Nigah

بلوچستان کا مستقبل

[post-views]

بلوچستان میں دہشت گردی کی ہر لہر صرف جانیں نہیں لیتی، یہ اعتماد، روزگار اور مستقبل کی امید بھی زخمی کرتی ہے۔ فروری 2026 میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں منظم حملوں اور شہری ہلاکتوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تشدد کا یہ راستہ پورے معاشرے کو یرغمال بنا لیتا ہے، اور ان واقعات کی عالمی سطح پر مذمت بھی کی گئی۔  ایسے ماحول میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ تشدد کو کسی سیاسی مقصد کے نام پر قابل قبول بنانے کی کوشش کی جائے، کیونکہ پھر عام آدمی کی جان، رائے اور محنت سب ثانوی ہو جاتی ہیں۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بلوچ عوام کے حقیقی مسائل موجود ہیں۔ گورننس کی کمزوریاں، بنیادی سہولتوں کی کمی، انصاف تک سست رسائی، اور ریاستی اداروں پر اعتماد کی خلیج جیسے معاملات روزمرہ تجربہ ہیں۔ ان مسائل کا حل ریاست کی ذمہ داری ہے، اور یہ حل صرف سکیورٹی اقدامات سے نہیں آئے گا۔ مگر اسی کے ساتھ ایک اصول غیر متنازع ہونا چاہیے کہ شہریوں پر حملے، ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور خوف پھیلانا کسی حق کی جدوجہد نہیں۔ آئینی حدود کے اندر پرامن سیاسی جدوجہد ہر شہری کا حق ہے، اور اسی راستے کو مضبوط کرنا ہوگا۔

اسی مقام پر بیرونی سرپرستی کا پہلو سامنے آتا ہے۔ پاکستان کے حکام نے متعدد مواقع پر الزام عائد کیا کہ کچھ مسلح گروہوں کو بیرون ملک سے مدد یا سمت ملتی ہے، جبکہ بھارت نے ایسے الزامات کی تردید کی ہے۔ پراکسی جنگیں جدید دنیا میں ایک تلخ حقیقت ہیں، اور کمزور انتظامی ڈھانچے والے خطے ان کا آسان شکار بنتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی باہر بیٹھا ہاتھ انہیں آگے دھکیل رہا ہے تو قیمت کس کے بازار، کس کے اسکول اور کس کے گھر پر ادا ہو رہی ہے، اور فائدہ کس کے کھاتے میں جا رہا ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا اسی دباؤ کو بڑھاتا ہے۔ ریکو ڈک کو بعض حلقے یوں پیش کرتے ہیں جیسے یہ بلوچستان کے وسائل پر قبضے کا منصوبہ ہو، حالانکہ شراکت داری کی ساخت میں حکومت بلوچستان کا 25 فیصد حصہ شامل ہے، جس میں 15 فیصد حصہ مکمل طور پر فنڈڈ بنیاد پر اور 10 فیصد فری کیریڈ بنیاد پر بتایا گیا ہے۔ یہ حصہ داری اگر شفاف آڈٹ، مقامی خریداری کے قواعد، اور ہنر کی تربیت کے اہداف کے ساتھ چلے تو صوبے کے لیے آمدنی اور روزگار کے ٹھوس مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اصل مقابلہ یہاں بیانیے کا نہیں، نظام کا ہے، یعنی کیا فائدہ واقعی مقامی لوگوں تک پہنچتا ہے یا نہیں۔

اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ چاغی اور اس کے گردونواح میں خوف کی فضا بنانے سے فائدہ کس کو ہوتا ہے۔ جب حملے ہوتے ہیں تو سب سے پہلے مقامی مزدور کی دیہاڑی رکتی ہے، مقامی ٹھیکیدار پیچھے ہٹتا ہے، اور سرمایہ کاری کا رسک بڑھ جاتا ہے۔ گوادر میں مزدوروں کو نشانہ بنانا بھی اسی منطق کے اندر آتا ہے، کیونکہ بندرگاہ اور اس سے جڑی سرگرمیوں کی رفتار کم ہو تو نقصان مقامی معیشت کو ہوتا ہے۔ دہشت گرد اکثر خود کو عوام کا نمائندہ کہتے ہیں، مگر ان کے حملوں کا نشانہ عام لوگ بنتے ہیں، اور خوف کی اس معیشت میں سب سے زیادہ فائدہ ہمیشہ انہیں ہوتا ہے جو بے چینی اور عدم استحکام کو کاروبار بناتے ہیں۔

پارلیمانی سطح پر بھی حالیہ حملوں کے بعد یہ نکتہ سامنے آیا کہ تشدد کو آزادی کی جدوجہد کہہ کر جائز نہیں بنایا جا سکتا، اور بیرونی سرپرستوں اور اندرونی سہولت کاروں کے خلاف واضح قومی ردعمل ہونا چاہیے۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ اگر ریاست اور سماج تشدد کو کسی نعرے کے ساتھ قبول کر لیں تو قانون کی عمل داری کمزور ہوتی ہے، اور نتیجہ جرائم، بلیک میلنگ اور مزید خونریزی کی صورت میں نکلتا ہے۔ پھر شکایتیں حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتی ہیں، اور عام آدمی دو طرفہ دباؤ میں آ جاتا ہے۔

بیرونی آقاوں کے وعدوں کا انجام بھی دنیا نے بار بار دیکھا ہے۔ عراق، لیبیا اور شام میں مختلف قوتوں نے مقامی گروہوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، پھر معاشرے ٹوٹ پھوٹ گئے اور عام آدمی سب سے زیادہ بے یار و مددگار رہ گیا۔ اس مثال کا مقصد یہ نہیں کہ ہر مسئلے کو بیرونی سازش کہہ کر اندرونی ذمہ داری سے بچا جائے، مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ بیرونی مدد اکثر عوام کی فلاح کے لیے نہیں ہوتی۔ جو لوگ آج ورغلا کر آگے دھکیلتے ہیں، وہ کل اپنے مفاد کے بدلتے ہی پیچھے ہٹ سکتے ہیں، اور نقصان صرف مقامی لوگوں کے حصے میں رہ جاتا ہے۔

حل کا راستہ مشکل ضرور ہے مگر موجود ہے۔ ریاست کو بلوچستان میں انصاف، شفافیت، سیاسی شمولیت، اور ترقیاتی منصوبوں کے فوائد کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہوگی۔ ریکو ڈک اور گوادر جیسے منصوبے تب ہی مثبت ثابت ہوں گے جب مقامی لوگوں کو فیصلہ سازی میں سنا جائے، شکایات کے ازالے کا قابل اعتماد نظام ہو، اور نوجوانوں کے لیے ہنر اور روزگار کے دروازے کھلیں۔ دوسری طرف نوجوانوں اور سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حقوق کی جنگ دلیل، تنظیم اور آئینی جدوجہد سے جیتی جاتی ہے، بندوق سے نہیں۔ جو راستہ تشدد پر ختم ہو، وہ آخرکار اپنے ہی لوگوں کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے، اور یہی اس راستے کی سب سے تلخ حقیقت ہے۔

Author

  • munir nigah

    ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