ایک عجیب تماشہ ہمارے سامنے ہے۔ ایک سزا یافتہ قیدی، جس کے مقدمات عدالتوں میں چلتے رہے، جس پر فیصلے آئے، جسے قانون کے مطابق جیل میں رکھا گیا، اچانک دنیا بھر کے لیے ایک “انسانی المیہ” بنا دیا گیا۔ یوں لگتا ہے جیسے عدالتی عمل کی ساری تفصیل، شواہد، سماعتیں، وکیلوں کے دلائل اور فیصلوں کی منطق سب پس منظر میں چلی گئی، اور سامنے صرف ایک جذباتی کہانی آ کھڑی ہوئی۔ اس کہانی میں درد بھی ہے، سیاست بھی، اور سب سے بڑھ کر دباؤ بھی۔
یہ دباؤ اسی وقت بڑھا جب قیدی کی اہلیہ اور بھائی عالمی میدان میں کود پڑے۔ رشتہ دار ہونا کوئی جرم نہیں، اپنے لیے آواز اٹھانا بھی فطری بات ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آواز کس مقصد کے لیے اٹھ رہی ہے۔ اگر مقصد انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے تو راستہ عدالت ہے، وکیل ہے، اپیل ہے، ثبوت ہے۔ لیکن اگر مقصد بیرونی طاقتوں کے ذریعے داخلی نظام کو موڑنا ہے تو پھر یہ انسانی ہمدردی نہیں رہتی، یہ ایک سیاسی مہم بن جاتی ہے۔
پھر لندن کی پارلیمنٹ سے یہ دھمکی بھی سننے میں آئی کہ پاکستان کی امداد بند کی جا سکتی ہے۔ یہ جملہ صرف ایک مالی دباؤ نہیں، یہ ایک اصولی حملہ ہے۔ مطلب یہ کہ اب ہمارے ججوں کا فیصلہ بھی اس بات سے طے ہوگا کہ لندن کے کچھ ارکان کو کون سی کہانی پسند آتی ہے۔ کل کو اگر کسی اور ملزم کے بارے میں بھی کوئی مہم چل گئی تو کیا ہماری عدالتیں ہر بار بیرون ملک کے سیاسی حلقوں کو مطمئن کرنے کے لیے فیصلے بدلیں گی۔ اگر ایسا ہوا تو پھر ریاست کی خود مختاری کاغذ کی بات رہ جائے گی۔
اس مہم میں جس شخصیت کا نام نمایاں ہے وہ زیک گولڈ اسمتھ ہیں، ایک ایسا سیاست دان جس کی ترجیحات اور وابستگیاں سب پر واضح ہیں۔ وہی سیاست دان جو اسرائیل کے مظالم پر یا تو خاموش رہا یا انہیں جواز دیتا رہا، جو فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کے قتل عام پر دو ٹوک اخلاقی مؤقف لینے سے گریزاں رہا، جو مشرق وسطیٰ میں حکومتوں کی تبدیلی کے منصوبوں کے لیے فضا ہموار کرنے والوں میں شمار ہوتا ہے، اور جو ایران کے خلاف جنگی بیانیے کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ آج وہی شخص پاکستان کے عدالتی معاملات میں اخلاقیات کا جھنڈا اٹھائے پھر رہا ہے۔ یہ تضاد خود اس مہم کی نیت پر سوال کھڑا کرتا ہے۔
اگر واقعی انسانی حقوق کی فکر ہوتی تو پیمانہ سب کے لیے ایک جیسا ہوتا۔ فلسطین میں بچوں کی لاشیں، محاصرے میں سسکتی آبادی، ہسپتالوں پر حملے، اور قحط کی دھمکی، ان سب پر بھی اسی شدت سے بولنا پڑتا۔ لیکن جب وہاں خاموشی ہو اور یہاں اچانک شور مچ جائے تو بات انسانی حقوق سے نکل کر دباؤ کی سیاست میں داخل ہو جاتی ہے۔ پاکستان کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر تم نے ہمارے پسندیدہ بیانیے کے مطابق قدم نہ اٹھایا تو امداد روک دی جائے گی، سفارتی فضا خراب کر دی جائے گی، اور تمہیں عالمی سطح پر کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے گا۔
