Nigah

پاکستان کی موسمیاتی کمزوری

[post-views]

پاکستان کی آب و ہوا سے جڑی کمزوری کوئی نظری بحث نہیں رہی، یہ روزمرہ حقیقت ہے جو سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے جیسے خطرات کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ تلخ سچ یہ ہے کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج میں ایک فی صد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، مگر نقصان کا بوجھ کہیں زیادہ اٹھاتا ہے۔ اس عدم توازن نے پاکستان کو محض شکایت کرنے والی ریاست نہیں بنایا، بلکہ ایک ایسی ریاست کی طرف دھکیلا ہے جو بقا کے تقاضوں کے تحت موسمیاتی موافقت، لچک، اور آفات کے خطرے میں کمی کو قومی ترقی کے ساتھ جوڑنے پر مجبور ہے۔

پاکستان کا موسمیاتی سفر نئی بات نہیں۔ 1994 میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کی توثیق کے بعد، اور پھر پیرس معاہدے کے تحت مسلسل شمولیت نے ایک سمت متعین کی۔ اسی تسلسل میں نیشنل کلائمیٹ چینج پالیسی نے توانائی، پانی، زراعت، جنگلات، اور ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ جیسے شعبوں میں مربوط سوچ کی بنیاد رکھی۔ یہ محض کاغذی حکمت عملی نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبہ بندی میں اب سوال صرف یہ نہیں کہ کیا بنانا ہے، سوال یہ بھی ہے کہ اسے سیلاب، گرمی کی لہروں، پانی کی قلت، اور غیر یقینی موسموں کے جھٹکوں میں کیسے قائم رکھنا ہے۔

پاکستان میں آفات کا انتظام اب ہنگامی ردعمل تک محدود نہیں رہا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے تحت پالیسیوں اور مالیاتی اوزاروں نے خطرے پر مبنی فریم ورک کو مضبوط کیا ہے، جس کا زور روک تھام، پیشگی تیاری، اور لچک بڑھانے پر ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں آب و ہوا اور ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن ایک دوسرے میں گتھ جاتے ہیں۔ اگر کسی شہر کی نکاسی آب کمزور ہے تو سیلاب صرف پانی کا مسئلہ نہیں رہتا، یہ صحت، تعلیم، معیشت اور سماجی نظم کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ترقیاتی عمل میں موسمیاتی خطرات کو شروع ہی سے شامل کرنا اب کوئی اضافی اچھائی نہیں، بنیادی ضرورت ہے۔

اس پوری تصویر میں پانی مرکزی کردار ادا کرتا ہے، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سرحد پار عوامل خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت اور خوراک کا دار و مدار دریائی نظام پر ہے، اس لیے بالائی علاقوں میں پانی کے انتظام سے جڑی پالیسیاں، اور انڈس واٹرز ٹریٹی کی مبینہ خلاف ورزیاں، موسمیاتی خطرات کے ساتھ مل کر نقصان کی شدت بڑھا دیتی ہیں۔ جب بہاؤ میں غیر یقینی ہو، ذخائر دباؤ میں ہوں، اور موسم بھی اپنی روایتی حدیں توڑ رہا ہو تو ایک ہی جھٹکا کئی شعبوں کو گرا دیتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کے لیے موسمیاتی کمزوری صرف مقامی موسم کا مسئلہ نہیں، یہ انسانی سلامتی اور قومی خودمختاری سے جڑا ہوا سوال ہے۔

حکومت کی جانب سے توانائی کی سمت میں تبدیلی کو بھی اسی زاویے سے دیکھنا چاہیے۔ اگر قومی توانائی مکس میں صاف اور قابل تجدید ذرائع کا حصہ تقریباً پینتیس فی صد تک پہنچ رہا ہے تو یہ صرف اخراج کم کرنے کا قدم نہیں، یہ آفات کے دوران توانائی کی دستیابی کا سوال بھی ہے۔ سیلاب یا شدید گرمی کے دنوں میں بجلی کی فراہمی پانی کی پمپنگ، اسپتالوں، مواصلاتی نظام، اور ہنگامی مراکز کے لیے زندگی اور موت کا فرق بن جاتی ہے۔ جب پانی کی غیر یقینی کیفیت بڑھ جائے تو توانائی کا نظام مزید لچک مانگتا ہے، اور قابل تجدید ذرائع کے ساتھ گرڈ کی مضبوطی اسی لچک کی بنیاد بنتی ہے۔

