ڈیجیٹل دور میں جھوٹ صرف غلط معلومات نہیں رہا، یہ ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔ جب منظم انداز میں جھوٹی خبریں اور آدھی سچائیاں پھیلائی جاتی ہیں تو اس کا مقصد صرف کسی مخالف کو بدنام کرنا نہیں ہوتا، اصل مقصد ریاستی اداروں پر اعتماد توڑنا اور آئینی نظام کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کو کبھی عوامی مکالمے کی جگہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب بہت سے لوگ اسے شور، اشتعال اور نفرت کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ الگورتھم تیز اور جذباتی مواد کو اوپر لے آتے ہیں، اور یوں جھوٹ حقیقت سے پہلے پہنچ جاتا ہے۔ پھر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ برطانیہ میں دو ہزار چوبیس کے موسم گرما میں ساوتھ پورٹ کے اندوہناک واقعے کے بعد یہی منظر سامنے آیا۔ چند گھنٹوں میں حملہ آور کے بارے میں جھوٹے دعوے پھیل گئے، اسے مہاجر اور مذہبی انتہا پسند قرار دیا گیا، اور اسی جھوٹ نے سڑکوں پر غصہ بھڑکایا۔ عبادت گاہوں، پولیس اور کمزور طبقوں پر حملے ہوئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دعوے درست نہیں تھے اور مشتبہ شخص برطانیہ میں پیدا ہوا تھا۔ اس واقعے نے ایک بات واضح کر دی کہ جب جھوٹ خوف اور شناخت کی سیاست کے ساتھ مل جائے تو وہ لوگوں کو بہت تیزی سے تشدد کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
پاکستان میں بھی دو ہزار بائیس کے بعد سے ایک ملتی جلتی مگر زیادہ سیاسی نوعیت کی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ سوشل پلیٹ فارم پر ایک دعویٰ آتا ہے، پھر یوٹیوب پر اسے سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے، پھر درجنوں اکاؤنٹس اسی مواد کو اس طرح پھیلاتے ہیں جیسے کوئی تصدیق شدہ خبر ہو۔ اکثر یہ بیانیے ثبوت کے بجائے اشاروں، سازش کے مفروضوں، اور جذباتی جملوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اس عمل میں سچ کی جانچ پڑتال پیچھے رہ جاتی ہے اور ایک مصنوعی حقیقت بن جاتی ہے، جس میں ہر بات ریاستی دشمنی یا غداری کی کہانی میں فٹ کی جاتی ہے۔
سب سے خطرناک پہلو قانون اور عدلیہ کو سیاست کا ہدف بنانا ہے۔ گرفتاری، تفتیش، فرد جرم، یا عدالت کی سماعت کو سیدھا جبر قرار دے دیا جاتا ہے۔ جج، تفتیشی افسر، اور سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کو آئینی کردار کے بجائے سازشی کردار بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام کے ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑ لیتا ہے کہ انصاف نام کی کوئی چیز نہیں، بس طاقت کی جنگ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ریاست کمزور پڑتی ہے، کیونکہ ریاست کی طاقت صرف پولیس یا فوج نہیں ہوتی، ریاست کی اصل طاقت لوگوں کا اعتماد ہوتا ہے کہ فیصلے کسی اصول کے تحت ہوں گے۔
یہاں اظہار رائے کی آزادی کا سوال لازماً اٹھتا ہے، مگر اس پر بات بھی ایمانداری سے ہونی چاہیے۔ تنقید، احتجاج، اور سخت سیاسی رائے جمہوریت کا حصہ ہیں۔ لیکن جھوٹے الزامات کو حقیقت بنا کر پھیلانا، نام لے کر کسی کو قتل، غداری یا تشدد جیسے جرائم سے جوڑ دینا، اور پھر عوام کو اداروں کے خلاف اکسانا، یہ سب قانونی طور پر الگ نوعیت کی چیزیں ہیں۔ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص جھوٹ کو بطور حقیقت بیچے اور پھر جواب دہی سے بچنے کے لیے خود کو مظلوم ثابت کرے۔ قانون کا بنیادی اصول یہی ہے کہ الزام لگے تو ثبوت ہو، اور اگر ثبوت نہیں تو الزام کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔
یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارم اس سارے مسئلے میں محض میزبان نہیں رہے۔ ان کا کاروباری ماڈل توجہ پر چلتا ہے، اور توجہ اکثر اشتعال پر ملتی ہے۔ سنسنی خیز سرخیاں، جذباتی ویڈیوز، اور سازشی بیانیہ زیادہ دیکھا جاتا ہے، زیادہ شیئر ہوتا ہے، اور زیادہ کمائی لاتا ہے۔ اس طرح سیاسی عدم استحکام ایک آمدن کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ کچھ لوگ واقعی سیاسی جدوجہد سمجھ کر مواد بناتے ہوں گے، مگر بہت سے لوگوں کے لیے یہ باقاعدہ کاروبار ہے، جس میں سچ ایک رکاوٹ اور تصدیق ایک سست عمل بن جاتا ہے۔
اسی لیے ریاستی ردعمل کو بھی دو انتہاؤں سے بچنا چاہیے۔ ایک انتہا یہ ہے کہ ہر اختلاف کو جرم بنا دیا جائے، جو خود ریاستی ساکھ کو نقصان دیتا ہے۔ دوسری انتہا یہ ہے کہ نام لے کر جھوٹے الزامات، نفرت، اور تشدد پر اکسانے کو محض رائے کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے، جو معاشرتی امن کو کھا جاتا ہے۔ درست راستہ یہ ہے کہ قانون کی حدیں واضح رہیں، ثبوت کی بنیاد پر کارروائی ہو، شفاف عدالتی عمل ہو، اور سیاسی اختلاف کی گنجائش برقرار رہے۔ ریاست اگر واقعی قانون کی بالادستی چاہتی ہے تو اسے عدالت میں اپنا کیس مضبوط رکھنا ہوگا، اور عوام کو دکھانا ہوگا کہ سزا رائے پر نہیں، جرم پر ہے۔
آخر میں مسئلہ صرف پاکستان یا برطانیہ کا نہیں، یہ ایک عالمی بحران ہے۔ ڈیجیٹل پروپیگنڈا آج سرحدیں نہیں مانتا، اور بیرون ملک بیٹھا ایک اکاؤنٹ بھی مقامی آگ بھڑکا سکتا ہے۔ اس کا حل صرف قانون نہیں، مگر قانون اس کا مرکز ضرور ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اختلاف رائے جمہوریت کو مضبوط کرے، نہ کہ اسے جلائے، تو ہمیں سچ اور جھوٹ کے فرق کو دوبارہ اہم بنانا ہوگا۔ ورنہ ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھیں گے جہاں فیصلہ عدالت نہیں کرے گی، فیصلہ وائرل پوسٹ کرے گی، اور یہ کسی کے حق میں بھی محفوظ نہیں۔
Author
-
ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
View all posts