Nigah

افغانستان کو نئے سرے سے سمجھنا

[post-views]

افغانستان کی آج کی بے یقینی کوئی اچانک حادثہ نہیں، یہ ایک لمبی تاریخی لکیر کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس خطے میں قومی ریاست کا تصور دیر سے آیا، جب کہ یہاں صدیوں سے مختلف قومیتیں اپنی اپنی وادیوں، میدانوں اور پہاڑی سلسلوں میں آباد تھیں۔ افغانستان کی سماجی ساخت شروع ہی سے کثیر النسلی رہی، مگر سیاسی اختیار اکثر چند مراکز تک محدود رہا۔ تاجک، ازبک، ہزارہ اور پشتون جیسی بڑی قومیتیں صرف ثقافت اور زبان میں الگ نہیں، جغرافیے میں بھی ایک دوسرے سے جدا رہیں۔ یہی جداگانہ جغرافیہ اور جداگانہ طاقت کے ڈھانچے بعد میں ریاست سازی کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن گئے۔

جدید افغان ریاست کی بنیاد اٹھارویں صدی کے وسط میں احمد شاہ ابدالی کے دور میں مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ مغل اور صفوی سلطنتوں کے کمزور ہونے کے بعد انہوں نے پشتون قبائل کو جوڑا، فتوحات کیں، اتحاد بنائے اور اقتدار کا ایک بڑا دائرہ قائم کیا۔ مگر یہ حقیقت بھی ساتھ رہی کہ اس تشکیل کی روح قبائلی وفاداری اور عسکری غلبے میں تھی، جامع اداروں اور مساوی سیاسی شرکت میں نہیں۔ اس وجہ سے غیر پشتون آبادیوں کو شروع ہی سے حاشیے پر رہنے کا تجربہ ملا، اور ریاست کو اپنے لیے کم اور کسی اور کے لیے زیادہ سمجھنے کا احساس پختہ ہوتا گیا۔

اب سوال یہ نہیں کہ افغانستان میں مرکز کمزور کیوں ہوا، سوال یہ ہے کہ مرکز کبھی واقعی مضبوط کب تھا۔ افغانستان میں کئی ادوار ایسے آئے جب حکومت بڑے شہروں، مرکزی شاہراہوں اور تجارت کے راستوں تک محدود رہی، جبکہ باقی علاقوں میں مقامی سردار، قبائلی جرگے، علاقائی کمانڈر اور مذہبی اثر و رسوخ اپنے اپنے انداز میں نظم چلاتے رہے۔ ریاست کا دعویٰ تو ہوتا رہا، مگر عمل داری اکثر علامتی رہی۔ جب اقتدار کی یہ صورت لمبے عرصے تک قائم رہے تو قومی شناخت ایک مشترک معاہدہ نہیں بنتی، بلکہ ایک مسلسل تنازع بن جاتی ہے۔

اس تنازع میں آبادیاتی حقیقتیں بھی اہم ہیں۔ عمومی اندازوں کے مطابق پشتون لگ بھگ بیالیس فی صد، تاجک ستائیس فی صد، اور ہزارہ اور ازبک ہر ایک کے قریب نو فی صد کے آس پاس سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ترکمن، بلوچ اور دیگر چھوٹے گروہ باقی حصہ بناتے ہیں۔ ریاستی سطح پر پشتو اور دری کو سرکاری حیثیت حاصل رہی، لیکن بہت سے لوگوں کے نزدیک زبان کا سوال صرف زبان کا نہیں، شناخت اور طاقت کا سوال ہے۔ اسی لیے یہ شکایت بار بار سنائی دیتی ہے کہ ترک زبانیں یا دوسری علاقائی زبانیں قومی منظر نامے میں وہ جگہ نہیں پاتیں جو ان کی آبادی اور تاریخ کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس پر ایک اور حساس پہلو یہ ہے کہ لفظ افغان کو بعض حلقے پشتون شناخت کے مترادف سمجھتے ہیں، اور کچھ غیر پشتون گروہوں میں اسی نسبت سے جھنجھلاہٹ اور فاصلہ پیدا ہوتا ہے۔

جغرافیہ نے اس کشمکش کو مزید تیز کیا۔ جنوب اور مشرق میں پشتون اکثریت، شمال مشرق اور کئی شہری مراکز میں تاجک اثر، شمالی پٹی میں ازبک اور وسطی پہاڑی علاقوں میں ہزارہ آبادی کی نسبتاً مضبوط موجودگی، یہ سب وہ نقشہ ہے جس نے سیاست کو بھی علاقائی بنا دیا۔ پھر جبری ہجرتیں، اندرونی بے دخلی، آباد کاری کی منصوبہ بندی، اور جنگی حالات نے کئی جگہوں پر آبادیوں کی ترتیب بدل دی۔ اس طرح یادداشت میں ایک پرانا نقشہ رہ گیا اور زمین پر نیا نقشہ بنتا گیا، اور دونوں کے بیچ پیدا ہونے والی خلیج نے شکایات کو مستقل ایندھن دیا۔

