پاکستان تحریک انصاف اس وقت ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ نام ایک ہے، جھنڈا ایک ہے، نعرہ بھی بظاہر ایک ہی ہے، مگر طاقت کے مراکز کئی ہیں اور سمتیں مختلف۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں جماعتیں باہر کے دباؤ سے کم، اندر کے بکھراؤ سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔ تحریک انصاف کے معاملے میں بھی یہی دکھائی دیتا ہے۔ پارٹی اب واضح طور پر دھڑوں میں بٹ چکی ہے، اور ہر دھڑا خود کو اصل ترجمان، اصل وارث، اور اصل فیصلہ ساز ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کارکن اور ووٹر کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا کہ وہ کس کی بات کو پارٹی کی بات مانیں، کس کے فیصلے کو حتمی سمجھیں، اور کس لائن پر چلیں۔
ایک طرف وہ حلقہ ہے جو بانی کی قید کو مرکز بنا کر فیصلے کرتا ہے، اور ہر بات کو براہ راست ہدایت کے نام پر پیش کرتا ہے۔ اس گروہ کی طاقت جذباتی وابستگی اور علامتی قیادت سے جڑی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب قیادت قید میں ہو تو سیاست محض جذبے سے نہیں چلتی، اسے تنظیم، رابطہ، حکمت عملی اور روزمرہ فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہر فیصلہ ایک بند کمرے کے اندر سے نکلے، اور اس کے راستے میں شفافیت نہ ہو، تو پھر شک پیدا ہوتا ہے۔ کارکن سوچتا ہے کہ واقعی یہ ہدایت ہے یا کسی نے ہدایت کے نام پر اپنی مرضی چلا دی ہے۔ اسی جگہ سے بداعتمادی شروع ہوتی ہے اور بداعتمادی دھڑوں کو جنم دیتی ہے۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا حکومت اور پارلیمانی سیاست کرنے والی قیادت ہے، جسے عملی سیاست کے تقاضے معلوم ہیں۔ اسمبلی، حکومت، انتظامیہ، اتحاد، مذاکرات، اور روزمرہ معاملات میں چلنے کے لئے انہیں لچک چاہیے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ریاستی نظام کے اندر رہتے ہوئے جگہ بنانی ہے تو کچھ دروازے کھلے رکھنے پڑتے ہیں۔ مگر اسی سوچ کو پارٹی کے اندر ایک طبقہ کمزوری یا پسپائی سمجھتا ہے۔ جب جماعت کے اندر مزاحمت اور مفاہمت کو دو انتہاؤں میں بانٹ دیا جائے تو درمیان کی عقل مند آواز دب جاتی ہے۔ پھر ہر بات یا تو جنگ ہوتی ہے یا ہتھیار ڈالنا، اور سیاست اس سیاہ و سفید کے بیچ کہیں مر جاتی ہے۔
تیسرا دھڑا وہ ہے جو سوشل میڈیا اور نظریاتی لائن پر کھڑا ہے، اور خود کو اصل مزاحمتی قوت سمجھتا ہے۔ اس دھڑے کی طاقت نعروں، بیانیے، اور آن لائن مہمات میں ہے۔ یہ طبقہ اکثر زمینی سیاست کے پیچیدہ سوالوں کو ایک سادہ جذباتی فریم میں قید کر دیتا ہے۔ وہ ہر اختلاف کو غداری، ہر سوال کو کمزوری، اور ہر مصالحت کو سوداگری بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جذبات بھڑکتے رہتے ہیں، نقصان یہ ہے کہ جماعت کے اندر مکالمہ ختم ہو جاتا ہے۔ جب جماعت کے اندر اختلاف کی گنجائش نہ رہے تو اختلاف دھڑا بن جاتا ہے، اور دھڑا آخرکار بغاوت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اس منظر میں علیمہ خان گروپ کی صورت میں خاندانی اثر و رسوخ بھی نمایاں ہے۔ سیاست میں خاندان کا کردار نئی بات نہیں، مگر جب جماعت خود کو اصولوں اور میرٹ کے نام پر پیش کرے تو خاندانی مرکزیت زیادہ کھٹکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ حلقہ بانی کی نمائندگی کا سب سے قریب دعویٰ رکھتا ہے، اسی وجہ سے اثر بھی بڑھ جاتا ہے۔ مگر اسی نقطے پر انتخابی سیاست کے لوگ، یعنی وہ جنہیں عام طور پر electables کہا جاتا ہے، چڑتے ہیں۔ وہ جماعت کو صرف مزاحمتی جذبات کے سہارے نہیں دیکھتے، وہ سیٹ، حلقہ، اتحاد اور قابل عمل حکمت عملی کی بات کرتے ہیں۔ یوں خاندانی حلقہ اور انتخابی سیاست کا حلقہ ایک دوسرے کو اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھنے لگتا ہے۔
