Nigah

شہدائے کشمیر کے مشن کی توسیع

[post-views]

کشمیر کے مہاجرین کی نشستیں محض چند حلقوں یا چند نامزدگیوں کا معاملہ نہیں، یہ پاکستان اور کشمیر کے رشتے کی وہ زندہ علامت ہیں جو خون، ہجرت، جدوجہد اور عزم سے بنی ہے۔ آئینی اور انتظامی بحثوں میں جب انہیں صرف ایک تکنیکی بندوبست سمجھ کر دیکھا جاتا ہے تو اصل حقیقت اوجھل ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نشستیں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے آئینی ستون ہیں۔ یہ اس وعدے کی عملی صورت ہیں جو پاکستان نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے ساتھ کیا، اور وہ عہد بھی جو کشمیریوں نے اپنی قربانیوں کے ذریعے قائم رکھا۔

کشمیر کے مہاجرین نے 1947 کے بعد تاریخ کے سب سے کڑے امتحانوں میں سے ایک دیکھا۔ گھر اجڑے، خاندان بکھرے، لاشیں اٹھیں، اور پھر بھی شناخت نہیں بدلی۔ ہجرت صرف جگہ کی تبدیلی نہیں تھی، یہ ایک سیاسی اور اخلاقی موقف تھا۔ اسی موقف نے مہاجرین کو پاکستان اور کشمیر کے درمیان سب سے مضبوط کڑی بنا دیا۔ یہ لوگ نہ صرف متاثرہ فریق ہیں بلکہ گواہ بھی ہیں، وہ گواہ جو دنیا کو بتاتے رہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کسی نقشے کی لکیر کا نام نہیں، یہ انسانوں کے حق، عزت اور انتخاب کا سوال ہے۔ جب ان مہاجرین کو نمائندگی ملتی ہے تو یہ نمائندگی دراصل اسی موقف کی توسیع بن جاتی ہے۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ نمائندگی صرف قانون سازی کے ایوان میں آواز کا نام نہیں، یہ ایک قومی بیانیے کا تسلسل بھی ہے۔ کشمیر کے مہاجرین کی نشستیں اس تسلسل کو آئینی تحفظ دیتی ہیں۔ یہ نشستیں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ کشمیر کا مقدمہ پاکستان کے سیاسی شعور میں محض ایک خارجہ پالیسی کی فائل نہیں، بلکہ ایک اصولی وعدہ ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ مہاجرین کی نمائندگی، شہدا کی نمائندگی ہے، اور شہدا کی نمائندگی، کشمیر کے مشن کی توسیع۔ جو لوگ اپنی جانیں دے کر حق خود ارادیت کی بات دنیا تک لے گئے، ان کے وارثوں کی آواز اگر کمزور کر دی جائے تو یہ صرف ایک آئینی تبدیلی نہیں ہو گی، یہ اس مشن سے روگردانی ہو گی جس کی بنیاد قربانیوں پر رکھی گئی۔

کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں آئینی تسلسل کی اہمیت کو اکثر کم سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اصل قوت اسی تسلسل میں ہے۔ دنیا میں تحریکیں تبھی زندہ رہتی ہیں جب ان کے پاس سیاسی اظہار کے راستے بھی ہوں، اور قومی سطح پر ان کی ترجمانی بھی ہو۔ کشمیر کے مہاجرین کی نشستیں اس سیاسی اظہار کی ضمانت ہیں۔ یہ ایک مسلسل پیغام ہے کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو ختم شدہ نہیں سمجھا، اور نہ ہی اس پر وقت گزرنے کے ساتھ خاموشی اختیار کی۔ یہ نشستیں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان کی ریاستی اور عوامی سطح پر وابستگی برقرار ہے، اور یہ وابستگی کسی موسمی ضرورت کے تحت نہیں، ایک نظریاتی اور اخلاقی ذمہ داری کے طور پر قائم ہے۔

اس پس منظر میں اگر کوئی یہ کہے کہ مہاجرین کی نشستیں ختم کر دی جائیں، یا انہیں غیر ضروری سمجھا جائے، تو سوال یہ نہیں رہتا کہ انتظامی سہولت کیا ہو گی۔ سوال یہ بن جاتا ہے کہ ہم اپنے قومی وعدے کو کس سمت لے جا رہے ہیں۔ اگر یہ نشستیں ختم ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہی لیا جائے گا کہ ریاست نے اس تاریخی جدوجہد سے فاصلہ پیدا کر لیا ہے۔ اور یہ فاصلہ صرف سیاست میں نہیں پڑے گا، یہ شہدا کے خون کے ساتھ قائم رشتے میں دراڑ بن جائے گا۔ کشمیری شہدا کی قربانیاں کسی ایک دور کی کہانی نہیں، یہ مسلسل یاددہانی ہیں کہ آزادی کی قیمت ادا کی گئی ہے، اور ابھی بھی ادا ہو رہی ہے۔ ان قربانیوں سے ہٹنا ایسے ہی ہو گا جیسے اپنے ہی بنیادی اصولوں سے ہٹ جانا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مہاجرین نے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ وہ اپنی یادداشت، اپنے دکھ، اپنی گواہی اور اپنے سیاسی عمل کے ذریعے اس مقدمے کو تازہ رکھتے ہیں۔ جلسوں میں، عدالتوں میں، ایوانوں میں، اور گفتگو میں، ان کی موجودگی مسئلہ کشمیر کو محض ایک نعرہ نہیں رہنے دیتی، اسے انسانی سچائی بنا دیتی ہے۔ اسی لیے مہاجر نشستیں تاریخ، قربانی اور جدوجہد کا تسلسل ہیں۔ ان کی حفاظت دراصل اس تاریخ کی حفاظت ہے جس میں ہجرت بھی ہے اور مزاحمت بھی، شہادت بھی ہے اور امید بھی۔

یہاں قومی نظریے کا پہلو بھی اہم ہے۔ پاکستان کی نظریاتی اساس میں مظلوم کے حق کی حمایت اور مسلمانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ایک مرکزی قدر کے طور پر موجود ہے۔ کشمیر کے مہاجرین کی نشستیں اسی قدر کا آئینی اظہار ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ مہاجر نشستوں کا تحفظ، قومی نظریے کا تحفظ ہے۔ اگر ہم نمائندگی کے اس بندھن کو کمزور کرتے ہیں تو ہم خود اپنے موقف کو کمزور کرتے ہیں۔ پھر ہم دنیا کو کیا پیغام دیں گے؟ کہ ہم نے قربانیوں کو محض تاریخ کی کتابوں تک محدود کر دیا؟ یا یہ کہ ہم نے اپنے وعدوں کو حالات کے ساتھ بدلنے والی چیز سمجھ لیا؟

مسئلہ کشمیر کی جدوجہد میں ایک چیز ناقابل تردید ہے، آئینی تسلسل ناگزیر ہے۔ یہ تسلسل بتاتا ہے کہ ریاست اور قوم ایک موقف پر قائم ہیں۔ کشمیر کے مہاجرین کی نشستیں اسی تسلسل کی علامت ہیں اور اسی کا عملی ذریعہ بھی۔ انہیں ختم کرنا یا کمزور کرنا صرف ایک سیاسی قدم نہیں ہو گا، یہ ایک اخلاقی پسپائی ہو گی۔ اور اخلاقی پسپائی ہمیشہ سیاسی کمزوری بن جاتی ہے۔

آخر میں بات سیدھی ہے۔ کشمیر کے مہاجرین پاکستان اور کشمیر کے درمیان سب سے مضبوط کڑی ہیں۔ ان کی نمائندگی شہدا کے مشن کی توسیع ہے۔ اور یہ نشستیں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے آئینی ستون ہیں۔ اگر ہم نے ان ستونوں کو ہلا دیا تو ہم صرف ایک آئینی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں کریں گے، ہم اپنی تاریخ، اپنی قربانیوں اور اپنے قومی موقف سے انحراف کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مہاجر نشستوں کی حفاظت صرف ایک قانونی ضرورت نہیں، یہ ایک قومی فرض ہے، اور اس فرض کی ادائیگی ہی شہدائے کشمیر کے خون سے وفاداری کی حقیقی شکل ہے۔

Author

  • ڈاکٹر حمزہ خان

    ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