Nigah

پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا نیا پیمانہ

[post-views]

پاکستان میں احتساب اور شفافیت پر بات ہمیشہ ہوتی رہی ہے، مگر مسئلہ بات کی کمی نہیں، پیمائش اور عمل کی کمی ہے۔ ہر کچھ عرصے بعد عالمی ادارے گورننس، بدعنوانی اور شفافیت کی درجہ بندی جاری کرتے ہیں، میڈیا میں شور مچتا ہے، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ ان عالمی اشاریوں کی افادیت اپنی جگہ، مگر وہ پاکستان کے اندر اصلاحات کے لیے کم رہنمائی دیتے ہیں، کیونکہ ان کا زور بین الاقوامی رینکنگ پر ہوتا ہے، مقامی اداروں کے اندر مسئلے کے اصل مقامات پر نہیں۔ اسی خلا میں “آئی ٹی اے پی” یعنی پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا مقامی اشاریہ ایک عملی قدم بن کر سامنے آتا ہے، جو بحث کو نعروں سے نکال کر شواہد اور اصلاحی راستوں کی طرف لے جا سکتا ہے۔

آئی ٹی اے پی کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ “تاثر” اور “حقیقی تجربے” کو الگ الگ دیکھتا ہے۔ پاکستان میں بدعنوانی کے بارے میں تاثر اکثر بہت سخت ہوتا ہے، اور اس میں سیاست، میڈیا کی رپورٹس، سوشل میڈیا کے بیانیے، اور عوام کی مجموعی مایوسی سب شامل ہوتی ہے۔ مگر تاثر ہمیشہ ذاتی تجربہ نہیں ہوتا۔ اگر پالیسی صرف تاثر کی بنیاد پر بنے تو اکثر دکھاوے کی کارروائیاں شروع ہو جاتی ہیں، جس سے نظام کے اصل کمزور مقامات ٹھیک نہیں ہوتے۔ آئی ٹی اے پی اس فرق کو سامنے لا کر یہ موقع دیتا ہے کہ ہم دیکھ سکیں کہ عوام کیا سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ حقیقت میں کیا ہوتا ہے، پھر اسی بنیاد پر ادارہ جاتی اصلاحات کی سمت طے کی جائے۔

اس اشاریے کی طاقت اس کے طریقہ کار میں بھی ہے۔ اس سروے کو مضبوط بنانے کے لیے اِپسوس اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی تکنیکی معاونت شامل کی گئی، ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے روبرو انٹرویوز اور کمپیوٹر اسسٹڈ پرسنل انٹرویوز کا طریقہ اپنایا گیا، اور پاکستان ڈیجیٹل مردم شماری 2024 کو بنیاد بنا کر ملٹی اسٹیج پروبیبلیٹی سیمپلنگ کی گئی۔ چھ ہزار سے زائد افراد، بیاسی اضلاع اور ایک سو پچانوے تحصیلوں تک پھیلا ہوا نمونہ، مرد و خواتین کی مساوی نمائندگی، اور شہری و دیہی آبادی کی شمولیت، یہ سب اس بات کو مضبوط کرتے ہیں کہ نتائج کو محض رائے یا اندازہ کہہ کر رد کرنا آسان نہیں رہے گا۔ اگر یہی پیمانہ باقاعدگی سے دہرایا جائے تو یہ وقت کے ساتھ رجحانات اور بہتری یا خرابی کی واضح تصویر دے سکتا ہے۔

آئی ٹی اے پی نے اداروں کے انتخاب میں بھی ایک حقیقت پسندانہ راستہ اپنایا۔ بدعنوانی کی بحث اکثر عمومی الفاظ میں ہوتی ہے، مگر شہری کا اصل مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب اسے روزمرہ خدمات کے لیے سرکاری دفتر جانا پڑتا ہے۔ اسی لیے ان اداروں کو شامل کیا گیا جن سے عوام کا رابطہ زیادہ ہوتا ہے، جیسے پولیس، نادرا، ٹریفک پولیس، عدلیہ، واپڈا اور ڈسکوز، سرکاری تعلیم، سرکاری اسپتال، سوئی گیس کے ادارے، بلدیاتی خدمات، انتظامی دفاتر (اے سی، ڈی سی)، پاسپورٹ خدمات، ایکسائز، ایف بی آر، اور زمین کے ریکارڈ کا نظام۔ اس فہرست کا فائدہ یہ ہے کہ اصلاحات کا ہدف بھی واضح رہتا ہے، کیونکہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں تاخیر، سفارش، اور غیر ضروری رکاوٹیں لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں۔

