جب 99 فیصد مطالبات منظور ہو جائیں تو عام آدمی کے دل میں پہلا سوال یہی اٹھتا ہے کہ پھر سڑکوں پر شور کیوں ہے، پھر نفرت اور انتشار کے نعرے کیوں سنائی دے رہے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک عوامی تحریک کی ساکھ، نیت، اور سمت کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ جوائنٹ پیپلز ایکشن کمیٹی ایک عوامی پلیٹ فارم کے طور پر ابھر کر سامنے آئی، لوگوں نے اسے اپنے مسائل کے حل کی امید سمجھا، اور اسی امید کے سہارے اتحاد بھی قائم رہا۔ مگر جب مطالبات کی بڑی اکثریت پوری ہو گئی تو کچھ حلقوں کی طرف سے اسی پلیٹ فارم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں زیادہ نمایاں ہونے لگیں۔ اس صورت حال میں اصل سوال یہ نہیں کہ مطالبات منظور ہوئے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ منظوری کے بعد بھی “انتشار” کی آگ کیوں بھڑکائی جا رہی ہے۔
“99% مطالبات منظور ہوئے، پھر ہنگامہ کیوں” یہ جملہ صرف ایک نعرہ نہیں، ایک آئینہ ہے۔ اگر حقیقی مقصد عوامی مسائل کا حل تھا تو اب ذمہ داری بنتی ہے کہ لوگوں کو سکھ کا سانس لینے دیا جائے، مذاکرات اور عمل درآمد کی نگرانی کی جائے، اور باقی رہ جانے والے مطالبات کو بھی دلیل اور نظم کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ لیکن اگر مقصد کچھ اور ہو، اگر مقصد لوگوں کو بانٹنا ہو، اگر مقصد جلسوں میں نفرت اور خودمختار کشمیر کے اشتعال انگیز نعروں کے ذریعے عوامی جذبات کو بھڑکانا ہو، تو پھر مطالبات کی منظوری بھی ایک بہانہ بن جاتی ہے۔ ایسے میں لوگ حق بجانب ہیں کہ پوچھیں، یہ افراتفری کس کے فائدے میں جا رہی ہے، اور اس سے نقصان کس کو ہو رہا ہے۔
یہاں ایک بڑا خدشہ سامنے آتا ہے کہ کچھ عناصر، خصوصاً JKLF جیسے گروہ، جوائنٹ پیپلز ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم کو عوامی خدمت کے بجائے سیاسی کھیل کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اگر کسی پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد عوامی مسائل کا حل ہو، تو اس میں مسلح یا انتشار پسند بیانیہ گھسانا صرف بددیانتی نہیں، عوام کے اعتماد سے کھلواڑ بھی ہے۔ عوام کا دکھ مہنگائی ہو، روزگار ہو، بنیادی سہولتیں ہوں، یا حقوق کا مطالبہ ہو، یہ سب حقیقی مسائل ہیں۔ ان مسائل کے بیچ میں “انارکی” کا نعرہ، نفرت انگیز گفتگو، اور ایسا سیاسی بیانیہ جو لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرے، دراصل عوامی جدوجہد کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
کشمیر کاز کی اصل طاقت عوام کی یکجہتی اور قربانیوں کی یاد ہے۔ “نفرت نہیں، قربانیوں کی یاد زندہ رکھو” یہ بات صرف اخلاقی نصیحت نہیں، سیاسی حکمت بھی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے پر شک کریں، جب کمیونٹی کے اندر لسانی، مسلکی، یا علاقائی تقسیم گہری ہو، تو بیرونی قوتوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دیں۔ یہی دشمن کا پرانا ایجنڈا ہے، کہ عوامی اتحاد ٹوٹے، سچائی بکھر جائے، اور جدوجہد کا رخ بھٹک جائے۔ اگر کسی پلیٹ فارم پر نفرت کی زبان بولی جا رہی ہو، تو یہ صرف زبان کا مسئلہ نہیں رہتا، یہ تحریک کی سمت اور نیت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
