پاکستان میں زراعت اور مویشی بانی کو ہم برسوں سے “ریڑھ کی ہڈی” کہتے آئے ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ اس ریڑھ کی ہڈی میں کمزوری کی بڑی وجہ ہماری اپنی غفلت رہی ہے۔ پانی کا ضیاع، بیج کی کمزور کوالٹی، زمین کی غیر سائنسی تقسیم، تحقیق سے دوری، اور منڈی تک رسائی کے پرانے طریقے، سب مل کر کسان اور مویشی پالنے والے کو کم منافع کے چکر میں رکھ دیتے ہیں۔ اسی پس منظر میں سی پیک کے تحت پاکستان اور چین کا تازہ زرعی تعاون میرے نزدیک محض سرمایہ کاری کی خبر نہیں، یہ ایک امتحان ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو واقعی دیہات کی زندگی بدلنے کے لیے استعمال کر پاتے ہیں یا نہیں۔
چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے سمجھوتوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی بات پر کئی لوگ فوری طور پر جوش میں آ جاتے ہیں، مگر مجھے اس رقم سے زیادہ اس سمت کی اہمیت دکھائی دیتی ہے۔ سی پیک کا آغاز بنیادی طور پر سڑکوں، بندرگاہوں اور توانائی کے منصوبوں سے ہوا تھا۔ اب جو رخ زراعت، صنعت، کان کنی اور ٹیکنالوجی کی طرف مڑ رہا ہے، وہ بتاتا ہے کہ دونوں ملک سمجھ چکے ہیں کہ پائیدار ترقی صرف کنکریٹ سے نہیں آتی، پیداوار بڑھانے اور ویلیو چین مضبوط کرنے سے آتی ہے۔ اگر یہ تبدیلی صحیح طرح بیٹھ گئی تو پاکستان کے لیے فوڈ سکیورٹی، برآمدات اور روزگار تینوں محاذوں پر فائدہ ممکن ہے۔
پاکستان چین دوستی کی بات اکثر جذباتی انداز میں ہوتی ہے، لیکن زراعت میں دوستی کا اصل مطلب نظام کی بہتری ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں بڑی تعداد کا روزگار اسی شعبے سے جڑا ہوا ہے، اور قومی آمدن میں بھی اس کا واضح حصہ ہے۔ جب کھیت کم پیداوار دے، دودھ کم ہو، جانور بیمار رہیں، اور فصل کٹنے کے بعد ذخیرہ اور ٹرانسپورٹ میں نقصان ہو، تو اثر صرف کسان تک نہیں رہتا، شہروں میں مہنگائی بھی اسی راستے سے آتی ہے۔ اس لیے اگر چین کے ساتھ تعاون ہمیں بیج، پانی، مشینری، کولڈ چین، پراسیسنگ، اور معیار کے میدان میں آگے لے جاتا ہے تو یہ تعاون بالواسطہ طور پر عام صارف کی زندگی پر بھی اثر ڈالے گا۔
حالیہ فریم ورک معاہدے کے تحت چین پاکستان اینیمل ہسبنڈری اور ویٹرنری انڈسٹری ٹیکنالوجی تعاون مرکز کا قیام خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ ہمارے ہاں مویشی بانی کی بڑی کمزوری صرف کم نسل یا کم خوراک نہیں، بلکہ علم اور معیار کی کمی بھی ہے۔ تحقیق و ترقی، صنعتی معیار سازی، اور ضرورت کے مطابق فنی تربیت، یہ تینوں چیزیں اگر ایک جگہ اکٹھی ہو جائیں تو گاؤں کی سطح پر بیماریوں کی روک تھام، ویکسینیشن کا نظم، چارہ مینجمنٹ، اور دودھ کی ہینڈلنگ جیسے روزمرہ مسائل بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ یہ مرکز صرف کاغذی کارروائی نہ بنے، اس کے نتائج فارم اور ڈیری تک پہنچیں۔
اسی سلسلے میں گو ڈیری پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ بھیڑ کی آئی وی ایف ٹیکنالوجی اور جدید ڈیری گائے کی بریڈنگ کی منتقلی کا معاہدہ ایک بڑی چھلانگ ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں دودھ کی مجموعی مقدار بڑی ہے، مگر فی جانور پیداوار کم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تعداد بڑھا کر مسئلہ حل کرتے رہے ہیں، معیار اور جینیات بہتر بنا کر نہیں۔ اگر بہتر نسل، بہتر خوراک، اور بہتر مینجمنٹ ایک ہی پیکج میں آئے تو دودھ کی فی لیٹر لاگت کم ہو سکتی ہے، اور ڈیری پراڈکٹس میں ویلیو ایڈیشن کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ البتہ آئی وی ایف اور بریڈنگ جیسے حساس معاملات میں شفاف قواعد، ویٹرنری اخلاقیات، اور چھوٹے کسان کے مفاد کی حفاظت لازمی ہے، ورنہ فائدہ چند بڑے فارموں تک محدود رہ جائے گا۔
