Nigah

پی ٹی ایم کا مستقل رویہ

[post-views]

سوئٹزر لینڈ میں پی ٹی ایم کے کارکنوں کی قانونی حراست پر جو ردعمل سامنے آیا، وہ دراصل کسی اچانک غصے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پرانا اور سوچا سمجھا بیانیہ ہے۔ جب بھی پی ٹی ایم کو قانونی جواب دہی کا سامنا ہوتا ہے، اس کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ ریاستی قوانین اور اداروں کو قصوروار ٹھہرائے اور اپنے طرز عمل پر نظر ڈالنے کے بجائے خود کو مظلوم ثابت کرے۔ یہ طرز فکر نہ نیا ہے نہ اصولی، بلکہ محض ایک حکمت عملی ہے جس کا مقصد ہر قیمت پر خود کو مظلوم اور ہر ریاست کو ظالم ثابت کرنا ہے۔

سوئٹزر لینڈ میں پی ٹی ایم کے کارکنوں کو روکے جانے اور حراست میں لیے جانے کے بعد جو بیانیہ بنایا گیا، وہی پرانا دعویٰ دہرایا گیا کہ یہ سب ایک پر امن احتجاج کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ نہ وہاں کے قانون کا حوالہ، نہ حقائق کی سنجیدہ بحث، بلکہ وہی رٹا رٹایا موقف کہ ریاستی عمل "جبر” ہے، پابندیاں "ظلم” ہیں، اور قانون کا نفاذ "انسانی حقوق کی خلاف ورزی” ہے۔ یہی طرز بیان پی ٹی ایم اس سے پہلے پاکستان کے بارے میں اختیار کر چکی ہے، اور اب جب دوسری ریاستیں اسی اصول قانون کی بنیاد پر کارروائی کرتی ہیں تو ان کے لیے بھی وہی زبان استعمال کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے اندر پی ٹی ایم نے اپنے بیانیے کی بنیاد اس تصور پر رکھی کہ قومی سلامتی کے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں دراصل پشتونوں کے خلاف جنگ ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سابق قبائلی اضلاع میں ہونے والی عسکری کارروائیاں کسی بھی طور من مانے فیصلے نہیں تھیں۔ وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 245 کے تحت افواج پاکستان کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے دیے گئے اختیار کے مطابق تھیں۔ دہشت گردی کے خلاف قانون 1997 اور نیشنل ایکشن پلان 2014 نے ریاست کو یہ قانونی فریم ورک دیا کہ تحریک طالبان پاکستان جیسے نیٹ ورکس کو توڑا جائے، ان کے مراکز ختم کیے جائیں اور شہریوں کو محفوظ بنایا جائے۔

پاکستان صرف اپنے داخلی قانون کی بنیاد پر نہیں بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت بھی یہ کارروائیاں کرنے پر مجبور تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادیں 1373، 1624 اور 2178 تمام ریاستوں کو پابند کرتی ہیں کہ وہ دہشت گردی کو روکیں، انتہا پسند تنظیموں کو پناہ نہ دیں اور ان کی پروپیگنڈا مشینری کو محدود کریں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل تھا، کیونکہ شہریوں، تعلیمی اداروں، مساجد، بازاروں اور سکیورٹی اہلکاروں پر منظم حملے کسی بھی ریاست کے لیے ناقابل برداشت صورت حال ہوتے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ کہنا کہ یہ ایک "پشتون دشمن جنگ” تھی، نہ صرف حقائق کے خلاف ہے بلکہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرار داد 2625 کی روح کے بھی منافی ہے، جو ریاستوں کی علاقائی سالمیت کے خلاف پروپیگنڈا کی مذمت کرتی ہے۔

اسی طرح پاکستان نے محض عسکری آپریشن پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آئینی سطح پر بھی اصلاحات کیں۔ پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے سابق فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں کے عوام کو آئینی، عدالتی اور سیاسی حقوق حاصل ہوئے۔ دہائیوں پر محیط وہ قانونی استثنا جس کے تحت یہ علاقے مرکزی آئینی فریم ورک سے باہر تھے، ختم ہوا۔ یہ اصلاح پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25 کے مطابق برابری کے اصول کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میثاق برائے شہری و سیاسی حقوق کے آرٹیکل 2 اور 26 کی تکمیل بھی تھی، جن میں مساوات اور امتیاز کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود پی ٹی ایم نے اس تاریخی پیش رفت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، اور "استعماری طرز حکمرانی” اور "نظامی محرومی” کا نعرہ دہراتی رہی، حالانکہ زمینی اور قانونی حقائق اب بدل چکے تھے۔ اس رویے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اصلاحات کو مان لیا جائے تو مسلسل شکایت اور مظلومیت کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے، جسے پی ٹی ایم اپنے وجود کی بنیادی سیاسی طاقت سمجھتی ہے۔

