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی توسیع نے اندرونِ ملک رابطہ بہتر کیا، جس سے خام مال فیکٹری تک تیزی سے پہنچتا ہے اور تیار مال بندرگاہ تک کم وقت میں جاتا ہے۔ کاروبار کے لیے یہ سہولت صرف سفر کی آسانی نہیں، یہ مسابقت ہے۔ عالمی خریدار وہی ملک منتخب کرتا ہے جو وقت پر ڈیلیوری اور قابلِ بھروسا سپلائی دے سکے۔
گوادر کی ترقی کو بھی اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ بندرگاہ اگر صرف تصویروں میں خوبصورت ہو تو فائدہ کم رہتا ہے۔ اصل فائدہ تب ہوتا ہے جب کسٹمز، گودام، کولڈ چین، سکیورٹی، اور زمینی رابطے ایک نظام کی طرح کام کریں۔ گوادر کی سمت میں پیش رفت پاکستان کو وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے راستوں سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور یہی وہ جغرافیائی فائدہ ہے جسے پاکستان برسوں سے مکمل طور پر استعمال نہیں کر سکا۔ اگر گوادر ایک فعال تجارتی اور لاجسٹک حب بن جائے تو اس کے گرد صنعتیں اور خدمات خود بخود پنپتی ہیں، جیسے پیکجنگ، مرمت، ٹرانسپورٹ، اور سپلائر نیٹ ورک۔
اب اصل بحث سی پیک 2.0 کی ہے، کیونکہ نئی منزل صنعتی تعاون اور جدت ہے۔ 2025 کے بعد ترجیحات کا رخ بنیادی انفراسٹرکچر سے ہٹ کر ترقی، جدت، گرین ڈویلپمنٹ، روزگار، اور علاقائی رابطے کی طرف گیا ہے۔ یہ سمت پاکستان کے اپنے فریم ورک، یعنی 5Es، سے بھی ملتی ہے جس میں برآمدات، ای پاکستان، توانائی اور ماحول، مساوات، اور بااختیاری شامل ہیں۔ اس ہم آہنگی کی ایک قیمت بھی ہے، پاکستان کو اب منصوبوں کو صرف اعلان تک محدود نہیں رکھنا ہوگا، بلکہ قابلِ پیمائش نتائج دینا ہوں گے، برآمدات میں اضافہ، درآمدی متبادل پیداوار، ہنر مند روزگار، اور مقامی سپلائرز کی مضبوطی۔
خصوصی اقتصادی زونز، یعنی ایس ای زیڈز، اس تبدیلی کے لیے مرکزی ستون ہیں۔ رشکئی، دھابیجی، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی، اور بوستان جیسے زونز میں ٹیکس مراعات، کسٹمز سہولتیں، اور انفراسٹرکچر فراہم کرنے کا مقصد یہی ہے کہ سرمایہ کار کی توجہ کاغذی کارروائی سے ہٹ کر پیداوار پر رہے۔ لیکن یہاں ایک خطرہ بھی ہے۔ اگر زونز صنعتی پیداوار کے بجائے محض زمین کے کاروبار میں بدل گئے تو مقصد فوت ہو جائے گا۔ زونز کی کامیابی اس بات سے ناپی جانی چاہیے کہ وہاں کتنی فیکٹریاں چل رہی ہیں، کتنی برآمدات ہو رہی ہیں، کتنے مقامی کاروبار سپلائی چین میں شامل ہوئے ہیں، اور ٹیکنالوجی و تربیت کا معیار کیا ہے۔
پاکستان کے پاس ایک بڑا موقع یہ بھی ہے کہ چین میں بڑھتی لاگت کے باعث کچھ مینوفیکچرنگ دوسری جگہوں پر منتقل ہو رہی ہے۔ پاکستان اگر اس بہاؤ میں حصہ لینا چاہتا ہے تو اسے صرف سستی لیبر پر نہیں، معیار، وقت کی پابندی، اور مستحکم پالیسی پر سرمایہ لگانا ہوگا۔ چین کے ساتھ شراکت داری یہاں مدد دے سکتی ہے، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، آٹومیشن، پروڈکشن مینجمنٹ، اور کوالٹی کنٹرول کے میدان میں۔ مگر یہ تبھی ممکن ہوگا جب پاکستان مہارت کی تربیت، آسان کاروباری قوانین، شفاف ٹیکس نظام، اور تنازعات کے تیز حل کو ترجیح دے۔
آخر میں سی پیک کو ایک سادہ سوال کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے، کیا پاکستان صرف راہداری رہے گا، یا پیداوار کرنے والا ملک بنے گا۔ اگر پاکستان نے پالیسی تسلسل، صوبائی ہم آہنگی، سکیورٹی کے موثر انتظامات، اور نجی شعبے کی شراکت کو واقعی ترجیح دی تو سی پیک 2.0 پاکستان کو ایک جدید مینوفیکچرنگ حب کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہ راستہ آسان نہیں، مگر قابلِ عمل ہے۔ اور اگر یہ راستہ طے ہو گیا تو فائدہ صرف سرمایہ کار کو نہیں ہوگا، فائدہ عام پاکستانی کو ہوگا، بہتر روزگار، بہتر آمدن، اور ایک ایسی معیشت جو قرض اور درآمدات کے دباؤ کے بجائے پیداوار اور برآمدات پر کھڑی ہو۔
Author
-
مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔
View all posts