مزید حیرت اس بات پر ہے کہ دباؤ کی بنیاد میں جو دعوے رکھے جا رہے ہیں ان میں قیدی کی بیماری، بچوں سے ملاقات، اور کچھ ملاقاتوں کی تفصیل شامل ہے۔ یہ مسائل انسانی سطح پر واقعی اہم ہو سکتے ہیں، اور قانون کے اندر رہتے ہوئے ان کا حل نکلنا چاہیے۔ لیکن امداد روکنے کی دھمکی ان مسائل کا حل نہیں، یہ عدالت کو بلیک میل کرنے کا طریقہ ہے۔ پاکستان کی جیلوں میں ہزاروں قیدی ہیں، بیمار بھی ہیں، بے سہارا بھی ہیں، جن کے لیے کبھی لندن کی پارلیمنٹ نے امداد روکنے کی بات نہیں کی۔ پھر ایک ہی قیدی کیوں، اور وہ بھی اس انداز میں۔
یہاں ایک اور پہلو بھی ہے جو ہماری سیاست کی کمزوری کو عیاں کرتا ہے۔ جس رہنما نے ریاست مدینہ کے نعروں سے اخلاقی سیاست کا دعویٰ کیا، جس نے احتساب کا شور مچایا، جس نے خود کو خود داری کی علامت بتایا، آج اس کے گرد ایک ایسا منظر بن رہا ہے جس میں بیرونی حمایت کو طاقت سمجھا جا رہا ہے۔ عدالت کا فیصلہ ایک طرف، عالمی لابنگ دوسری طرف۔ اگر ہم واقعی خود دار قوم ہیں تو ہمارا اصول یہ ہونا چاہیے کہ انصاف کے لیے ہماری عدالتیں کافی ہیں۔ اگر فیصلہ غلط ہے تو اسے اسی نظام کے اندر چیلنج کیا جائے۔ بیرونی دباؤ سے وقتی فائدہ مل بھی جائے تو اس کی قیمت ریاست کی ساکھ اور اداروں کی خود مختاری ہوتی ہے۔
اصل سوال صرف ایک قیدی کا نہیں۔ اصل سوال پاکستان کی خود مختاری کا ہے، ہمارے عدالتی نظام کی آزادی کا ہے، اور اس تصور کا ہے کہ قانون سب پر برابر لاگو ہوگا۔ اگر آج ایک سیاسی قیدی کے نام پر دباؤ قبول کر لیا گیا تو کل کسی اور نام پر بھی قبول کرنا پڑے گا۔ پھر عدل کی کرسی کمزور ہوگی، فیصلے قانونی دلیل کے بجائے سفارتی موسم کے تابع ہوں گے، اور ملک کے اندر قانون کی حرمت مجروح ہوگی۔
پاکستان کو دو سطحوں پر کام کرنا ہوگا۔ ایک، اپنے عدالتی اور جیل نظام میں شفافیت بڑھانی ہوگی تاکہ کوئی بیرونی طاقت جھوٹے یا مبالغہ آمیز بیانیے سے کھیل نہ سکے۔ دو، سفارت کاری میں واضح اور باوقار زبان اختیار کرنی ہوگی کہ امداد خیرات نہیں، ریاستوں کے درمیان تعلقات ہوتے ہیں، اور کسی ایک مقدمے یا ایک فرد کے گرد امداد کو مشروط کرنا کھلی مداخلت ہے۔ انصاف ضرور ہو، رحم بھی ہو، قانون کے اندر انسانی تقاضے بھی پورے ہوں، لیکن فیصلہ پاکستان کے آئین، پاکستان کے قانون اور پاکستان کی عدالتوں کے مطابق ہو۔ اگر ہم نے یہ لکیر واضح نہ کی تو پھر ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنی خود مختاری کو دوسروں کی میز پر رکھ دیں گے۔
Author
-
ڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔View all posts