اسلام آباد میں جنوری 2026 کی زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں درجنوں معاہدوں کی خبر نے یہ امید بھی بڑھائی کہ اب بات محض گفتگو سے آگے نکل رہی ہے۔ سمجھوتوں کا دائرہ بھی وسیع ہے، زرعی ادویات، مشینری، فوڈ پروسیسنگ، گوشت، پولٹری، ڈیری، سبزیاں پھل، جانوروں کی خوراک، ماہی پروری، کولڈ چین، اور فوڈ گریڈ پیکجنگ تک۔ یہ پوری فہرست ایک ہی بات کہتی ہے کہ اصل لڑائی کھیت سے پلیٹ تک ہے۔ ہم صرف پیداوار بڑھا لیں لیکن ذخیرہ، صفائی، گریڈنگ، اور برآمدی معیار نہ بنائیں تو منافع پھر بھی کم رہے گا۔
مجھے سی پیک کے تحت کارپوریٹ فارمنگ اور کنٹریکٹ فارمنگ کے ماڈل میں دو رخ دکھائی دیتے ہیں۔ ایک رخ امید کا ہے کہ جدید بیج، ڈرپ اریگیشن، میکانائزیشن، اور پریسیژن ایگریکلچر چھوٹے کسان کے لیے بھی قابل رسائی ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ معاہدے منصفانہ ہوں اور مارکیٹ تک ضمانت واقعی دی جائے۔ دوسرا رخ خدشے کا ہے کہ کہیں زمین اور پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھ نہ جائے، اور چھوٹا کاشتکار صرف مزدور بن کر نہ رہ جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومتیں، ریگولیٹرز، اور کسان تنظیمیں اس نئے ماڈل کے لیے واضح اصول طے کریں، تاکہ سرمایہ کاری کے ساتھ سماجی انصاف بھی چلے۔
پیداوار میں اضافے کی بات کرتے ہوئے ہمیں پانی کو مرکزی نقطہ بنانا ہوگا۔ پاکستان پانی کے دباؤ والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، اور ہماری نہری اور ٹیوب ویل معیشت پہلے ہی کمزور ہے۔ اگر چینی تعاون ڈرپ، اسمارٹ اریگیشن، لائننگ، اور پانی کی پیمائش کے نظام کو واقعی پھیلاتا ہے تو فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ پانی بھی بچ سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی صرف نمائشی فارموں تک رہی تو ہم وہی پرانی غلطی دہراتے رہیں گے، یعنی چند کامیابیاں اور مجموعی طور پر ناکامی۔
انسانی سرمایہ میرے نزدیک اس پورے ایجنڈے کی جان ہے۔ “زرعی گریجویٹس” اور فنی تربیت کے پروگرام تب ہی نتیجہ دیں گے جب تربیت یافتہ نوجوان کو گاؤں، فارم، فوڈ پروسیسنگ یونٹ، اور ایکسپورٹ چین میں ملازمت اور کیریئر ملے۔ یہاں یونیورسٹیوں کے نصاب کو صنعت اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ڈھالنا بہت اہم ہے۔ ویٹرنری اور اینیمل سائنس کے اداروں کے ساتھ مشترکہ تربیتی بنیاد بنانا اس لیے اچھا قدم ہے کہ علم اور صنعت ایک دوسرے سے کٹ کر نہیں چل سکتے۔
آخر میں، میری رائے میں چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی خبر سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اس موقع کو حکمرانی کے معیار میں بہتری کے لیے استعمال کریں۔ سہولت کاری یونٹس، ایس پی ایس قواعد، بیج پالیسی، اور زرعی بایوٹیکنالوجی کا فریم ورک، یہ سب ضروری ہیں، مگر ان کا مقصد صرف سرمایہ کار کو خوش کرنا نہیں ہونا چاہیے، مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پاکستانی کسان کی پیداوار بڑھے، لاگت کم ہو، بیماری کم ہو، اور منڈی تک رسائی بہتر ہو۔ اگر سی پیک 2.0 کے تحت زراعت میں یہ تبدیلی آ گئی تو یہ تعاون واقعی برادرانہ بھی ہوگا اور فائدہ مند بھی۔ ورنہ یہ بھی ایک اور فائل بن کر رہ جائے گا، اور کھیت وہیں کا وہیں۔
Author
-
حسین جان کے علمی مفادات بین الاقوامی سلامتی، جغرافیائی سیاسی حرکیات، اور تنازعات کے حل میں ہیں، خاص طور پر یورپ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔ انہوں نے عالمی تزویراتی امور سے متعلق مختلف تحقیقی فورمز اور علمی مباحثوں میں حصہ ڈالا ہے، اور ان کا کام اکثر پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو تلاش کرتا ہے۔
View all posts