اسی طرح 2030 تک تیس فی صد الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف محض جدیدیت کی علامت نہیں ہونا چاہیے۔ شہری فضا کی آلودگی کم ہونا یقیناً اہم ہے، مگر آفات کے وقت نقل و حمل کا قابل اعتماد ہونا اس سے بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگر سڑکیں متاثر ہوں، ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ آئے، یا رسد کے راستے بند ہوں تو ہنگامی خدمات متاثر ہوتی ہیں۔ کم کاربن اور زیادہ موثر ٹرانسپورٹ سسٹم، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں پانی سے جڑی غیر یقینی کیفیت بڑھ رہی ہو، ردعمل اور بحالی کی صلاحیت میں براہ راست اضافہ کر سکتا ہے۔

پاکستان کی موسمیاتی حکمت عملی میں فطرت پر مبنی حل شاید سب سے زیادہ قابل دفاع راستہ ہیں، کیونکہ یہ کم لاگت بھی ہو سکتے ہیں اور دیرپا بھی۔ ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام جیسے جنگلاتی اقدامات محض شجرکاری کی مہم نہیں، یہ پانی روکنے، مٹی کو مضبوط کرنے، درجہ حرارت کے اثرات کم کرنے، اور سیلابی ریلوں کی شدت گھٹانے کے طریقے ہیں۔ جب دریائی طغیانی یا اچانک بارشیں آبادیوں پر حملہ آور ہوں تو جنگلات اور ویٹ لینڈز ایک قدرتی بفر کا کام کرتے ہیں۔ اگر یہ نظام کمزور ہو تو پھر ہر بار نقصان کا بل انسان اور معیشت ادا کرتے ہیں۔

لیکن پالیسی اور منصوبہ بندی تبھی کامیاب ہوتی ہے جب معاشرہ اس کا حصہ بنے۔ موسمیاتی تعلیم، نوجوانوں کی شرکت، اور میڈیا کی سنجیدہ شمولیت اسی لیے کلیدی ستون ہیں۔ ایک گاؤں یا محلہ اگر گرمی کی لہر کے اشارے سمجھتا ہو، پانی ذخیرہ کرنے کی عادت رکھتا ہو، اور ہنگامی رابطہ نظام جانتا ہو تو ریاست کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ نوجوان جب سائنسی سوچ، مقامی ڈیٹا، اور کمیونٹی نیٹ ورکس کے ساتھ کام کرتے ہیں تو وارننگ سسٹم صرف سرکاری اعلان نہیں رہتا، یہ ایک اجتماعی عمل بن جاتا ہے۔

پاکستان کی عالمی سطح پر موسمیاتی انصاف اور کلائمیٹ فنانس کی وکالت بھی اسی تناظر میں دیکھنی چاہیے۔ اگر پاکستان کم اخراج کے باوجود بار بار تباہی جھیل رہا ہے، اور اگر پانی سے جڑی سرحد پار کشیدگیاں خطرات کو بڑھا رہی ہیں، تو پھر موافقت، لچکدار انفراسٹرکچر، اور بحالی کے لیے مالی معاونت محض امداد نہیں، انصاف کا سوال ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ موافقت میں سرمایہ کاری کا مطلب ایک ملک کو بچانا نہیں، ایک پورے خطے میں عدم استحکام کے خطرے کو کم کرنا ہے۔

آخر میں بات سیدھی ہے۔ پاکستان نے ایک ایسا راستہ چنا ہے جو آفات کے بعد صرف ملبہ اٹھانے پر نہیں، آفات سے پہلے خطرہ کم کرنے پر زور دیتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور انڈس واٹرز ٹریٹی سے جڑی پیچیدگیاں خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں، اس لیے قومی ترقی کی ہر اینٹ میں لچک شامل کرنا ہی واحد عملی آپشن ہے۔ اگر توانائی، پانی، زراعت، شہری منصوبہ بندی، اور تعلیم ایک ہی رُخ پر چلیں تو پاکستان صرف متاثرہ ملک نہیں رہے گا، وہ ایک ایسا ملک بن سکتا ہے جو کم وسائل کے باوجود موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں خود کو منظم کرنا جانتا ہے۔ یہی حقیقی ترقی ہے، وہ ترقی جو اگلے سیلاب، اگلی گرمی کی لہر، اور اگلی آبی غیر یقینی کیفیت کے سامنے بھی کھڑی رہ سکے۔

Author

  • ڈاکٹر محمد سلیم

    محمد سلیم برطانیہ میں مقیم مصنف اور محقق ہیں جن کی اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ایک مضبوط علمی بنیاد ہے۔ اس کا کام طاقت اور حکمت عملی کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتا ہے۔ وہ جغرافیائی سیاست، علاقائی معاملات، اور آج کی دنیا کو تشکیل دینے والے نظریات کے لیے ایک باریک عینک لاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