Nigah

نیویارک میں قتل کا منصوبہ

[post-views]

امریکی وفاقی عدالت میں نکھل گپتا کا جرم قبول کرنا صرف ایک فوجداری مقدمہ نہیں، یہ ریاستی طاقت کے استعمال اور اس کی حدوں پر ایک سخت سوال ہے۔ استغاثہ کے مطابق گپتا نے قتل برائے کرایہ، قتل برائے کرایہ کی سازش، اور منی لانڈرنگ کی سازش کے الزامات میں قصور تسلیم کیا، اور ہدف نیویارک میں مقیم ایک امریکی شہری تھا۔ (Department of Justice) یہ خبر بظاہر ایک ناکام منصوبے کی کہانی ہے، مگر اصل کہانی اس سے بڑی ہے، کہ جب سرحدوں سے باہر مخالف آوازوں کو خاموش کرانے کی سوچ پالیسی بن جائے تو عالمی نظام میں اعتماد کیسے بچے گا۔

استغاثہ کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ وکاس یادو کی ہدایت اور رابطہ کاری سے آگے بڑھا، اور امریکی حکام نے یادو کو بھارتی حکومت کا ملازم قرار دیا۔ (Department of Justice) مزید یہ بھی کہا گیا کہ یادو کابینہ سیکرٹریٹ سے وابستہ تھا اور اسے بھارت کی بیرونی خفیہ ایجنسی، ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ، سے جوڑا گیا۔ (Reuters) اگر یہ تصویر درست ہے تو سوال یہ نہیں کہ ایک فرد نے کیا کیا، سوال یہ ہے کہ ریاستی ڈھانچے میں ایسے فیصلوں کو اجازت کہاں سے ملتی ہے، اور کن نگرانی کے نظاموں نے یا تو آنکھ بند رکھی یا ناکام رہے۔

اس مقدمے میں سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ مبینہ طور پر ہدف کے بارے میں حساس ذاتی معلومات، پتے، فون نمبرز اور معمولات تک فراہم کیے گئے، اور منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے نگرانی کا مواد بھی منتقل کیا گیا۔ (Department of Justice) قتل کی قیمت ایک لاکھ ڈالر بتائی گئی، اور پندرہ ہزار ڈالر کی پیشگی رقم کا انتظام بھی سامنے آیا۔ (Reuters) یہ سب کچھ کسی فلمی اسکرپٹ کی طرح لگتا ہے، مگر یہاں فرق یہ ہے کہ فلم میں قانون آخر میں ہیرو بنتا ہے، جبکہ حقیقی دنیا میں قانون کو ہی پہلے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب کسی ملک میں رہنے والا شہری اپنی رائے یا سیاسی موقف کی وجہ سے بیرونی طاقت کی فہرست میں آ جائے تو آزادی اظہار ایک نعرہ رہ جاتی ہے، حفاظت ایک اتفاق بن جاتی ہے۔

اس کیس کی دوسری اہم پرت وہ طریقہ ہے جس سے حملہ روکا گیا۔ گپتا نے جس آدمی کو کرائے کا قاتل سمجھا، وہ دراصل خفیہ ذریعہ اور پھر خفیہ کارروائی میں شامل افسر نکلا، اور یوں منصوبہ عمل میں آنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ (Reuters) یہ کامیابی یقیناً قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت دکھاتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اگر ایک کارروائی پکڑی گئی ہے تو ضروری نہیں کہ باقی کوششیں بھی اتنی ہی آسانی سے سامنے آ جائیں۔ خفیہ آپریشنز کی دنیا میں ناکامی زیادہ شور مچاتی ہے، کامیابی اکثر خاموش رہتی ہے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ ریاستیں اپنی قومی سلامتی کے نام پر بہت کچھ کرتی ہیں، اور بعض تحریکوں کو وہ دہشت گردی سے جوڑتی ہیں۔ یہ بحث اپنی جگہ، مگر یہاں معاملہ کسی جنگی محاذ کا نہیں، ایک شہری کے قتل کی منصوبہ بندی کا ہے، وہ بھی دوسرے ملک کی سرزمین پر۔ ریاستی مفادات کی زبان جتنی بھی سخت ہو، بین الاقوامی اصولوں کی بنیاد یہی ہے کہ خودمختاری اور قانون کی بالادستی کو پامال کیے بغیر اختلاف سے نمٹا جائے۔ ورنہ پھر ہر طاقتور ملک کو یہ جواز مل جائے گا کہ وہ اپنی فہرستیں بنائے اور دنیا بھر میں “سزائیں” بانٹتا پھرے۔ اس کے بعد کمزور ریاستیں کیا بچائیں گی، اپنی سرحدیں یا اپنے شہری؟

اس مقدمے نے امریکا اور بھارت کے تعلقات پر بھی دباؤ بڑھایا ہے، کیونکہ یہ الزام محض ایک فرد پر نہیں، ایک ریاستی ملازم کے کردار پر ہے۔ (Reuters) یہی وجہ ہے کہ “یہ کسی ایک شخص کی غلطی تھی” والا بیانیہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک شفاف احتساب نہ ہو، اور یہ واضح نہ کیا جائے کہ فیصلے کی زنجیر کہاں تک جاتی ہے۔ اگر واقعی یہ غیر رسمی، خود سر اور غیر مجاز اقدام تھا تو پھر ایسے افراد تک رسائی، وسائل، اور بین الاقوامی رابطوں کا انتظام کیسے ہوا؟ اور اگر یہ سوچ کسی حد تک ادارہ جاتی تھی تو پھر ذمہ داری کا تعین محض نچلی سطح پر نہیں رک سکتا۔

آخر میں، اس کیس کی علامتی اہمیت شاید اس کے قانونی انجام سے بھی بڑھ کر ہے۔ گپتا چیک جمہوریہ میں گرفتار ہوا اور پھر امریکا کے حوالے کیا گیا، جبکہ یادو پر فرد جرم برقرار ہے مگر وہ تاحال گرفتار نہیں ہوا۔ (Reuters) یہ فرق ہمیں بتاتا ہے کہ عالمی انصاف میں طاقت، رسائی، اور سفارت کاری کیسے راستے بناتی اور بند کرتی ہے۔ پھر بھی، یہ مقدمہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ سرحد پار دباؤ، دھمکی اور قتل کی کوششوں کو “معمول کی چالاکی” سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر دنیا واقعی آزادی اظہار اور ریاستی خودمختاری کو سنجیدہ لیتی ہے تو ایسے کیسز کو محض خبروں کی سرخی نہیں، اصولی موڑ سمجھنا ہوگا، اور اسی اصول پر کھڑا ہونا ہوگا، چاہے ملزم کسی بھی ملک سے ہو اور اس کے پشت پر کتنی ہی طاقت کیوں نہ محسوس ہوتی ہو۔

Author

  • munir nigah

    ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