شدت پسندی کے بارے میں ہماری گفتگو اکثر ایک ہی جگہ اٹک جاتی ہے، ہم خطرات گنواتے رہتے ہیں، واقعات سناتے رہتے ہیں، اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ نوجوان قائل کیوں نہیں ہو رہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے نوجوان کو اکثر ایک ممکنہ خطرہ سمجھا، ایک انسان نہیں۔ جب نوجوان کو صرف ڈرایا جائے اور اس کے سامنے زندگی کا قابلِ عمل راستہ نہ رکھا جائے تو وہ کسی نہ کسی کہانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی جگہوں پر نوجوان “نظرانداز” نہیں ہوتے، بلکہ “گھڑے” جاتے ہیں۔ انہیں باقاعدہ سوچ سمجھا کر ایک ایسی سمت میں ڈھالا جاتا ہے جہاں غصہ مقصد بن جاتا ہے اور نفرت شناخت۔ اس لیے سوال یہ نہیں کہ نوجوان کیوں بہک گئے، سوال یہ ہے کہ ہم نے انہیں کون سا مستقبل دکھایا جس میں محنت کی قیمت، عزت کی جگہ، اور آگے بڑھنے کی امید موجود ہو۔
اگر ہم واقعی نوجوانوں کو شدت پسندی سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف یہ نہیں کہنا کہ شدت پسندی بری ہے۔ انہیں یہ بھی دکھانا ہوگا کہ امن اور محنت کا راستہ حقیقت میں کھلا ہے۔ تعلیم، ہنر، اور باعزت روزگار صرف معاشی منصوبے نہیں، یہ فکری حفاظت کے ستون ہیں۔ جب نوجوان کو لگے کہ پڑھ لکھ کر بھی نوکری نہیں ملے گی، ہنر سیکھ کر بھی سفارش کے بغیر دروازہ نہیں کھلے گا، اور محنت کے بعد بھی عزت نہیں ملے گی، تو پھر اس کے لیے کسی بھی “انقلابی” یا “نجات دہندہ” نعرے میں کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ انتہا پسند گروہ اسی خلا میں آتے ہیں۔ وہ نوجوان کو یہ یقین نہیں دلاتے کہ دنیا بہتر ہوگی، وہ یہ یقین دلاتے ہیں کہ دنیا بدتر ہے اور تمہیں بس میری صف میں آنا ہے۔ ہمیں اس کے مقابلے میں ایسا متبادل مستقبل رکھنا ہوگا جو ٹھوس ہو، نظر آنے والا ہو، اور روزمرہ تجربے میں محسوس ہو۔
کسی بھی معاشرے میں انتہا پسند بیانیہ وہاں جگہ بناتا ہے جہاں ریاستی اعتماد کمزور ہو جائے۔ اعتماد کمزور ہو تو ہر بات پر شک پیدا ہوتا ہے، اور شک کے ماحول میں پروپیگنڈا آسانی سے جڑ پکڑ لیتا ہے۔ اسی لیے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ سچائی پر مبنی مکالمہ ضروری ہے۔ نوجوان کو صرف منصوبے کی تصویریں نہیں چاہییں، اسے جواب چاہیے۔ اسے یہ جاننا ہے کہ فیصلہ کیسے ہوا، فائدہ کس کو ملا، شکایت کہاں سنی جائے گی، اور غلطی ہو تو درست کیسے ہوگی۔ جب ہم مکالمہ چھوڑ دیتے ہیں تو خالی جگہ پر افواہ آ بیٹھتی ہے۔ پھر جھوٹ بار بار دہرایا جاتا ہے، اور وہ سچ محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کا علاج صرف تردید نہیں، درست معلومات کی بروقت فراہمی ہے، اور اس کے ساتھ زمینی حقیقت کی بہتری بھی۔ ورنہ اعلان چاہے کتنا ہی اچھا ہو، مشکوک دکھائی دیتا ہے۔
بلوچستان جیسے حساس خطے میں مسئلہ صرف معاشی محرومی کا نہیں، احساسِ محرومی کے بیانیے کا بھی ہے۔ اور بیانیہ صرف سڑکوں اور اسکیموں سے نہیں بدلتا۔ وہاں شفاف عمل، مسلسل رابطہ، اور احترام کی زبان درکار ہے۔ یہ ماننا پڑے گا کہ اگر کسی علاقے میں لوگ خود کو سنا ہوا نہیں سمجھتے تو وہ خود کو اپنا حصہ بھی نہیں سمجھتے۔ پھر کوئی بھی گروہ انہیں یہ باور کروا سکتا ہے کہ تم پر ظلم ہو رہا ہے اور تمہارا جواب صرف تشدد ہے۔ اس بیانیے کا مقابلہ تب ہوتا ہے جب ریاست شہری کو شراکت دار بنائے، محض فائدہ اٹھانے والا نہیں۔ منصوبہ بندی میں مقامی آواز ہو، نگرانی میں مقامی نمائندگی ہو، اور نتائج کا حساب عوام کے سامنے ہو۔ شفافیت کوئی نعرہ نہیں، ایک روزانہ کی عادت ہے۔
