بلوچستان کے مسائل حقیقی ہیں، اور ان مسائل کا انکار کرنا نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ جب لوگ برسوں تک اپنے روزمرہ تجربات میں محرومی دیکھیں، انصاف کے دروازے بند محسوس کریں، روزگار کے مواقع کم ہوں، تعلیم اور صحت کی سہولتیں کمزور ہوں، اور سکیورٹی کے نام پر عام شہری کی عزت نفس مجروح ہو، تو شکایت نہیں، غصہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ غصہ فطری ہے۔ مگر اسی جگہ ایک نازک فرق آتا ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حقوق اور شکایات کی بات کرنا بالکل درست ہے، لیکن ریاست کو “غیر ملکی” کہہ دینا ایک الگ بات ہے۔ یہ لفظ محض غصے کا اظہار نہیں، ایک سیاسی راستے کا انتخاب ہے، اور اس راستے کے آخر میں اکثر تشدد کھڑا ہوتا ہے۔
“قبضہ” یا “غیر ملکی ریاست” جیسے نعروں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سیاست کی گنجائش کم کر دیتے ہیں۔ جب آپ کسی ریاست کو ہی “اجنبی” قرار دے دیں تو پھر اختلاف رائے، احتجاج، مذاکرات، عدالت، پارلیمان، میڈیا، سب کچھ بے معنی دکھائی دینے لگتا ہے۔ پھر نوجوان کے سامنے ایک ہی “باوقار” راستہ رہ جاتا ہے، بندوق۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں زبان صرف زبان نہیں رہتی، بھرتی کا ہتھیار بن جاتی ہے۔ انتہا پسند گروہ اسی لیے بیانیے کو پہلے مضبوط کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ جب سچ کمزور ہو اور جھوٹ مضبوط، تو پھر ہر مثبت قدم بھی مشکوک لگنے لگتا ہے، اور ہر کامیابی “ڈرامہ” نظر آتی ہے۔
ہمیں واضح کرنا ہوگا کہ اختلاف رائے حق ہے۔ احتجاج، تنقید، حقوق کی بات، آئینی دائرے میں صوبائی خود مختاری کے مطالبات، وسائل کی منصفانہ تقسیم کی آواز، یہ سب جائز ہے۔ ریاست کا کام یہ نہیں کہ ہر سوال کو دشمنی سمجھے۔ لیکن نفرت پھیلانا، لوگوں کو مسلح جدوجہد کے لیے بھرتی کرنا، اسکولوں، اساتذہ، مزدوروں، یا عام شہریوں کو دھمکانا، یہ حق نہیں۔ یہ ایک خطرہ ہے۔ اور یہ خطرہ سب سے پہلے خود بلوچستان کی زندگی، تعلیم، کاروبار، اور مستقبل کو کھاتا ہے۔ جو نوجوان اس راستے پر جاتے ہیں، اکثر نہ خود بچتے ہیں نہ اپنے خاندان کو بچا پاتے ہیں۔ تشدد کا راستہ ہمیشہ نئی لاشیں اور نئی دشمنیاں پیدا کرتا ہے، اور پھر مسائل حل ہونے کے بجائے مزید سخت ہو جاتے ہیں۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ بھرتی کم ہو، تو ہمیں نوجوان کے سامنے ایک متبادل راستہ رکھنا ہوگا۔ صرف روک ٹوک، صرف گرفتاری، صرف طاقت، بھرتی کی جڑ نہیں کاٹتی۔ طاقت کبھی کبھی فوری خطرہ کم کرتی ہے، مگر اگر انصاف، عزت، اور مواقع نہ ہوں، تو غصہ نئی شکل میں واپس آتا ہے۔ اس لیے متبادل راستہ ضروری ہے، اور وہ راستہ چند واضح ستونوں پر کھڑا ہوتا ہے: تعلیم، ہنر، روزگار، سکیورٹی، اور سچ۔
