پاکستان میں امت کی وحدت پر گفتگو اکثر جذباتی نعروں میں گم ہو جاتی ہے، حالانکہ اسلام نے اسے واضح دینی ذمہ داری بنا کر پیش کیا ہے۔ قرآن کہتا ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (سورۃ الحجرات 49:10)، یعنی ایمان والوں کا رشتہ بنیادی طور پر بھائی چارے کا رشتہ ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے تکفیر کے دروازے کو سختی سے بند کیا اور خبردار کیا کہ جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہے، یہ بات پلٹ کر انہی دونوں میں سے ایک پر لوٹتی ہے (صحیح بخاری، 6103)۔ یہ صرف اخلاقی نصیحت نہیں، یہ اجتماعی امن کا اصول ہے۔ جب زبانیں کفر کے فتووں میں تیز ہوں تو دل نفرت میں سخت ہوتے ہیں، اور پھر تشدد کے لیے ذہنی جواز تیار ہو جاتا ہے۔
آج کا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں شدت پسندی کی بہت سی شکلیں اب جنگی حالات میں نہیں، بلکہ معمول کی زندگی کے اندر پنپتی ہیں۔ مسجد کے باہر نہیں تو موبائل کی سکرین پر، میدان جنگ میں نہیں تو تبصروں اور گروپ چیٹس میں، اور ہتھیار کے بجائے شناخت کے لیبل کے ذریعے۔ فرقہ وارانہ بیانیہ نوجوان کو یہ سکھاتا ہے کہ “ہم” ہی اصل اسلام ہیں اور “وہ” مشکوک ہیں۔ یہیں سے تکفیر، تحقیر، اور پھر سماجی بائیکاٹ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جب کسی کو مسلسل بتایا جائے کہ وہ امت کے دائرے سے باہر ہے تو ردعمل میں وہ یا تو خاموشی اور گوشہ نشینی اختیار کرتا ہے یا پھر کسی سخت، بند، اور انتقامی گروہ کے لیے آسان ہدف بن جاتا ہے۔
اسی بدلتے ہوئے منظرنامے کے جواب میں ریاستی پالیسی میں بھی تبدیلی نظر آتی ہے۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق حکومت نے قومی سطح پر نیشنل پریوینشن آف وائلنٹ ایکسٹریمزم پالیسی کی منظوری 30 جنوری 2025 کو دی، اور اس فریم ورک میں پانچ ستون یا پانچ آر کا طریقہ اپنایا گیا ہے، یعنی Revisit، Reach Out، Reduce Risk، Reinforce، Reintegrate۔ (nacta.gov.pk) یہ فریم ورک دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ صرف ردعمل پر مبنی سکیورٹی کارروائیاں کافی نہیں، اصل جنگ بیانیے، سماجی ماحول، اور ذہنی کمزوریوں کے خلاف ہے۔ امت کی وحدت یہاں صرف مذہبی نعرہ نہیں رہتی، یہ ایک حفاظتی دیوار بن جاتی ہے جسے مضبوط کرنا قومی مفاد بھی ہے۔
پالیسی کا Revisit ستون بنیادی جگہ پر ضرب لگاتا ہے، یعنی تعلیم اور مذہبی گفتگو۔ اگر نصاب، خطبات، یا کلاس روم میں نفرت آمیز اشارے باقی رہیں تو پھر امن کی مہم محض پوسٹر بن کر رہ جاتی ہے۔ یہاں سورۃ الحجرات کا حکم “بھائی بھائی” کی سطح پر عملی شکل اختیار کرتا ہے، یعنی اختلاف کو علمی اختلاف کی حد تک رکھا جائے، اور بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ فقہی تنوع امت کا تاریخی سرمایہ ہے، دشمنی کی دلیل نہیں۔ یہ کام صرف ریاستی حکم سے نہیں ہوگا، اس کے لیے اساتذہ، مدرسین، اور مسجد کے منبر کو ایک اخلاقی ضابطے پر کھڑا کرنا ہوگا، جس میں تکفیر کو “رائے” نہیں بلکہ “فتنہ” سمجھا جائے۔
Reach Out ستون خاص طور پر ڈیجیٹل فضا میں فرقہ وارانہ پروپیگنڈے کا جواب ہے۔ یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ صرف مواد دیکھتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ مواد انہیں شناخت کا جنگجو ورژن بیچتا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے حوالے سے مئی 2025 میں یہ رپورٹ ہوا کہ ایک اعشاریہ تین ملین سے زائد غیر قانونی یو آر ایل بلاک کیے گئے، جن میں نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد بھی شامل تھا۔ (ProPakistani) بلاکنگ اکیلا حل نہیں، مگر یہ ابتدائی بند ہے، تاکہ تکفیر کے کلپس، فرقہ وارانہ “کٹ آؤٹ” حوالہ جات، اور سازشی مواد نوجوان تک بغیر رکاوٹ نہ پہنچے۔ اصل ضرورت ساتھ ساتھ مثبت بیانیے کی ہے، جو دلیل، اخلاق، اور مشترکات پر کھڑا ہو، صرف ردعمل پر نہیں۔
