پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے عذاب سے گزر رہا ہے۔ ہزاروں بے گناہ شہری، علماء کرام، مزدور، اساتذہ اور سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے۔ مساجد و مدارس، بازار، ہسپتال اور حتی کہ جنازے بھی حملوں سے محفوظ نہ رہے۔ یہ سب کچھ کسی نظریاتی اختلاف کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سوچے سمجھے فتنہ اور خونریزی کا تسلسل ہے۔ اسی پس منظر میں خارجی سرغنہ گل بہادر جیسے کردار اپنے جرائم کو مذہبی رنگ دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی جہاد کا نام لیتے ہیں، کبھی خود انحصاری کا، اور کبھی ریاست پر ظلم کا الزام لگا کر اپنے ہاتھوں سے بہائے گئے خون کو چھپانا چاہتے ہیں۔
گل بہادر کا پہلا بڑا دعویٰ یہ ہے کہ وہ پاکستان میں موجود ہے اور اس کا نام نہاد جہاد ریاستی ظلم کا ردعمل ہے۔ یہ بات کئی زاویوں سے جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے۔ ایک طرف زمینی حقائق اور قابل اعتماد ذرائع مسلسل بتاتے رہے ہیں کہ ایسے گروہوں کی قیادت اور منصوبہ بندی سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے چلتی ہے۔ دوسری طرف اگر اسے واقعی کسی ظلم کا شکوہ تھا تو اس کے پاس قانونی، سیاسی اور سماجی راستے موجود تھے۔ مگر اس نے بندوق اٹھائی، ریاستی رٹ کو چیلنج کیا، اور پھر معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔ یہ کیسا ردعمل ہے جس میں مسجد میں سجدہ کرنے والا نمازی بھی محفوظ نہ رہے، مدرسے کا طالب علم بھی، اور بازار میں محنت کرنے والا مزدور بھی۔ اسلام میں بے گناہ کا قتل کب سے جہاد بن گیا۔
اس کے دوسرے دعوے میں وہ فوج کو انتشار کی جڑ قرار دیتا ہے۔ یہ الزام حقیقت کے الٹ ہے۔ انتشار کا سب سے بڑا ثبوت وہ لاشیں ہیں جو خودکش حملوں، بارودی دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے بعد اٹھتی رہیں۔ اگر کسی نے اس جنگ میں سب سے زیادہ قیمت ادا کی ہے تو وہ پاکستانی عوام اور افواج پاکستان ہیں۔ امن قائم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور جب ریاست مسلح جتھوں کو روکنے کے لیے کارروائی کرتی ہے تو اسے ظلم کہنا اصل ظلم کے ساتھ کھڑا ہونے کے برابر ہے۔ یہ بھی عجیب منطق ہے کہ حملہ آور خود کو مظلوم کہے اور محافظ کو مجرم بنائے۔ یہی الٹی دنیا ہر فتنہ پرست کی پہچان ہوتی ہے۔
تیسرا پروپیگنڈا یہ گھسا پٹا نعرہ ہے کہ پاکستان ڈالر کے لیے جنگ لڑتا ہے۔ اگر یہ جنگ مفاد کی خاطر ہوتی تو پاکستان ستر ہزار سے زائد جانوں کی قربانی کیوں دیتا، معیشت کیوں لرزتی، شہروں میں جنازے کیوں اٹھتے، اور سکولوں کے بچے کیوں شہید ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے کی گئیں، کسی بیرونی انعام کے لیے نہیں۔ جو لوگ ڈالر کا شور مچاتے ہیں وہ دراصل اپنے جرائم پر شرمندہ ہونے کے بجائے الزام تراشی کی پناہ لیتے ہیں، تاکہ نوجوانوں کے ذہن میں ریاست کے خلاف نفرت بھر سکیں۔
چوتھا دعویٰ یہ ہے کہ انہیں خوارج کہا جاتا ہے مگر وہ قرآن کے ساتھ ہیں اور اصولوں پر قائم ہیں۔ خوارج کی پہچان نعروں سے نہیں، اعمال سے ہوتی ہے۔ جو لوگ مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھیں، دین کی آیات کو اپنی خواہش کے مطابق موڑیں، اور اختلاف رکھنے والوں پر بندوق تانیں، وہی خوارج کی صفات رکھتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں ایسے گروہوں کی نشان دہی ملتی ہے جو ظاہری دین داری دکھاتے ہیں مگر ان کے دل سخت اور رویے خونخوار ہوتے ہیں۔ ہمارے علماء کرام اسی دینی معیار کی روشنی میں ایسے عناصر کو فتنہ اور بغاوت قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان کی روش قرآن و سنت کی روح کے خلاف ہے۔
