ضلع کیچ کے علاقے بالیچہ میں 28 جنوری 2026 کو ایک خاتون کی مسلح افراد کے ہاتھوں مبینہ اغوا کی خبر صرف ایک مقامی واقعہ نہیں، یہ بلوچستان میں عام شہریوں کی غیر یقینی زندگی کی علامت ہے۔ جس انداز میں ایک گاڑی گھر کے باہر رکی، مسلح افراد نے خاتون کو زبردستی ساتھ لیا، اور پھر علاقے سے نکل گئے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اقدام اچانک نہیں تھا بلکہ منصوبہ بندی، نگرانی اور اعتماد کے ساتھ کیا گیا۔ ایسے واقعات کا مقصد صرف ایک فرد کو نشانہ بنانا نہیں ہوتا، یہ پورے محلے اور پورے ضلع میں خوف پھیلانے کی کوشش ہوتی ہے تاکہ لوگ خود کو بے بس محسوس کریں اور آواز اٹھانے سے کترائیں۔
اس واقعے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ خاندان نے خود اپنی جان پر کھیل کر تعاقب کیا۔ جب شوہر اور بھتیجے نے گاڑی کو ناصرآباد کے قریب روکا تو مبینہ طور پر ایک مسلح شخص کلاشنکوف کے ساتھ سامنے آیا، اور فوراً ہی موٹر سائیکلوں پر مزید افراد پہنچ گئے۔ اس منظر سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ایسے گروہ صرف ہتھیار نہیں رکھتے بلکہ ایک طریقہ کار بھی رکھتے ہیں۔ وہ ممکنہ مزاحمت کو پہلے سے ذہن میں رکھ کر کمک کا بندوبست کرتے ہیں، اور پھر ہجوم کو خوف زدہ کرنے کے لیے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں “مقصد” کے نام پر دیے گئے تمام جواز اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں، کیونکہ سامنے ایک خاندان ہے جو اپنی عورت کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، اور دوسری طرف بندوق کی زبان بولتی ہوئی طاقت ہے۔
خاندان پر تشدد اور موبائل فونز چھیننے کی اطلاع کو بھی معمولی نہ سمجھا جائے۔ فون چھیننا صرف ایک چیز چھیننا نہیں، یہ رابطہ کاٹنے، اطلاع روکنے، اور گواہوں کو خاموش کرنے کی حکمت عملی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اغوا کار چاہتے ہیں کہ واقعہ فوری طور پر پولیس تک نہ پہنچے، تصویریں یا ویڈیو ثبوت سامنے نہ آئیں، اور متاثرہ خاندان تنہا رہ جائے۔ یہ خوف کی وہ شکل ہے جو صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہتی، پورے علاقے میں یہ پیغام پھیل جاتا ہے کہ اگر آپ بولیں گے تو آپ بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔
خواتین کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں خاص طور پر معاشرتی سطح پر تباہ کن اثرات رکھتی ہیں۔ بلوچستان جیسے سماجی ماحول میں خاتون کا اغوا صرف جسمانی خطرہ نہیں، یہ عزت، وقار، اور خاندان کی نفسیاتی سلامتی پر حملہ بھی ہے۔ اغوا کے بعد خاندان صرف جان بچانے کی فکر نہیں کرتا، وہ بدنامی، افواہوں اور طعنوں کے خوف سے بھی لڑتا ہے۔ یہ حقیقت تلخ ہے مگر نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مسلح گروہ اکثر اسی سماجی کمزوری کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں تاکہ خاندان دباؤ میں آ جائے اور پورا علاقہ خاموش ہو جائے۔
اس واقعے کے تناظر میں ایک اور اہم مسئلہ “منتخب خاموشی” ہے۔ بلوچستان میں “لاپتہ افراد” کے بیانیے پر بہت بات ہوتی ہے، اور انسانی حقوق کے نام پر کئی پلیٹ فارم سرگرم رہتے ہیں۔ اگر کوئی تنظیم یا گروہ واقعی شہری حقوق کی بات کرتا ہے تو اسے اصولی طور پر ہر قسم کے ظلم کے خلاف یکساں آواز اٹھانی چاہیے۔ جب مسلح گروہوں کے ہاتھوں اغوا، جبر اور دھمکیوں پر خاموشی اختیار کی جائے، اور صرف وہی واقعات اجاگر کیے جائیں جو ایک خاص سیاسی لائن کے لیے مفید ہوں، تو یہ رویہ انصاف نہیں بلکہ بیانیہ سازی بن جاتا ہے۔ اس سے معاشرے میں تقسیم بڑھتی ہے اور عام آدمی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کا دکھ صرف اسی وقت دکھ سمجھا جائے گا جب وہ کسی خاص موقف میں فٹ بیٹھے۔
ریاستی اداروں کی ذمہ داری بھی اس پس منظر میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ ریسکیو آپریشن ایک ضروری قدم ہے، اور اولین ترجیح نرگس کی محفوظ بازیابی ہونی چاہیے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات روکنے کے لیے مستقل بنیادوں پر کیا انتظام ہے؟ اگر ہر بار کارروائی واقعے کے بعد شروع ہو، تو خوف کی فضا برقرار رہتی ہے۔ مقامی پولیسنگ، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن، حساس علاقوں میں فوری ردعمل کی صلاحیت، اور گواہوں کے تحفظ جیسے اقدامات ہی وہ بنیادیں ہیں جن سے لوگوں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ صرف بیانات اور وقتی کریک ڈاؤن کافی نہیں ہوتے، کیونکہ مسلح نیٹ ورک وقت کے ساتھ خود کو دوبارہ منظم کر لیتے ہیں۔
آخر میں بات بہت سیدھی ہے۔ کسی بھی سیاسی دعوے کے پردے میں شہریوں کا اغوا جائز نہیں ہو سکتا، خاص طور پر خواتین کا۔ جو گروہ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرے مگر عوام ہی کو یرغمال بنائے، وہ اپنے دعوے خود جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ بالیچہ کا واقعہ بلوچستان کے لیے ایک اور یاد دہانی ہے کہ اس خطے میں سب سے بڑی ضرورت اصولی موقف کی ہے، وہ موقف جو ہر طرح کے تشدد کے خلاف ہو، چاہے وہ کسی بھی جانب سے آئے۔ اگر معاشرہ اس بنیادی اصول پر متفق نہ ہوا تو قیمت ہمیشہ عام لوگ ادا کریں گے، اور سب سے زیادہ وہ لوگ جو پہلے ہی کمزور سمجھے جاتے ہیں۔
Author
-
View all postsانیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل: