Nigah

نظم کی حفاظت، اسلام کی حفاظت

[post-views]

اسلام کا پیغام صرف عبادات تک محدود نہیں، وہ معاشرے کی تعمیر، امن، عدل اور اعتدال کے لیے بھی واضح رہنمائی دیتا ہے۔ جب معاشرہ نظم و ضبط سے خالی ہو جائے تو کمزور طبقہ سب سے پہلے روند دیا جاتا ہے، اختلاف نفرت میں بدلتا ہے، اور خیر کے نام پر شر کی راہیں کھلتی ہیں۔ اسی لیے اسلام اجتماعی زندگی میں قانون، نظم، اور ذمہ دارانہ طرز عمل کو بنیادی اہمیت دیتا ہے، تاکہ انسان اپنی اور دوسروں کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کر سکے، اور دین کی ساکھ بھی برقرار رہے۔

قرآن مجید نے واضح حکم دیا کہ اللہ کی اطاعت کرو، رسول ﷺ کی اطاعت کرو، اور ان کی بھی جو تم میں سے صاحب اختیار ہوں (سورہ النساء، آیت ۵۹)۔ اس آیت کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ اجتماعی نظم کے بغیر وحدت قائم نہیں رہتی۔ قانونی اتھارٹی کی اطاعت دراصل انتشار کے دروازے بند کرتی ہے۔ جب ہر شخص خود کو منصف، قاضی اور جلاد سمجھنے لگے تو ریاست کمزور اور معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسلام کی نظر میں ایسے حالات فتنہ ہیں، اور فتنہ صرف ہنگامہ نہیں، وہ دلوں کی تڑپ، خوف کی فضا، اور مسلسل بے یقینی کا نام بھی ہے۔

اسی تناظر میں بغاوت، مسلح جتھوں کی سیاست، اور مذہب کے نام پر خود ساختہ نفاذ، سب معاشرتی استحکام کے لیے زہر ہیں۔ جو لوگ نظم توڑ کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اصلاح کر رہے ہیں، وہ اکثر عوامی جان و مال کی حرمت کو پامال کر بیٹھتے ہیں۔ اسلام اصلاح ضرور چاہتا ہے، مگر اصلاح کا راستہ ذمہ داری، حکمت اور قانون کے اندر رہ کر ہے، نہ کہ طاقت کے زور پر۔ اگر ہر گروہ اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنے نکل کھڑا ہو تو نتیجہ دین کی سربلندی نہیں، دین کی بدنامی اور قوم کی کمزوری ہوتا ہے۔

قرآن نے جنگ اور کشمکش کے حالات میں بھی حد سے بڑھنے سے منع کیا ہے (سورہ البقرہ، آیت ۱۹۰)۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ حق کی بات کرتے ہوئے بھی تجاوز ممنوع ہے۔ غصہ، انتقام اور گروہی جوش اگر حد بن جائے تو عبادت بھی فساد میں بدل سکتی ہے۔ اسلام تو یہ سکھاتا ہے کہ دشمنی بھی انصاف سے نہ ہٹائے، اور طاقت کا استعمال بھی اخلاقی قید کے اندر ہو۔ جب شدت پسند بیانیہ لوگوں کو یہ پڑھاتا ہے کہ مقصد بڑا ہے تو ہر طریقہ جائز ہے، وہ دراصل قرآن کی اس بنیادی شرط کو توڑ دیتا ہے کہ ظلم اور زیادتی کسی حال میں درست نہیں۔

اسلام نے امت کو اعتدال کی پہچان دیا، یعنی ایک درمیانی، متوازن قوم (اُمۃً وسطاً) (سورہ البقرہ، آیت ۱۴۳)۔ یہ وصف محض تعارف نہیں، یہ ذمہ داری ہے۔ متوازن امت وہ ہے جو جذبات اور عقل، حقوق اور فرائض، فرد اور جماعت، سب میں توازن رکھتی ہے۔ شدت پسندی اس توازن کو توڑتی ہے، پھر ہر معاملہ سیاہ اور سفید میں بانٹا جاتا ہے۔ یا تو ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف۔ یہی تقسیم معاشرے کو نفرت، شک اور مسلسل ٹکراؤ کی طرف دھکیلتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسجد، مدرسہ، بازار، سب جگہ خوف کا سایہ گہرا ہو جاتا ہے۔

اصل اسلام کی بنیاد رحم، عدل اور حکمت پر ہے۔ قرآن کا اصولی اعلان ہے کہ اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے (سورہ النحل، آیت ۹۰)۔ عدل کا مطلب یہ ہے کہ قانون سب پر یکساں ہو، حق دار کو حق ملے، اور کمزور کی داد رسی ہو۔ احسان کا مطلب یہ ہے کہ طاقت ہو تو بھی نرم دلی ہو، خطا ہو تو اصلاح ہو، اور اختلاف ہو تو شائستگی ہو۔ حکمت کا مطلب یہ ہے کہ فیصلے جذبات کی دھار پر نہیں، علم اور بصیرت کی روشنی میں ہوں۔ جب کوئی گروہ دین کے نام پر بے رحمی، تنگ نظری اور تشدد کو شعار بنا لے تو وہ اسلام کی روح سے دور ہو جاتا ہے، چاہے وہ زبان پر کتنے ہی نعرے لگا لے۔

شدت پسند تحریکیں اکثر مذہبی نصوص کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرتی ہیں۔ وہ چند جملوں کو نعرہ بنا کر عوام کو جذباتی کرتی ہیں، اور پھر سیاسی بغاوت یا تشدد کو دینداری کا معیار بنا دیتی ہیں۔ حالانکہ دین کا معیار اخلاق، عبادت، اور ذمہ دارانہ کردار ہے۔ جو شخص سچائی، امانت، اور قانون کی پاسداری چھوڑ دے، وہ محض دعوؤں سے نیک نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح جو گروہ ریاستی نظم کو توڑ کر خود کو دین کا محافظ کہتا ہے، وہ عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دین کی اخلاقی ساکھ بھی کمزور کرتا ہے۔

یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ایمان کا تقاضا صرف انفرادی نیکی نہیں، شہری ذمہ داری بھی ہے۔ سچا دین نظم، جواب دہی اور ذمہ دار شہریت کو فروغ دیتا ہے۔ ٹریفک قانون کی پابندی، عوامی املاک کی حفاظت، کمزور پر ہاتھ نہ اٹھانا، اور اختلاف میں بھی زبان کا ادب، یہ سب دین کے دائرے میں آتا ہے۔ جب مسلح گروہ دھمکی، اغوا یا قتل کو جائز ٹھہراتے ہیں تو وہ صرف قومی سلامتی کو نقصان نہیں پہنچاتے، وہ مذہب کے نام کو بھی لوگوں کے دلوں میں مشکوک بنا دیتے ہیں۔ اس سے نئی نسل میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے، اور دین کا روشن چہرہ دھندلا پڑتا ہے۔

اہل سنت کے بڑے بڑے علما اور مرکزی علمی روایت نے ہمیشہ چوکسی کے نام پر خودسری، اور قانون سے باہر اٹھ کھڑے ہونے کو رد کیا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی فرد یا گروہ عدالت، پولیس اور ریاست کی جگہ لے لے۔ اسلام میں خیر خواہی ہے، نصیحت ہے، دعوت ہے، اور اصلاح کے لیے حکمت کے دروازے ہیں۔ لیکن خود ساختہ سزا، عوامی عدالتیں، اور بندوق کے زور پر فیصلے، یہ سب فساد کی شکلیں ہیں۔ اگر ایسی روش کو قبول کر لیا جائے تو کل ہر شخص اپنی تفسیر کے مطابق دوسرے کو کافر، باغی یا مجرم قرار دے کر خون بہانے لگے گا۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نظم کی حفاظت اور متوازن اسلام کی پاسداری ایک ہی مقصد کے دو رخ ہیں۔ جب معاشرہ نظم سے مضبوط ہوگا تو دعوت کا کام بھی محفوظ ہوگا، تعلیم بھی بڑھے گی، اور عبادت بھی سکون سے ہوگی۔ اور جب اسلام کو اعتدال، رحم اور عدل کے ساتھ سمجھا اور سکھایا جائے گا تو شدت پسند بیانیہ کمزور پڑے گا۔ یہی راستہ روحانی پاکیزگی بھی بڑھاتا ہے اور سماجی ہم آہنگی بھی۔ ہمیں دین کو فساد کے ہتھیار کے طور پر نہیں، اصلاح کے چراغ کے طور پر تھامنا ہے، تاکہ ایمان بھی محفوظ رہے اور معاشرہ بھی۔

Author

  • ڈاکٹر اکرام احمد

    اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