علی امین گنڈاپور گروپ کو اگر دیکھا جائے تو اس کے پاس حکومت کا وزن ہے اور خیبر پختونخوا کی انتظامی طاقت بھی۔ مگر حکومت میں رہ کر پارٹی کے اندر مزاحمتی بیانیہ برقرار رکھنا آسان نہیں۔ ایک طرف جلسے جلوس اور سخت لہجہ ہے، دوسری طرف فائلیں، بجٹ، بیوروکریسی اور امن و امان کی ذمہ داری۔ یہ تضاد جب صاف نہ کیا جائے تو پارٹی کے اندر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اصل ترجیح کیا ہے، مزاحمت یا حکمرانی۔ اور جب جواب واضح نہ ہو تو ہر گروہ اپنی سہولت کے مطابق جواب گھڑ لیتا ہے۔
بیرسٹر گوہر گروپ کو بھی اسی کشمکش میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پارلیمانی سیاست میں چہرہ، زبان، اور قانونی موڑ اہم ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اندازاً تنظیمی نظم، پارٹی کی قانونی حیثیت، اور مذاکراتی راستوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر جب پارٹی کے اندر جذباتی مزاحمت کو اصل معیار بنا دیا جائے تو یہ لوگ یا تو کمزور دکھائی دیتے ہیں یا مشکوک۔ یوں ایک ایسی قیادت جو پیچیدہ حالات میں جماعت کے لئے راستہ نکال سکتی ہے، وہ بھی دھڑوں کے شور میں دب جاتی ہے۔
اس پوری لڑائی میں سب سے زیادہ کچلا جانے والا کردار کارکن ہے۔ وہی کارکن جو لاٹھی بھی کھاتا ہے، مقدمہ بھی بھگتتا ہے، گھر والوں کے طعنے بھی سنتا ہے، اور پھر بھی جھنڈا اٹھائے رکھتا ہے۔ آج وہی کارکن بے سمت ہے۔ اسے نہ واضح قیادت نظر آتی ہے، نہ ایک زبان، نہ ایک لائن۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ فلاں فیصلہ حتمی ہے، پھر اگلے دن دوسرا بیان آ جاتا ہے۔ کبھی کسی کو اصل ترجمان کہا جاتا ہے، پھر اسی کو تنقید کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ کارکن کے لئے یہ صرف اختلاف نہیں، شناخت کا بحران ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ میں کس کے پیچھے چلوں، اور جواب میں اسے صرف دھڑے بندی کی آوازیں ملتی ہیں۔
یہ محض اختلاف رائے نہیں، بتدریج ٹوٹ پھوٹ ہے۔ جماعتیں اس وقت بکھرتی ہیں جب ان کے پاس قیادت بھی واضح نہ ہو، بیانیہ بھی یکساں نہ ہو، اور حکمت عملی بھی مشترک نہ ہو۔ تحریک انصاف کے پاس اس وقت تینوں چیزیں بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ بانی کی علامتی حیثیت اپنی جگہ، مگر سیاست کو صرف علامتوں سے نہیں چلایا جا سکتا۔ اگر جماعت نے اندرونی نظم نہ بنایا، فیصلوں کا ایک قابل اعتماد نظام نہ کھڑا کیا، اور مزاحمت و مفاہمت کے درمیان ایک حقیقت پسندانہ راستہ نہ نکالا تو اس کی سیاسی قوت اندر سے کھوکھلی ہوتی جائے گی۔ باہر کی لڑائیاں بعد میں لڑی جاتی ہیں، پہلے گھر کو بچانا پڑتا ہے۔ اگر ایک پارٹی کے اندر کئی طاقت کے مراکز رہیں، تو آخرکار پارٹی نہیں رہتی، صرف گروہ رہ جاتے ہیں۔
Author
-
مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔
View all posts