کچھ لوگ “خودمختار کشمیر” کے نعرے کو ایک رومانوی خیال بنا کر پیش کرتے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ خطے کے سیاسی حقائق، قربانیوں کی تاریخ، اور کشمیری عوام کی جدوجہد کا بڑا بیانیہ پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔ “کشمیر کی آزادی کا بیانیہ پاکستان سے جڑا ہے” یہ بات جذباتی بحث نہیں، ایک تاریخی اور سیاسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ جو بھی اس ربط کو توڑ کر ایک نئی سمت گھڑنے کی کوشش کرتا ہے، وہ دراصل اجتماعی موقف کو کمزور کرتا ہے۔ ایسے نعرے سننے میں بھلے تیز لگیں، مگر نتیجہ اکثر یہی نکلتا ہے کہ دشمن کے ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں، اور اصل کاز عالمی سطح پر مزید مبہم دکھائی دینے لگتا ہے۔
اس لیے آج سب سے اہم کام یہ ہے کہ عوامی پلیٹ فارمز کو سیاسی کھیل سے بچایا جائے۔ جوائنٹ پیپلز ایکشن کمیٹی کو واضح کرنا ہوگا کہ یہ پلیٹ فارم عوام کی امانت ہے۔ “جوائنٹ پیپلز ایکشن کمیٹی عوامی پلیٹ فارم ہے، سیاسی کھیل نہیں” یہ اصول اگر کاغذ پر ہی نہ رہے بلکہ عمل میں بھی نظر آئے، تو ہر وہ شخص یا گروہ جو انتشار پھیلانا چاہتا ہے خود بخود بے نقاب ہو جائے گا۔ کمیٹی کے ذمہ داران کو نظم و ضبط قائم کرنا ہوگا، جلسوں میں نفرت انگیز نعرے روکنے ہوں گے، اور مطالبات کے عمل درآمد پر توجہ دینی ہوگی۔ ورنہ 99 فیصد منظوری کے بعد بھی ہنگامہ ایک سوالیہ نشان بن کر کمیٹی کی ساکھ پر بیٹھ جائے گا۔
“مطالبات پورے ہو گئے، پھر ہنگامہ کیوں” کا جواب اگر ہم نے وقت پر نہ دیا تو سازش کامیاب ہو سکتی ہے۔ “کشمیر کاز کو کمزور کرنے کی سازش ناکام بناؤ” یہ نعرہ بھی تبھی معنی رکھتا ہے جب ہم اپنی صفوں میں نظم، اتحاد، اور مقصد کی پاکیزگی رکھیں۔ “اتحاد ہماری طاقت ہے” یہ حقیقت ہر دور میں ثابت ہوئی ہے، اور آج بھی یہی ہماری ڈھال ہے۔ جو لوگ عوامی پلیٹ فارم پر انارکی کی زبان بولتے ہیں، وہ عوام کی خدمت نہیں کرتے، وہ صرف اپنے سیاسی مقاصد کے لیے لوگوں کو استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں ان کوششوں کو ناکام بنانا ہوگا، نہ غصے میں آ کر، نہ نفرت میں بہہ کر، بلکہ ہوش، دلیل، اور اتحاد سے۔
آخر میں بات سیدھی ہے۔ عوام کے مطالبات کا حصول ایک کامیابی ہے، اسے جشن بھی بننا چاہیے اور ذمہ داری بھی۔ مگر اس کامیابی کو نفرت، انتشار، اور غیر ذمہ دارانہ نعروں سے داغ دار نہ ہونے دیں۔ لوگوں کی قربانیوں کی یاد کو زندہ رکھیں، لوگوں کے درمیان دیواریں نہ کھڑی کریں۔ جو پلیٹ فارم عوامی مسائل کے لیے بنا، اسے عوامی ہی رہنے دیں۔ سیاست کرنی ہے تو اپنی جماعت کے جھنڈے تلے کریں، عوامی کمیٹی کے کندھے پر بندوق رکھ کر نہیں۔ اگر واقعی کشمیر کاز عزیز ہے تو اسے کمزور کرنے والی ہر سازش کو، چاہے وہ اندر سے ہو یا باہر سے، متحد ہو کر ناکام بنانا ہوگا۔
Author
-
اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
View all posts