پانچواں جھوٹ یہ الزام ہے کہ پاکستان مساجد اور مدارس پر حملے کرتا ہے۔ یہ دعویٰ صرف ڈھٹائی نہیں، شہداء کے خون کی توہین بھی ہے۔ مساجد، مدارس اور جنازوں پر حملوں کی تاریخ کسی سے پوشیدہ نہیں، اور یہ داغ انہی دہشت گرد نیٹ ورکس پر ثبت ہے۔ ریاستی کارروائیاں دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف ہوتی ہیں، عبادت گاہوں کے خلاف نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے گروہ کبھی کبھار مذہبی مقامات کو ڈھال بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ کارروائی کی صورت میں شور مچا کر ہمدردی سمیٹ سکیں۔ یہ حربہ بھی پرانا ہے، اور اب زیادہ دیر نہیں چلتا، کیونکہ عوام نے دیکھ لیا ہے کہ مسجد کے تقدس کو سب سے زیادہ کس نے پامال کیا۔
چھٹا دعویٰ کہ پچاس فیصد علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے، شکست خوردہ نفسیات کی صاف علامت ہے۔ کنٹرول کا مطلب کھلی موجودگی، مستقل نظم، عوامی حمایت، متوازی نظام اور آزادانہ نقل و حرکت ہوتا ہے۔ ان کے پاس یہ کچھ نہیں۔ ان کی سرگرمی زیادہ سے زیادہ چھپ کر اچانک حملہ، بارودی مواد رکھنا، یا رات کی تاریکی میں دراندازی ہے۔ یہ کنٹرول نہیں، بزدلی اور کمزوری ہے۔ جو گروہ واقعی مضبوط ہو وہ عام شہریوں پر وار نہیں کرتا، وہ مسجد اور مدرسے کو نشانہ نہیں بناتا، اور وہ خوف پھیلا کر اپنی قوت ثابت نہیں کرتا۔
ساتواں دعویٰ کہ انہیں افغانستان سے مدد کی ضرورت نہیں اور وہ خود کفیل ہیں، حقیقت سے دور ہے۔ جدید اسلحہ، نائٹ وژن آلات، سرحد پار محفوظ راستے، تربیتی سہولتیں اور پناہ گاہیں خود بخود نہیں بنتیں۔ جب بھی ایسے گروہ کمزور پڑتے ہیں تو وہ بیرونی پشت پناہی کے سائے میں خود کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود انحصاری کا نعرہ دراصل اپنے پیروکاروں کو بہلانے کا طریقہ ہے، تاکہ وہ یہ نہ پوچھیں کہ قیادت کہاں بیٹھی ہے، فنڈنگ کہاں سے آتی ہے، اور منصوبہ بندی کس زمین پر ہوتی ہے۔
آخر میں گل بہادر کا یہ کہنا کہ وہ دشمن کو کافر نہیں کہتا مگر انہیں ظالم کہتا ہے کیونکہ وہ کفار کے مفادات کا دفاع کرتے ہیں، خارجی منطق کی ایک اور صورت ہے۔ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے، جس کا آئین قرآن و سنت کے تابع ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ ریاست کو ظالم قرار دے کر مسلح بغاوت کو جائز بنانا دین اور قانون دونوں کے خلاف ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کسی کو کافر کہتا ہے یا نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ مسلمان کے خون کو سستا سمجھتا ہے، اور اپنی طاقت کے لیے مذہب کو ہتھیار بناتا ہے۔
یہ پورا بیانیہ ایک ہی حقیقت پر ختم ہوتا ہے۔ گل بہادر کے دعوے نہ جہاد ہیں، نہ خود انحصاری، بلکہ فتنہ، فساد اور پاکستان دشمن قوتوں کی خدمت ہیں۔ وہ جھوٹا، فریبی، ابن الوقت اور موقع پرست شخص ہے جو دین کو ذاتی طاقت اور بدامنی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس فتنے کا جواب صرف بندوق سے نہیں، دلیل سے بھی دینا ہوگا، تاکہ نوجوانوں کے ذہن محفوظ رہیں، اور دین کی اصل روح، یعنی امن، عدل اور حرمت انسان، روشن رہے۔
Author
-
ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔
View all posts