Nigah

مہلت کے پردے میں گمراہی

[post-views]

عدالت پر اعتماد کسی ایک فیصلے یا ایک فریق کی جیت ہار سے نہیں بنتا، یہ اعتماد روزانہ کی چھوٹی چھوٹی دیانت داریاں مل کر بناتی ہیں۔ وکیل اس نظام میں صرف نمائندہ نہیں ہوتا، وہ عدالت کی معاونت کرنے والا افسر بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے جب کسی وکیل پر یہ الزام آئے کہ اس نے جان بوجھ کر عدالت کے سامنے غلط بات کہہ کر مہلت لی، تو معاملہ ایک فرد کی حرکت سے آگے بڑھ کر پورے نظام کی ساکھ پر اثر ڈالنے لگتا ہے۔ عام آدمی یہی سوچتا ہے کہ اگر عدالت کے سامنے بات بھی سچ نہ ہو تو پھر انصاف کا وزن کہاں رہ گیا۔

بیرسٹر سعد رسول کے بارے میں جو بات بیان کی جا رہی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر کے مہلت مانگی اور اس کی وجہ ایسی بتائی جس سے یہ تاثر ملا کہ وہ اسی دن کسی اور فورم پر پیش نہیں ہو سکتے۔ پھر اسی دن سپریم کورٹ میں سہراب برکت کی درخواست ضمانت کی سماعت میں ان کی حاضری کا ذکر سامنے آیا۔ اگر یہ ترتیب اور یہ دعویٰ درست ہے تو سوال بہت سیدھا ہے، کیا مہلت مانگتے وقت عدالت کو پوری حقیقت بتائی گئی تھی یا نہیں۔ اور اگر پوری حقیقت نہیں بتائی گئی تو یہ محض انتظامی چال نہیں، یہ عدالت کے ساتھ ناروا سلوک ہے۔

مہلت مانگنا بذات خود کوئی جرم نہیں۔ عدالتیں خود بھی جانتی ہیں کہ وکیل کے پاس ایک سے زیادہ مقدمات ہوتے ہیں، مختلف عدالتوں میں تاریخیں ٹکرا جاتی ہیں، سفر اور صحت کے مسائل بھی ہوتے ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب مہلت کی بنیاد سچ کے بجائے فریب بن جائے۔ عدالت مہلت اس لیے دیتی ہے کہ کارروائی منصفانہ رہے، فریق کو مناسب موقع ملے، اور کوئی حق ضائع نہ ہو۔ اگر وکیل اس سہولت کو جھوٹ کے ساتھ جوڑ دے تو پھر یہ سہولت نہیں رہتی، یہ نظام کی کمزوری پر حملہ بن جاتی ہے۔

عدالت میں سچ بولنے کی ذمہ داری صرف گواہ پر نہیں، وکیل پر بھی ہے۔ وکیل کا لفظی ہنر، قانونی حوالہ اور جرح کی مہارت سب اپنی جگہ، مگر بنیاد دیانت ہے۔ اگر وکیل عدالت کو جان بوجھ کر غلط تاثر دے کر وقت لے اور پھر اسی وقت کسی اور کارروائی میں پیش ہو جائے تو عدالت کے سامنے اس کے الفاظ کی قدر کم ہوتی ہے۔ پھر لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ قانون کیا کہتا ہے، وہ یہ دیکھتے ہیں کہ یہاں ہو کیا رہا ہے۔ اور اسی تاثر سے بداعتمادی جنم لیتی ہے۔

یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ایسے واقعات کا نقصان صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں رہتا۔ جب ایک وکیل کے بارے میں یہ تاثر پھیلتا ہے کہ وہ عدالت کو آسانی سے گمراہ کر سکتا ہے تو دوسرے وکیل بھی مشکوک نگاہ سے دیکھے جانے لگتے ہیں۔ جج صاحبان کے لیے بھی مشکل بڑھ جاتی ہے، کیونکہ انہیں ہر مہلت کی درخواست کو شک کی نظر سے دیکھنا پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو لوگ واقعی مجبوری میں مہلت مانگتے ہیں، ان کے لیے بھی راستہ تنگ ہو جاتا ہے۔ یوں ایک مبینہ غلط رویہ بہت سے سچے لوگوں کے لیے سزا بن جاتا ہے۔

اس نوعیت کے الزام پر جذباتی شور مچانا آسان ہے، مگر درست طریقہ یہ ہے کہ معاملہ ثبوت اور ریکارڈ کے ساتھ دیکھا جائے۔ اگر واقعی ایک عدالت میں مہلت کی وجہ بیان کی گئی اور اسی دن دوسری عدالت میں پیشی ہوئی، تو متعلقہ عدالتی ریکارڈ، حاضری کی تفصیل اور درخواست میں لکھی گئی وجہ سب سامنے آ سکتی ہیں۔ پھر سوال یہ ہوگا کہ کیا وکیل نے عدالت کو حقیقت بتائی، کیا اس نے کسی غلط فہمی کو جنم دیا، یا کیا واقعی ایسا تضاد موجود ہی نہیں۔ انصاف اسی میں ہے کہ الزام بھی ذمہ داری سے لگے اور جواب بھی ذمہ داری سے آئے۔

اگر تضاد ثابت ہو جائے تو پھر جواب دہی لازمی ہے۔ بار کونسل اور متعلقہ اداروں کے پاس ضابطہ اخلاق موجود ہے، اور اسی ضابطے کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ سزا کا فیصلہ غصے سے نہیں، اصول سے ہونا چاہیے۔ کبھی معذرت اور تنبیہ کافی ہوتی ہے، کبھی جرمانہ، اور کبھی سخت تادیب بھی ضروری ہو جاتی ہے۔ مقصد کسی شخص کی تذلیل نہیں، مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ عدالت کے سامنے سچ سے کھیلنے کی اجازت نہیں۔ جب نظام یہ پیغام واضح طور پر دے دیتا ہے تو پھر اس کی ہیبت اور وقار مضبوط ہوتا ہے۔

اس سارے معاملے کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے جو شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔ وکیل کو اپنی کامیابی اور اپنی مصروفیت کے ساتھ ساتھ اپنے پیشے کی عزت بھی بچانی ہوتی ہے۔ اگر وہ خود اپنے عمل سے یہ عزت کم کر دے تو پھر دلائل کی چمک بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔ عدالت میں دیانت نہ ہو تو قانونی مہارت محض چالاکی لگتی ہے۔ اور چالاکی کے سہارے نظام دیر تک نہیں چلتا، یہ نظام اصول کے سہارے چلتا ہے۔ اسی لیے ہر وکیل کے لیے یہ لمحہ سوچنے کا ہے کہ وہ عدالت میں جو بات کہتا ہے، وہ سچ کے ترازو میں پوری اترتی ہے یا نہیں۔

آخر میں بات اتنی ہے کہ انصاف کا نظام کاغذی نہیں، یہ کرداروں سے بنتا ہے۔ جج، وکیل، سرکاری نمائندے، اور شہری سب اس کے ستون ہیں۔ اگر کسی ستون میں دراڑ پڑے تو عمارت ہلتی ہے۔ بیرسٹر سعد رسول کے حوالے سے جو بات سامنے آئی ہے، اگر وہ درست ثابت ہو تو اس پر سنجیدہ، شفاف اور اصولی کارروائی ہونی چاہیے۔ اور اگر وہ درست نہیں تو پھر حقیقت اسی وضاحت کے ساتھ سامنے آنی چاہیے۔ دونوں صورتوں میں ایک بات طے ہے، عدالت کو گمراہ کرنا کسی بھی وکیل کے شایان شان نہیں، اور نظام کی عزت بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Author

  • ڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