ملک میں ایک عجیب فضا بنا دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا کی چکاچوند، نعروں کی گونج، اور چند پسندیدہ چہروں کی ہر وقت موجودگی نے بہت سے نوجوانوں کو یہ یقین دلا دیا کہ تاریخ ایک ہی شخص کے گرد گھومتی ہے، اور ریاستی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیشہ کوئی اور ہوتا ہے۔ مگر قوم کا حافظہ اتنا کمزور نہیں جتنا اسے سمجھ لیا گیا ہے۔ جب جذبات کی گرد بیٹھتی ہے تو سوال اٹھتے ہیں، اور پھر جواب صرف تقاریر سے نہیں ملتے، حقائق سے ملتے ہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ اگر کوئی چاہے تو دو ہزار تیرہ کے اعداد و شمار، اور آرمی پبلک اسکول جیسے سانحے تک بات لے جا سکتا ہے، مگر یہاں بات صرف اس دور کی ہے جب عمران نیازی وزیر اعظم تھے اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی وارداتیں مسلسل سر اٹھا رہی تھیں۔ جو لوگ ہر مسئلے پر پچھلی حکومتوں کو کوستے ہیں، انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اقتدار میں رہتے ہوئے امن و امان کے محاذ پر کیا ہوا، کس قیمت پر ہوا، اور کس نے بھگتا۔
فروری کی ابتدا میں ہی ایک خودکش حملہ فوجی کیمپ کے قریب ہوا اور گیارہ جوان شہید ہوئے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، یہ ایک واضح پیغام تھا کہ دشمن کی صلاحیت ختم نہیں ہوئی، اور داخلی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ پھر مئی میں ایک شیعہ عالم دین پر فائرنگ ہوئی، ایک شخص شہید ہوا، اور ذمہ داری لشکر جھنگوی نے لی۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فرقہ واریت کا زخم ایک بار پھر کریدنے کی کوششیں جاری تھیں، اور نفرت کے نیٹ ورک پوری طرح زندہ تھے۔
جولائی میں پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی ریلی پر خودکش حملہ ہوا، بائیس افراد شہید ہوئے جن میں ہارون بلور بھی شامل تھے، اور درجنوں زخمی ہوئے، ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی۔ چند ہی دن بعد بنوں میں جمعیت علمائے اسلام کی ریلی پر موٹر سائیکل بم حملہ ہوا، پانچ افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے، ذمہ داری اتحاد المجاہدین کی طرف منسوب کی گئی۔ یہ دونوں واقعات ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کے لیے سیاست، عوامی اجتماع، اور انتخابی سرگرمی نرم ہدف تھے، اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کا طریقہ بھی یہی تھا کہ خوف پھیلا کر آوازیں دبائی جائیں۔
اس کے بعد اپر دیر میں بارودی سرنگ کے دھماکے سے ایک فوجی شہید اور ایک زخمی ہوا، بنوں میں کھلونا بم پھٹنے سے بچوں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے، اور باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملے میں اہلکار زخمی ہوئے جس کی ذمہ داری پھر تحریک طالبان پاکستان نے لی۔ نومبر میں شیعہ اکثریتی علاقے کی ایک مارکیٹ میں خودکش دھماکہ ہوا، چونتیس افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے، اور داعش نے ذمہ داری کا دعوی کیا۔ یہ واقعہ خاص طور پر لرزا دینے والا تھا، کیونکہ یہاں مقصد صرف جانیں لینا نہیں تھا، فرقہ وارانہ آگ بھڑکانا اور معاشرے کو ٹکڑوں میں بانٹنا بھی تھا۔
اگلے سال پشاور میں بم حملہ ہوا، کئی افراد زخمی ہوئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے ہسپتال میں خودکش حملہ ہوا اور سات افراد شہید ہوئے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی جوانوں کو نشانہ بنایا گیا اور بڑی تعداد میں شہادتیں ہوئیں۔ مجموعی طور پر دو ہزار انیس میں خیبر پختونخوا میں ایک سو چھ سے ایک سو پچیس تک حملوں کی خبریں سامنے آئیں، شہادتیں ایک سو پینتالیس سے ایک سو اکہتر تک بتائی گئیں، اور زخمیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں رہی۔ شمالی وزیرستان سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ تھا۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ مسئلہ چند واقعات کا نہیں، ایک مسلسل لہر کا تھا جسے روکنے کے لیے سنجیدہ حکمت عملی، زمینی گورننس، اور واضح سمت چاہیے تھی۔
پھر پاراچنار میں چیک پوسٹ کے قریب دھماکہ، توری بازار میں دھماکہ جس میں بچوں سمیت کئی زخمی ہوئے، اور پشاور میں مدرسے کی کلاس کے دوران بم دھماکہ جس میں آٹھ افراد شہید اور بہت بڑی تعداد زخمی ہوئی۔ یہ سب واقعات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ حساس علاقوں، تعلیمی و مذہبی مقامات، اور بازاروں کی سکیورٹی میں وہ خلا کیوں رہ گیا جو دشمن بار بار استعمال کرتا رہا۔ بعد کے عرصے میں مردان میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو گولی مار کر شہید کیا گیا، اور اپر کوہستان میں چینی کارکنوں کی بس پر حملہ ہوا جس میں چینی اور پاکستانی شہری جان سے گئے۔ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے دوران فوجی جوان شہید ہوئے، اور مردان کے علاقے تخت بھائی میں ایک پولیس اہلکار بھی نشانہ بنا۔ یہ واقعات صرف اعداد نہیں، یہ خاندانوں کی ویرانی، بچوں کی یتیمی، اور گھروں کی خاموشی ہیں۔
اس پس منظر میں جب کچھ نوجوان یہ دعوی کرتے ہیں کہ ایک مخصوص دور میں ملک نے مکمل امن دیکھ لیا تھا، یا یہ کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف نعروں سے ہو گیا تھا، تو قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقیقت کی طرف واپس آئے۔ سچ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاستی سنجیدگی مانگتی ہے۔ خارجہ پالیسی میں توازن، سرحدی نظم، انٹیلی جنس کی مضبوطی، پولیس کی صلاحیت، اور عدالتی نظام کی مدد کے بغیر دہشت گردی کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جا سکتا۔ اگر کسی دور میں یہ کمزوریاں برقرار رہیں، تو ذمہ داری سے فرار ممکن نہیں۔
قوم کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں رکھتی، قوم صرف سچ مانگتی ہے۔ جو نوجوان جذبات میں آ کر ہر تنقید کو دشمنی سمجھتے ہیں، انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوال کرنا غداری نہیں۔ جس دن نوجوان نعروں کے بجائے شہادتوں کے نام، زخمیوں کی چیخیں، اور متاثرہ علاقوں کی حقیقت دیکھ کر رائے بنائیں گے، اسی دن جھوٹ کی دیوار خود بخود گر جائے گی۔ قوم آخرکار وہی کرتی ہے، وہ فریب کے پردے ہٹا دیتی ہے، اور پھر تاریخ صرف شور نہیں سنتی، وہ سچ لکھتی ہے۔
Author
-
ڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔
View all posts