آزادی اظہار رائے ہر جمہوری ریاست میں لازم مانی جاتی ہے، لیکن دنیا کا کوئی آئین اس آزادی کو لامحدود نہیں مانتا۔ ریاستی خود مختاری، قومی سلامتی اور عوامی نظم کے تحفظ کے لیے قانون دائرہ متعین کرتا ہے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 5 شق 2 ہر شہری کو ریاست کی وفاداری کا پابند بناتا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 123 اے اور 124 اے ریاست کے وجود اور سلامتی کے خلاف اشتعال انگیزی اور بغاوت پر سزا مقرر کرتی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی شہری و سیاسی حقوق کے میثاق کا آرٹیکل 19 یہ تسلیم کرتا ہے کہ اظہار رائے پر ایسی مناسب پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں جو قومی سلامتی اور عوامی نظم کے لیے ضروری ہوں، اور یہی اصول آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 میں بھی جھلکتا ہے۔

جب پی ٹی ایم کے جلسوں میں غیر ملکی پرچم لہرائے جاتے ہیں، افغان تین رنگا جھنڈا پاکستانی سرزمین پر ریاست مخالف نعروں کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے، یا تقریروں میں پاکستان کی سرحدی اور آئینی حیثیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، تو یہ صرف "رائے” نہیں رہتی بلکہ ریاستی سلامتی سے جڑ جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کمیٹی کی جنرل کمنٹ نمبر 34 میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اس وقت تک معتبر ہے جب تک وہ ریاستی وجود اور آئینی نظام کو گرانے کی کوشش کا راستہ نہ بن جائے۔ پی ٹی ایم کا ان قانونی حدود سے لاعلم رہنا محض ناواقفیت نہیں بلکہ سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی ہے، جس میں اشتعال اور تصادم کو جمہوریت کا نام دے دیا جاتا ہے۔

اب جب سوئٹزر لینڈ میں پی ٹی ایم کے کارکنوں کو اس ملک کے اپنے قوانین کے تحت روکا گیا، تو ایک بار پھر قانون کو ہی نشانہ بنایا گیا۔ کسی نے یہ غور نہیں کیا کہ بین الاقوامی فورمز کے موقع پر غیر ملکی سیاسی سرگرمیوں پر وہاں کے قوانین کیا کہتے ہیں، یا عوامی نظم و نسق کے حوالے سے سوئس ریاست کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ سیدھی سیدھی بات یہ ہے کہ جیسے پاکستان کو اپنے اندرونی معاملات اور سلامتی کے لیے قانونی اقدامات کا حق حاصل ہے، ویسے ہی سوئٹزر لینڈ کو بھی ہے۔ وہاں حراست کو پی ٹی ایم نے "جبر” قرار دیا، حالانکہ یہ سوئس قانون کا سیدھا سادہ نفاذ تھا۔ اس ردعمل سے صاف ظاہر ہوا کہ پی ٹی ایم کا اصل مسئلہ کسی ایک ریاست کے رویے سے نہیں بلکہ خود قانون کے تصور سے ہے، خاص طور پر جب قانون اس کے طرز عمل پر سوال اٹھاتا ہے۔

پی ٹی ایم نے نہ پاکستان کے اندر اپنی سیاسی زیادتیوں کا سنجیدہ اعتراف کیا، نہ بیرون ملک اپنی اشتعال انگیزی کے اثرات کا جائزہ لیا۔ اس کا مسلسل رویہ یہ رہا کہ کبھی قانون کو ظالم کہا، کبھی اداروں کو، اور کبھی بین الاقوامی اصولوں کو منتخب حوالوں کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق پیش کیا۔ جو انسانی حق اس کے بیانیے کو سہارا دے، اسے بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے، لیکن جو قانونی ذمہ داری اس کے اپنے طرز عمل پر لاگو ہو، اسے یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں آئینی اور عالمی قانون کے مطابق تھیں، سابق فاٹا کا انضمام پشتون علاقوں کے لیے حقیقی آئینی پیش رفت تھی، اور سوئٹزر لینڈ کے اقدامات بھی اپنے قانونی فریم ورک کے تحت تھے۔

یوں تصویر کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ ریاستیں قانون کے اندر رہ کر عمل کرتی ہیں، جب کہ پی ٹی ایم ہر اس قانونی فریم ورک کی نفی کرتی ہے جو اس کے لیے جواب دہی پیدا کرے۔ یہ طرز سیاست اصولی جدوجہد نہیں بلکہ ذمہ داری سے فرار ہے۔ آخر میں حقیقت یہ ہے کہ قانون نے پی ٹی ایم کو ناکام نہیں کیا، بلکہ پی ٹی ایم نے ہر اس قانون کا احترام کرنے سے انکار کیا جو اس کے بیانیے کے سامنے آئینہ رکھتا ہے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس کے ہوتے ہوئے اس تحریک کا مظلومیت کا دعویٰ سنجیدہ جانچ پر پورا نہیں اترتا۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