نوجوان اس وقت شدت پسند سوچ کا شکار ہوتے ہیں جب انہیں لگتا ہے کہ ان کی آواز بے معنی ہے۔ اگر طالب علم یہ دیکھے کہ یونیورسٹی میں اس کی بات نہیں سنی جاتی، اگر ہنرمند یہ دیکھے کہ اسے صرف مزدور سمجھا جاتا ہے، اگر بے روزگار یہ دیکھے کہ اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، تو پھر اس کی انا زخمی ہوتی ہے۔ انتہا پسند اسی زخمی انا کو “وقار” کا نام دیتے ہیں اور تشدد کو “عزت” بنا کر بیچتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں فیصلہ سازی میں شمولیت اور مواقع کی منصفانہ تقسیم خود ایک حفاظتی ڈھال ہے۔ مقامی سطح کے مشاورتی فورم، نوجوانوں کی کونسلیں، تعلیمی اداروں میں حقیقی نمائندگی، اور شکایت کے قابلِ اعتماد راستے، یہ سب نرم اقدامات نہیں، یہ بنیادی دفاع ہیں۔
دیرپا امن صرف سیکیورٹی اقدامات سے نہیں آتا۔ سیکیورٹی بعض اوقات فوری نقصان روک دیتی ہے، مگر ذہن کی جنگ جیتنے کے لیے امید چاہیے۔ امن اس وقت آتا ہے جب نوجوان کو یقین ہو جائے کہ اس کی شناخت، صلاحیت، اور مستقبل کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ یہ یقین کاغذی اعلانات سے نہیں بنتا، روزمرہ زندگی میں بہتری سے بنتا ہے۔ اسکول میں استاد موجود ہو، ہسپتال میں دوا ملے، دفتر میں کام عزت سے ہو، پولیس میں شکایت سنی جائے، اور نوکری میں میرٹ نظر آئے۔ جب ترقیاتی عمل لوگوں کے تجربے میں نظر آتا ہے تو اعتماد پیدا ہوتا ہے، اور اعتماد پیدا ہو تو پروپیگنڈا کمزور پڑ جاتا ہے۔
غلط معلومات کا مقابلہ صرف تردید سے نہیں، ایک مضبوط مثبت بیانیے سے ہوتا ہے۔ نوجوان کو امید، سمت، اور مقصد چاہیے۔ اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا تعلق، اس کی شناخت، اور اس کی ثقافت قابلِ احترام ہیں، اور وہ ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ طاقت ہیں۔ جب نوجوان کو معاشی استحکام، سماجی احترام، اور سچائی پر مبنی رہنمائی مل جائے تو دہشت گرد گروہوں کی کشش خود بخود کم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ پھر ان کے پاس دینے کو صرف غصہ رہ جاتا ہے، جبکہ ریاست اور معاشرہ نوجوان کو زندگی دینے لگتے ہیں۔
آخر میں بات سیدھی ہے۔ انصاف اور ترقی جب ساتھ چلتے ہیں تو وہ صرف حالات نہیں بدلتے، ذہن بھی بدلتے ہیں۔ نوجوانوں میں امید پیدا کرنا کوئی ایک منصوبہ نہیں، ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ عمل تعلیم سے شروع ہوتا ہے، روزگار پر مضبوط ہوتا ہے، اور احترام سے مکمل ہوتا ہے۔ اگر ہم نوجوان کو محنت کا راستہ کھلا دکھا دیں، اسے سچ اور جھوٹ میں فرق سمجھنے کی صلاحیت دے دیں، اور اسے اپنے فیصلوں میں شریک کر لیں، تو پھر وہ نفرت پر مبنی راستوں سے خود دور رہے گا۔ کیونکہ امید وہ طاقت ہے جو اندھیرے میں بھی راستہ دکھاتی ہے، اور جس نوجوان کے پاس امید ہو، اسے اندھیروں کے سوداگر خرید نہیں سکتے۔
Author
-
محمد عبداللہ آسٹن یونیورسٹی، برطانیہ میں بین الاقوامی تعلقات میں امیدوار۔ ان کی تحقیقی دلچسپیاں عالمی سلامتی، خارجہ پالیسی کے تجزیہ اور بین الاقوامی سفارت کاری کی ابھرتی ہوئی حرکیات پر مرکوز ہیں۔ وہ علمی گفتگو میں فعال طور پر مصروف ہیں اور جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست اور کثیر جہتی تعلقات پر خاص زور دینے کے ساتھ علمی پلیٹ فارمز میں حصہ ڈالتے ہیں۔
View all posts