لندن میں بیٹھ کر سلیمان اور قاسم نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے جس لہجے میں عمران خان کی صحت کا مقدمہ پیش کیا، وہ کم اور زیادہ ایک سیاسی بیانیہ لگا۔ بیٹے ہونے کے ناتے فکر فطری ہے، لیکن جب گفتگو میں حقائق کے بجائے جذباتی نقشے کھینچے جائیں، جیل کو کسی افسانوی دنیا کی طرح دکھایا جائے، اور بیماری کو اس طرح بیان کیا جائے کہ سننے والا فوراً نتیجہ نکال لے، تو سوال اٹھتا ہے کہ مقصد ہمدردی ہے یا سیاست۔ انسانی درد کی سچائی اپنا وزن خود رکھتی ہے، اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
انٹرویو میں جیل کے حالات کے جو تصویری نقشے بنائے گئے، وہ ایسے تھے جیسے کسی نے دور بیٹھ کر دیواروں کے پیچھے کی پوری کائنات خود گھڑ لی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں قیدیوں کے بارے میں بات جذبات سے نہیں، قانون اور دستاویزات سے کی جاتی ہے۔ اگر واقعی کوئی سنگین طبی مسئلہ ہے تو اس کا راستہ شور نہیں، میڈیکل رپورٹ ہے، معائنہ ہے، اور عدالت میں پیشی ہے۔ اسی لیے جب لندن میں بیٹھے سیاسی وارث جیل کے اندر کے من گھڑت نقشے بناتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں خود اپنے دعووں کو حقائق کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔
آنکھوں کی بینائی کے بارے میں پچاسی فیصد کمی کی کہانی بھی اسی پرانے اسکرپٹ جیسی محسوس ہوئی جو ہمارے ہاں ہر بڑے سیاسی بحران میں دہرایا جاتا ہے۔ ایک دن خبر آتی ہے کہ حالت نہایت خراب ہے، اگلے دن پتا چلتا ہے کہ علاج کے بعد کافی بہتری ہے۔ خود اسی بیانیے کے اندر تضاد موجود ہے، کیونکہ علاج کے بعد بینائی میں بہتری کی بات بھی ساتھ ساتھ سامنے آتی رہی ہے۔ اگر علاج ہوا اور بہتری آئی تو پھر عوام کے سامنے تصویر اس طرح کیوں رکھی جائے جیسے سب کچھ اندھیر ہے اور کوئی سننے والا نہیں۔
یہاں اصل کہانی وہ ہے جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کا معائنہ ماہر امراض چشم اور وٹریو ریٹینل اسپیشلسٹ نے کیا، اڈیالہ میں بھی اور پمز میں بھی۔ یہ کوئی معمولی دعویٰ نہیں، یہ وہ بات ہے جس کی بنیاد رپورٹ اور ریکارڈ ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی سامنے ہے کہ میڈیکل رپورٹس باقاعدگی سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جا رہی ہیں۔ یعنی معاملہ کسی بند کمرے کی سرگوشی نہیں، ریاست کے اعلیٰ ترین عدالتی فورم کے سامنے رکھے گئے کاغذات کی صورت میں موجود ہے۔
مزید یہ کہ عمران خان کے اپنے وکیل سلمان صفدر نے بھی صورتحال کو تسلی بخش قرار دیا۔ وکیل کا بیان عام طور پر بہت نپا تلا ہوتا ہے، کیونکہ وہ عدالت کے ریکارڈ سے ہٹ کر بات کرے تو اسے کل خود جواب دینا پڑتا ہے۔ جب وکیل کہتا ہے کہ کیفیت تسلی بخش ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ علاج اور نگرانی کا نظام چل رہا ہے، اور مریض کی حالت ایسی نہیں جسے فوری خطرہ قرار دے کر ہنگامی سیاست کی جائے۔ پھر بھی اگر بیٹوں کو کسی پہلو پر اعتراض ہے تو وہ عدالت کے ذریعے سوال اٹھائیں، کیونکہ یہاں فیصلہ جذبات نہیں، شواہد کرتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جن بیٹوں نے برسوں ملاقات تک کی زحمت نہیں کی، وہ اچانک انسانی حقوق کے ترجمان بن کر سامنے آ گئے۔ عوام یہ سوال ضرور پوچھیں گے کہ یہ بیداری اب کیوں ہوئی۔ اگر باپ کی صحت واقعی بنیادی فکر تھی تو خاموشی اتنی لمبی کیوں رہی۔ اب جب سیاسی موسم گرم ہے، اور بیرون ملک بیٹھ کر بیانیہ بیچنا آسان ہے، تو یکایک درد کی زبان بھی تیز ہو گئی۔ یہ ہمدردی کم اور سیاسی کہانی سازی زیادہ دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس میں درد سے زیادہ کیمرے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
پاکستان کے جیل قوانین ٹوئٹر اسپیسز کے شور سے نہیں چلتے۔ جیل کے معاملات میں سہولت، نگرانی اور علاج کے اصول موجود ہیں، اور ہر قیدی کے لیے وہی پیمانہ ہونا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کے پاس ذاتی ڈاکٹر نہ ہونے کے باوجود وہ سہولتیں موجود ہیں جو ملک کے بیشتر قیدیوں کو خواب میں بھی نہیں ملتیں۔ سات کمروں پر مشتمل رہائش، اخبارات تک رسائی، ورزش کی سہولت، مکمل سکیورٹی، اور مسلسل طبی نگرانی، یہ سب اگر موجود ہے تو پھر انہیں ملک کا سب سے بے بس قیدی بنا کر پیش کرنا کہاں کی دیانت ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ قانون سے بڑھ کر خصوصی پروٹوکول کا مطالبہ ہر قیدی کے حق میں مسئلہ بن جاتا ہے۔ اگر ایک قیدی کے لیے معیار بدل جائے تو کل کسی دوسرے کے لیے انصاف کی زبان کمزور پڑ جاتی ہے۔ اصل انسانی حقوق یہ ہیں کہ عام قیدی کو بھی علاج، صفائی، خوراک اور قانونی رسائی ملے۔ لیکن یہاں معاملہ اُلٹا ہے، سب سے زیادہ مراعات یافتہ قیدی کو سب سے زیادہ مظلوم دکھایا جا رہا ہے، تاکہ سیاسی فائدہ لیا جا سکے اور ہر تنقید کو ظلم کے لیبل سے دبایا جا سکے۔
جو لوگ باہر بیٹھ کر ہر بات پر آمریت کا نعرہ لگاتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں فیصلے عدالتیں کرتی ہیں، خاندان کی پریس کانفرنسیں نہیں۔ اگر جیل میں واقعی کوئی غیر قانونی رکاوٹ ہے تو عدالت میں اس کا چارہ موجود ہے۔ اگر علاج ناکافی ہے تو میڈیکل بورڈ، رپورٹ، اور عدالتی حکم کی صورت میں راستہ کھلا ہے۔ لیکن اگر مقصد صرف یہ ہے کہ بیرون ملک میڈیا کے ذریعے دباؤ بنایا جائے، تو پھر یہ انصاف نہیں، سیاست ہے۔
میرا نقطہ سادہ ہے۔ عمران خان کی صحت ایک سنجیدہ معاملہ ہو سکتی ہے، اور صحت کے معاملے میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ مگر جو باتیں خود دستاویزات اور عدالتی ریکارڈ سے ٹکراتی ہوں، انہیں سچ بنا کر پیش کرنا غلط ہے۔ سلیمان اور قاسم اگر واقعی والد کی خیر چاہتے ہیں تو حقائق کے ساتھ کھڑے ہوں، عدالت کے راستے سے بات کریں، اور عام قیدیوں کے حق میں بھی آواز اٹھائیں۔ ورنہ یہ سب ایک اور تیار شدہ کہانی بن کر رہ جائے گا، جس میں درد کم اور ووٹ کی گنتی زیادہ ہوگی۔
Author
-
ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔
View all posts