پڑوسی ریاستوں کے ساتھ نسلی اور لسانی رشتے بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ تاجک آبادی کا ربط تاجکستان کے ساتھ، ازبک آبادی کا تعلق ازبکستان کے ساتھ، اور پشتون آبادی کے تاریخی و سماجی روابط پاکستان کے سرحدی علاقوں کے ساتھ، یہ سب افغانستان کی اندرونی سیاست میں بیرونی کشش بھی پیدا کرتے ہیں۔ جب کسی ملک کے اندر شناختیں سرحد پار بھی سانس لیتی ہوں تو پھر داخلی جھگڑا صرف داخلی نہیں رہتا، علاقائی سیاست اس میں گھل مل جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہر فریق کسی نہ کسی بیرونی سہارے کی تلاش میں نکلتا ہے، اور ریاست کا مشترک گھر مزید کمزور محسوس ہونے لگتا ہے۔

اس کمزوری کا سب سے خطرناک نتیجہ وہ خلا ہے جس میں شدت پسند تنظیمیں اور مسلح گروہ پنپتے ہیں۔ جب مرکز دور ہو، سرحدیں نرم ہوں، اور کئی علاقوں میں ایک ہی وقت میں متعدد طاقتیں ٹیکس، عدالت، اور سلامتی کے فیصلے کر رہی ہوں تو وہاں تربیتی ڈھانچے، نقل و حرکت کے راستے اور مالیاتی نیٹ ورک بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ پھر اسی مٹی سے ایسی کارروائیاں جنم لیتی ہیں جو سرحدوں کو نہیں مانتیں، اور خطے کے دوسرے ممالک کی سلامتی بھی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے افغان بحران کو صرف داخلی خانہ جنگی کہنا حقیقت کو کم کرنا ہے، یہ ایک علاقائی سلامتی مسئلہ بھی ہے۔

اسی پس منظر میں کچھ لوگ ایک سخت مگر واضح تجویز پیش کرتے ہیں، کہ افغانستان کو نسلی اور علاقائی بنیادوں پر پرامن طریقے سے الگ سیاسی اکائیوں میں ڈھالا جائے، یعنی ایک طرح کی علاقائی تشکیل نو۔ ان کے نزدیک اگر ازبک اکثریتی علاقے ازبکستان کے ساتھ، تاجک اکثریتی علاقے تاجکستان کے ساتھ، اور پشتون اکثریتی علاقے پاکستان کے ساتھ سیاسی طور پر ہم آہنگ ہو جائیں، اور وسطی حصوں میں ہزارہ اور دیگر اقلیتیں ایک نئے نام اور نئے سماجی معاہدے کے ساتھ الگ ریاستی شناخت بنا لیں، تو طاقت کی یکطرفہ اجارہ داری ٹوٹ سکتی ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ چھوٹی، نسبتاً یکساں اکائیاں مقامی حکمرانی بہتر کر سکتی ہیں، سرحدی نظم مضبوط ہو سکتا ہے، اور شدت پسندی کے لیے محفوظ پناہ گاہیں کم ہو سکتی ہیں۔

لیکن اس تجویز کی کشش کے ساتھ اس کے کانٹے بھی اتنے ہی تیز ہیں۔ سرحدیں کاغذ پر کھینچی جا سکتی ہیں، مگر شہروں، شاہراہوں، پانی، معدنیات اور مخلوط آبادیوں کی حقیقتیں کاغذ پر سیدھی نہیں ہوتیں۔ کابل جیسے مراکز صرف ایک قومیت کے نہیں، اور بہت سے اضلاع میں گھر، زمین اور کاروبار نسلی لائنوں پر تقسیم نہیں۔ پھر یہ بھی خطرہ ہے کہ تقسیم کی سیاست اگر درست حفاظتی ضمانتوں کے بغیر چلی تو نئی ریاستیں بھی پرانے زخموں کے ساتھ پیدا ہوں گی، اور اقلیتیں نئی اکثریتوں کے ہاتھوں پھر غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔ اس لیے اگر علاقائی تشکیل نو کو کبھی سنجیدگی سے سوچا جائے تو یہ صرف نقشے کا معاملہ نہیں، یہ حقوق، شہریت، واپسی کے اصول، معاوضہ، زبان کی حیثیت، اور سلامتی کے مشترک نظام کا معاملہ ہے۔ بین الاقوامی ضمانتیں، علاقائی تعاون، اور اقلیتوں کے تحفظ کے قابل نفاذ طریقہ کار کے بغیر یہ نسخہ علاج کم اور نئی پیچیدگی زیادہ بن سکتا ہے۔

میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا مرکز ایک ہی ہے، طاقت اور شناخت کا غیر منصفانہ رشتہ۔ اگر اس رشتے کو ایک جامع سیاسی بندوبست کے ذریعے درست کیا جائے تو ریاست برقرار رہ کر بھی چل سکتی ہے، اور اگر یہ ممکن نہ رہے تو پھر لوگوں کی خود ارادیت کی بحث بھی اٹھے گی۔ مگر کسی بھی راستے پر چلنے سے پہلے ایک اصول طے ہونا چاہیے، انسان کی جان، عزت اور برابر کی شہریت سب سے اوپر ہے۔ افغانستان کو نئے سرے سے سمجھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جذبات میں نقشے توڑ دیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تاریخی دراڑوں کو تسلیم کریں، نسلی شکایات کو سیاسی حل دیں، اور ایسا ڈھانچہ بنائیں جس میں کوئی قومیت خود کو مہمان نہ سمجھے۔ امن تب ہی آئے گا جب ریاست یا نئی اکائیاں لوگوں کے لیے ہوں، نہ کہ لوگ کسی طاقت کے لیے۔

Author

  • ڈاکٹر حمزہ خان

    ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