تعلیم کا مطلب صرف عمارت نہیں۔ تعلیم کا مطلب وہ نظام ہے جہاں استاد موجود ہو، معیار موجود ہو، بچے کو سوچنے کی صلاحیت ملے، اور اسے یہ بھی سکھایا جائے کہ خبر اور افواہ میں فرق کیسے کیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں اگر غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں تو اس کا علاج صرف “رد” کرنا نہیں۔ علاج یہ ہے کہ نوجوان کو تحقیق، سوال، اور دلیل کی تربیت دی جائے۔ کیونکہ جو نوجوان سوال کرنا سیکھ جائے، وہ آسانی سے جذباتی نعروں کے پیچھے نہیں چلتا۔ اور جو نوجوان دلیل سے بات کرنا سیکھ جائے، وہ بندوق کو “حل” نہیں سمجھتا۔
ہنر اور روزگار کا تعلق بھی سیدھا بھرتی سے جڑا ہے۔ بے روزگاری صرف اقتصادی مسئلہ نہیں، یہ شناخت اور عزت نفس کا مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ جب ایک نوجوان خود کو خاندان پر بوجھ سمجھے، اور اسے لگے کہ نظام میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں، تو پھر کوئی بھی گروہ جو اسے “مقصد” اور “اپناپن” دے، اسے کھینچ سکتا ہے۔ اس لیے ہنر کی تربیت ایسی ہونی چاہیے جو واقعی ملازمت یا کاروبار کی طرف لے جائے۔ خالی سرٹیفکیٹ اور وعدے نوجوان کو مزید مایوس کرتے ہیں۔ اسی طرح بھرتیوں اور مواقع میں شفافیت بھی لازمی ہے۔ اگر نوکریاں سفارش پر ملیں گی تو انتہا پسند بیانیہ مضبوط ہوگا کہ “یہ نظام تمہیں کبھی نہیں دے گا۔”
سکیورٹی کے معاملے میں بھی ہمیں نئی سوچ اپنانا ہوگی۔ سکیورٹی کا مطلب صرف ریاستی قوت نہیں، شہری کا تحفظ ہے۔ عوام کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ قانون ان کے لیے ہے، ان کے خلاف نہیں۔ غیر ضروری سختی، تذلیل، یا بے انصافی، وقتی طور پر خاموشی تو لا سکتی ہے، مگر اندر سے نفرت بڑھا دیتی ہے۔ اور وہی نفرت بعد میں بیانیے کا ایندھن بنتی ہے۔ اگر کہیں زیادتی ہو تو اسے چھپانے کے بجائے سامنے لانا، تحقیقات کرنا، اور ذمہ داری طے کرنا اعتماد بحال کرنے کی طرف قدم ہے۔ یہ کمزوری نہیں، طاقت کی علامت ہے۔
اور پھر “سچ”۔ بلوچستان میں مسئلہ صرف غربت نہیں، بداعتمادی ہے۔ جب بداعتمادی گہری ہو تو ہر منصوبہ مشکوک لگتا ہے، ہر خبر سازش لگتی ہے، اور ہر نیت پر سوال اٹھتا ہے۔ اس لیے سچ صرف تقریروں سے نہیں آئے گا۔ سچ شفافیت سے آئے گا، اعداد و شمار سے، کھلے طریقہ کار سے، واضح جواب دہی سے۔ عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پیسہ کہاں گیا، فیصلے کیسے ہوئے، فائدہ کس کو ملا، اور شکایت کہاں درج ہوگی۔ جب سچ مضبوط ہوگا تو جھوٹ کمزور ہوگا، اور جب جھوٹ کمزور ہوگا تو بھرتی مشکل ہوگی۔
آخر میں بات سادہ ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ دو رخ رکھتا ہے۔ ایک رخ انصاف اور ترقی ہے، دوسرا رخ بیانیہ اور غلط معلومات کا مقابلہ ہے۔ اگر ہم صرف ترقی کی بات کریں اور بداعتمادی کو نظر انداز کریں، تو لوگ اسے دکھاوا سمجھیں گے۔ اگر ہم صرف بیانیہ درست کرنے کی کوشش کریں اور زمین پر تبدیلی نہ لائیں، تو لوگ اسے پروپیگنڈا سمجھیں گے۔ دونوں کام ساتھ کرنا ہوں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے نوجوان کو بندوق کے بجائے تعلیم، ہنر، اور امید کی طرف موڑا جا سکتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس سے اختلاف رائے محفوظ رہتا ہے، مگر نفرت اور مسلح بھرتی کا راستہ بند ہوتا ہے۔
Author
-
مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔
View all posts