پاکستان میں “پیغام پاکستان” اسی مثبت، متحد اور فقہی طور پر ذمہ دار بیانیے کی مثال ہے۔ بین المسالک سطح پر 1829 علما کی توثیق کے ساتھ یہ واضح کیا گیا کہ دہشت گردی اور خودکش حملے اسلام کے خلاف ہیں، اور جہاد جیسے معاملات فرد کا نجی اختیار نہیں بلکہ ریاستی اور قانونی دائرے میں ہیں۔ (The News International) اس دستاویز کی اصل قدر یہاں ہے کہ یہ تکفیر کو “گلی محلے” کی سطح پر آزاد نہیں چھوڑتی۔ جب ہر شخص دوسرے کے ایمان پر عدالت لگائے گا تو امت ٹکڑوں میں بٹتی جائے گی، اور یہی وہ شگاف ہے جس میں انتہا پسند نیٹ ورک اپنی بھرتی کے بیج ڈالتے ہیں۔
Reduce Risk اور Reinforce ستون ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ Reduce Risk کا مطلب یہ ہے کہ سخت گیری، سماجی کٹاؤ، اور دشمنانہ گفتگو کو “ابتدائی علامت” سمجھا جائے، نہ کہ “بعد میں دیکھیں گے” والا معاملہ۔ اس میں والدین، اساتذہ، اور کمیونٹی لیڈرز کی تربیت اہم ہے، تاکہ وہ وقت پر بات کر سکیں، سوال سن سکیں، اور نوجوان کو عزت کے ساتھ واپس مکالمے میں لا سکیں۔ Reinforce کا رخ معاشرتی لچک کی طرف ہے، یعنی نوجوان کے پاس شناخت کے لیے صرف فرقہ وارانہ خانہ نہ ہو۔ ثقافت، کھیل، ادب، رضاکارانہ کام، اور بین المسالک مکالمہ، یہ سب اس شناخت کو وسیع کرتے ہیں۔ جب شناخت وسیع ہوتی ہے تو شدت پسندوں کی “صرف ایک سچ” والی پیشکش کمزور پڑ جاتی ہے۔
فرقہ وارانہ شدت پسندی کا ایک زہریلا پہلو “زبردستی شناخت کی نگرانی” ہے، یعنی ہر جگہ دوسرے سے یہ پوچھنا کہ تم کون ہو، کس کے ماننے والے ہو، اور پھر اسی بنیاد پر عزت یا نفرت تقسیم کرنا۔ یہ رویہ نہ اسلامی اخلاق کے مطابق ہے نہ ریاستی نظم کے لیے مفید۔ یہ لوگوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیتا ہے، اور دیوار کے ساتھ کھڑا آدمی اکثر یا تو ٹوٹ جاتا ہے یا بھڑک جاتا ہے۔ یہاں قانون، ضابطہ، اور باعزت عمل داری ضروری ہے، تاکہ ہر شہری کو یہ اعتماد ملے کہ اس کی مذہبی شناخت اسے خطرے میں نہیں ڈالے گی، اور اختلاف کی سزا سماجی موت نہیں بنے گی۔
Reintegrate ستون اس پورے بیانیے کو اخلاقی انجام دیتا ہے۔ اسلام توبہ، اصلاح، اور رحمت کو مرکزی جگہ دیتا ہے، اسی لیے جو لوگ غلط فہمی، دباؤ، یا پروپیگنڈے کے ذریعے بھٹک گئے ہوں، ان کے لیے واپسی کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کے کچھ ڈی ریڈیکلائزیشن اور ری ہیبیلیٹیشن پروگراموں پر تحقیق میں سباؤون اور مشال جیسے مراکز کا ذکر ملتا ہے، جہاں بحالی، نفسیاتی مدد، تعلیم، اور سماجی واپسی پر کام کیا جاتا ہے۔ (NUST Journal of Peace & Stability) یہ مراکز اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ مسئلہ صرف “سزا” نہیں، مسئلہ “ذہن کی مرمت” بھی ہے، تاکہ دوبارہ وہی نفرت نیا چہرہ بنا کر واپس نہ آئے۔
آخر میں بات سادہ ہے۔ امت کی وحدت پاکستان میں صرف مذہبی معاملہ نہیں، یہ داخلی امن اور قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہے۔ جب سماج میں باہمی اعتماد، مشترکہ شناخت، اور اختلاف کے آداب مضبوط ہوں تو انتہا پسندوں کے لیے بھرتی کی زمین خشک ہو جاتی ہے۔ NPVE جیسا فریم ورک اسی سمت اشارہ کرتا ہے کہ ہم نفرت کے بعد دھوئیں کی طرف نہیں، دھوئیں سے پہلے چنگاری کی طرف دیکھیں۔ (nacta.gov.pk) اگر ہم تکفیر کو دینی غیرت سمجھنے کے بجائے دینی فساد سمجھ لیں، اور اختلاف کو دشمنی بنانے کے بجائے علمی تنوع مان لیں، تو پاکستان میں امت کی وحدت صرف وعظ نہیں رہے گی، ایک زندہ سماجی حقیقت بن جائے گی۔
Author
-
اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
View all posts