امریکہ کی عدالت کی طرف سے بھارتی شہری اتھروا شائلش ستھاوانے کو بزرگ شہریوں سے پندرہ ملین ڈالر لوٹنے کے جرم میں اٹھارہ سال قید کی سزا ملنا صرف ایک فوجداری خبر نہیں، یہ ایک بڑی علامت بھی ہے۔ ایسے مقدمات بتاتے ہیں کہ جس نظام کے تحت امریکہ اور مغربی ممالک بعض شراکت دار ریاستوں کے شہریوں کو تعلیم، ملازمت، کاروبار اور سفر کے لیے نسبتاً آسان رسائی دیتے ہیں، وہاں اعتماد کی بنیاد کمزور ہو سکتی ہے۔ جب کسی ملک کو “قابل اعتماد شراکت دار” سمجھ کر نقل و حرکت اور رسائی کے دروازے کھولے جائیں، اور پھر اسی ملک کے شہری بڑے پیمانے پر میزبان معاشرے کے کمزور طبقوں کو نشانہ بنائیں، تو سوال اٹھتا ہے کہ یہ فریم ورک کس حد تک حقیقت پسندانہ ہے۔
اتھروا کے کیس کی سب سے تلخ بات یہ ہے کہ متاثرین بزرگ تھے، یعنی وہ لوگ جو اکثر تنہائی، بیماری، محدود آمدن اور نفسیاتی دباؤ کے سبب دھوکے کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ بڑے مالی فراڈ میں صرف پیسے نہیں جاتے، عزت، اعتماد، اور زندگی بھر کی جمع پونجی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ امریکہ میں ایسے جرائم پر سخت سزائیں اسی لیے دی جاتی ہیں کہ یہ معاشرتی رشتوں کو توڑ دیتے ہیں۔ اس لیے جب اس نوعیت کے مقدمات میں بھارتی شہری سامنے آتے ہیں تو یہ محض انفرادی جرم نہیں رہتا، یہ ایک پریشان کن رجحان کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کے اثرات میزبان ملک کی سیاست، امیگریشن پالیسی اور عوامی رائے پر پڑتے ہیں۔
یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ حالیہ برسوں میں امریکہ میں بھارتی شہریوں کے حوالے سے کچھ ایسے ہائی پروفائل مقدمات سامنے آئے ہیں جو صرف مالی جرائم تک محدود نہیں۔ مالی فراڈ اپنی جگہ سنگین ہے، لیکن جب معاملہ مبینہ پرتشدد سازشوں یا ریاستی نوعیت کے نیٹ ورکس تک پہنچے تو اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ اسی پس منظر میں نکھل گپتا کے خلاف امریکہ میں چلنے والا مقدمہ، جس میں قتل کی مبینہ سازش، یعنی کرائے کے قاتل کے ذریعے کارروائی کا تصور شامل بتایا جاتا ہے، ایک واضح بلند سطحی خطرے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ روایتی جرائم سے آگے بڑھ کر ایسے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے قومی سلامتی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔
اس طرح کے کیسز ایک اور حقیقت واضح کرتے ہیں کہ شراکت دار ریاست ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مجرمانہ یا سکیورٹی خطرات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ مغربی دارالحکومتوں میں بھارت نے برسوں محنت کر کے اپنی تصویر ایک ذمہ دار، مستحکم اور قابل اعتماد ساتھی کی بنائی ہے، خاص طور پر ٹیکنالوجی، دفاع اور معیشت کے میدان میں۔ لیکن جب مسلسل ایسے واقعات سامنے آئیں جن میں بھارتی شہری بڑے مالی جرائم میں ملوث پائے جائیں، یا ایسے معاملات جن میں ریاستی اداروں کے ممکنہ کردار پر سوال اٹھیں، تو یہ “اعتماد” محض نعرہ لگنے لگتا ہے۔ ریاستیں دوستی جذبات سے نہیں، خطرے کے حساب سے کرتی ہیں۔ اور خطرہ بڑھنے لگے تو پالیسیاں بدلتی ہیں۔
کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے بعد مغربی سیاسی اور انٹیلی جنس حلقوں میں بھارت سے متعلق خدشات مزید نمایاں ہوئے۔ اس واقعے نے پہلے سے موجود شکوک کو تقویت دی اور گفتگو کا رخ صرف سفارتی اختلاف سے ہٹ کر ریاستی طرز عمل، بیرون ملک نگرانی، اور مخالف آوازوں کے بارے میں ممکنہ سخت رویوں کی طرف گیا۔ ایسے ماحول میں اگر امریکہ میں اسی وقت بڑے فراڈ، اور مبینہ قتل کی سازش جیسے مقدمات سامنے آتے رہیں، تو یہ سب مل کر ایک وسیع بیانیہ تشکیل دیتے ہیں کہ مسئلہ چند “بدمعاش افراد” کا نہیں، بلکہ رسائی، نیٹ ورکس اور احتساب کے ڈھانچوں کا بھی ہے۔
یہاں مغربی ممالک کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ ان کے تعلقات صرف امیگریشن تک محدود نہیں۔ ٹیکنالوجی کی سپلائی چین، ہنر مند افرادی قوت، یونیورسٹیوں میں داخلے، دفاعی تعاون، اور سرمایہ کاری کے بڑے راستے بھارت سے جڑے ہیں۔ لیکن جتنی گہری یہ راہیں ہوں گی، اتنی ہی سخت سکیورٹی جانچ کی ضرورت بڑھے گی۔ اگر ایک طرف بازار اور ادارے بھارتی افرادی قوت پر انحصار بڑھاتے جائیں، اور دوسری طرف اسی کوریڈور میں فراڈ اور مبینہ سازشوں کے کیس بڑھتے جائیں، تو مغرب کے لیے یہ کہنا آسان ہو جاتا ہے کہ بھارت ایک غیر قابل اعتماد شریک ہے، یا کم از کم ایسا شریک جس کے ساتھ کام کرتے ہوئے غیر معمولی احتیاط ضروری ہے۔
کچھ لوگ کہیں گے کہ کسی ایک مجرم کی سزا پورے ملک کے کھاتے میں نہیں ڈالی جا سکتی۔ اصولی طور پر یہ بات درست ہے۔ مگر پالیسی سازی میں اصولی باتیں اکثر خطرے کے اعداد و شمار اور سیاسی دباؤ کے نیچے دب جاتی ہیں۔ اگر واقعات کی تعداد اور نوعیت بڑھتی رہی تو امیگریشن کے قواعد سخت ہوں گے، ویزا جانچ بڑھ جائے گی، مالی لین دین کے نظام میں بھارتی نیٹ ورکس کی نگرانی میں اضافہ ہو گا، اور یونیورسٹیوں و کمپنیوں میں بھی پس منظر کی جانچ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ اس کا نقصان ان لاکھوں عام بھارتی شہریوں کو بھی ہو گا جو محنت، تعلیم اور جائز روزگار کے لیے باہر جاتے ہیں۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ اتھروا جیسے فرد کو سزا ملنی چاہیے تھی یا نہیں، یہ تو واضح ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایسے کیسز کیوں بڑھتے دکھائی دیتے ہیں، اور انہیں روکنے کے لیے بھارت اور مغرب کیا کرتے ہیں۔ اگر بھارت واقعی اپنی “قابل اعتماد ساتھی” کی شناخت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے بیرون ملک جرائم میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی، شفاف تعاون، اور جواب دہی کے قابلِ بھروسہ طریقے دکھانے ہوں گے۔ ورنہ مغربی ممالک، جو پہلے ہی نجار قتل جیسے واقعات کے بعد محتاط ہیں، مزید اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ بھارت کے ساتھ گہری نقل و حرکت، ٹیکنالوجی اور معاشی راہیں خطرات سے خالی نہیں، اور شاید یہ شراکت داری اتنی قابل اعتماد بھی نہیں جتنی دکھائی جاتی ہے۔
Author
-
مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔
View all posts