ڈیٹا سے جو تصویر بنتی ہے وہ ایک ساتھ تشویشناک بھی ہے اور امید دلانے والی بھی۔ ایک طرف بدعنوانی کے بارے میں تاثر بہت بلند ہے، دوسری طرف حقیقی تجربات کی شرح نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے لوگ رشوت، اقربا پروری اور ناجائز دولت کو عام سمجھتے ہیں، مگر ذاتی طور پر ان کا سامنا کم تعداد میں ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلہ ختم ہو گیا ہے، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ عوامی ذہن میں بداعتمادی بہت گہری ہے، اور نظام کے کچھ حصے یا کچھ مخصوص نوعیت کے معاملات لوگوں کے تجربے کو بگاڑ رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اکثریت نے بتایا کہ اداروں سے رابطے میں انہیں کسی بدعنوانی کے عمل کا تجربہ نہیں ہوا۔ یہ نتیجہ اگر درست طور پر سمجھا جائے تو یہ ایک قیمتی موقع ہے، کیونکہ اس سے پتا چلتا ہے کہ بہتری کی بنیاد موجود ہے، مگر اسے نمایاں اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

یہاں ایک اہم سوال اٹھتا ہے، اگر لوگ اکثر بدعنوانی کا تجربہ نہیں کرتے تو پھر تاثر اتنا خراب کیوں ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ چند منفی واقعات بہت زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں اور پورے نظام کی ساکھ کھا جاتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ بعض معاملات میں بدعنوانی براہ راست “رشوت کی طلب” کی شکل میں نہیں آتی بلکہ غیر ضروری تاخیر، فائل کا اٹکنا، یا ایجنٹ اور درمیانی آدمی کے ذریعے کام کروانے کی روایت بن جاتی ہے۔ ایسے میں شہری کو لگتا ہے کہ صاف راستہ موجود ہی نہیں، اور یہی احساس تاثر کو مزید خراب کرتا ہے۔ اسی لیے اصلاحات کو صرف گرفتاریوں یا بڑے بیانات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ عمل، طریقہ کار، اور شہری کے تجربے کی سطح پر ٹھوس تبدیلی لانی چاہیے۔

آئی ٹی اے پی کا ایک اور اہم پہلو عوامی آگاہی اور اداروں سے رابطے کا ڈیٹا ہے۔ اگر احتسابی اداروں کے بارے میں پہچان موجود ہو مگر لوگ ان سے رابطہ نہ کریں تو اس کا مطلب ہے کہ شکایت کا نظام قابل اعتماد نہیں سمجھا جا رہا۔ اسی طرح اگر حق معلومات کے قوانین یا مخبر کے تحفظ کے قوانین سے عوام کی واقفیت کم ہو تو شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں، اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ خلا صرف قانون بنانے سے نہیں بھرتا، اس کے لیے سادہ زبان میں آگاہی، محفوظ شکایتی چینل، اور فوری نتیجہ دکھانا ضروری ہے، ورنہ قوانین کاغذ پر رہ جاتے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ آئی ٹی اے پی جیسا مقامی اشاریہ پاکستان کو ایک ایسا آئینہ دے سکتا ہے جس میں تصویر زیادہ صاف اور زیادہ قابل عمل ہو۔ اگر اسے باقاعدگی سے دہرایا جائے، صوبہ، ضلع اور تحصیل کی سطح تک نتائج سامنے لائے جائیں، اور ہر ادارے کے لیے واضح اصلاحی اہداف مقرر ہوں تو یہ اشاریہ محض رپورٹ نہیں رہے گا، ایک نظامِ احتساب بن جائے گا۔ پھر مقابلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، کون سا ادارہ کم شکایات، زیادہ اطمینان، اور زیادہ شفاف عمل کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ یہی “صحیح مقابلہ” عوام کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا اور ریاستی اداروں کے لیے بھی۔

آخر میں، پاکستان کے لیے اگلا مرحلہ یہ نہیں کہ ہم بار بار ثابت کریں کہ بدعنوانی موجود ہے۔ اگلا مرحلہ یہ ہے کہ ہم ناپیں، کہاں ہے، کس شکل میں ہے، کس سطح پر زیادہ ہے، اور کون سی اصلاحات واقعی فرق ڈالتی ہیں۔ آئی ٹی اے پی اسی سمت میں ایک سنجیدہ قدم ہے۔ اگر اسے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے بچا کر ایک مستقل، شفاف اور ادارہ جاتی اصلاحات کے آلے کے طور پر رکھا گیا تو یہ پاکستان کے لیے اعتماد بحال کرنے اور بہتر عوامی خدمات کی طرف حقیقی پیش رفت کا راستہ بن سکتا ہے۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