Nigah

پی ٹی آئی کی اندرونی کشمکش

[post-views]

پاکستان تحریک انصاف کی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سوال صرف یہ نہیں کہ عمران خان کب اور کیسے باہر آئیں گے، سوال یہ بھی ہے کہ پارٹی خود اندر سے کس سمت جا رہی ہے۔ عوامی سطح پر تاثر یہ ہے کہ خان صاحب کی واپسی یا منظر عام پر آنے میں رکاوٹیں صرف ریاستی دباؤ یا قانونی پیچیدگیاں نہیں، بلکہ پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر روز ایک نئی بحث جنم لیتی ہے، کیا عمران خان واقعی خود باہر آنے کے لیے تیار نہیں، یا پھر انہیں پارٹی کے اندر سے ہی روکنے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ طاقت کا توازن کسی خاص گروہ کے حق میں رہے۔

صحافی شُمائلہ نیاز علی کی باتوں کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جب وہ کہتی ہیں کہ بانی پی ٹی آئی اور قیادت اندرونی کشمکش میں پھنسی ہوئی ہے تو یہ محض ایک جملہ نہیں، یہ ایک بڑے بحران کی طرف اشارہ ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاسی قوت ہمیشہ عمران خان کی شخصیت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ پارٹی کا بیانیہ، تنظیمی ڈھانچہ، جلسوں کی توانائی، اور ووٹر کی جذباتی وابستگی، سب کا مرکز خان صاحب رہے۔ مگر جب مرکز کمزور ہو تو دائرے آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔ اس وقت پی ٹی آئی میں یہی منظر دکھائی دیتا ہے کہ ہر حلقہ اپنے آپ کو “اصل وارث” ثابت کرنے میں مصروف ہے، اور یہی اندرونی کھینچا تانی قیادت کو واضح فیصلوں سے روک رہی ہے۔

یہاں یہ سوال اہم ہے کہ عمران خان کو “اندر رہنے” کا مشورہ کون دے رہا ہے اور کیوں۔ اگر پارٹی کی قیادت یا بعض اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خان صاحب کا باہر آنا کسی نئے سیاسی سمجھوتے کو نقصان پہنچا سکتا ہے، یا پارٹی کے اندر موجود طاقتور گروہوں کی پوزیشن کمزور کر سکتا ہے، تو پھر انہیں روکنے کا جواز پیدا کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ خود عمران خان موجودہ حالات میں باہر آنے کو غیر مؤثر سمجھتے ہوں، کیونکہ باہر آ کر پارٹی کی تنظیمی کمزوری، کارکنوں کی تھکن، اور قیادت کی باہمی لڑائی زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات ایک رہنما کی غیر موجودگی اس کے گرد ایک علامتی طاقت بنا دیتی ہے، مگر موجودگی اس علامت کو روزمرہ کی سیاست میں گھسیٹ دیتی ہے جہاں کمزوریاں سامنے آ جاتی ہیں۔

اسی بحث میں سہیل آفریدی کا “یوتھ فورس” والا بیانیہ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ نوجوانوں کی بڑی طاقت بنانے کا دعویٰ سننے میں پرکشش ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کی اصل شناخت ہی نوجوان ووٹر اور سوشل میڈیا متحرکین سے جڑی رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعویٰ زمینی حقیقت سے میل کھاتا ہے۔ ناقدین جب کہتے ہیں کہ ہزاروں فعال کارکن بھی میدان میں نظر نہیں آتے تو یہ محض طنز نہیں، یہ تنظیمی زوال کی نشاندہی ہے۔ صرف سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلانا اور گراؤنڈ پر لوگوں کو اکٹھا کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ایک میں جذبہ کافی ہوتا ہے، دوسرے میں نظم، ڈسپلن، قیادت، وسائل، اور واضح ہدف چاہیے ہوتا ہے۔

اگر “یوتھ فورس” کی بات واقعی ایک منظم حکمت عملی ہے تو اس کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ پارٹی نئی تنظیم سازی کر رہی ہے، حلقہ وار نیٹ ورک بنا رہی ہے، اور کارکنوں کو کسی واضح لائحہ عمل پر اکٹھا کر رہی ہے۔ لیکن اگر یہ بات صرف میڈیا بیانیہ ہے تو پھر یہ اندرونی طاقت کی جنگ میں ایک ہتھیار بن جاتی ہے۔ اس صورت میں مقصد عوامی قوت بنانا نہیں، بلکہ پارٹی کے اندر اپنی حیثیت مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ ہر گروہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اصل کارکن اور اصل موبلائزیشن اس کے پاس ہے، اور یہی دکھانے کی جنگ آخرکار عمران خان کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

یہاں اصل مسئلہ سمت کا ہے۔ پی ٹی آئی اس وقت ایک ایسی جماعت لگتی ہے جس کے پاس غصہ تو ہے مگر منصوبہ کمزور ہے۔ قیادت کے مختلف دھڑے ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں کہ فلاں نرم ہے، فلاں سمجھوتہ چاہتا ہے، فلاں مزاحمت کے نعرے لگا کر پارٹی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اسی کشمکش میں کارکن کنفیوژ ہوتے ہیں، اور جب کارکن کنفیوژ ہوں تو تحریک کی طاقت منتشر ہو جاتی ہے۔ عمران خان کی غیر واضح پوزیشن اس کنفیوژن کو بڑھا دیتی ہے۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خان صاحب خود میدان میں آنے کے لیے بے چین ہوتے تو کیا پارٹی انہیں روک سکتی تھی۔ اور اگر پارٹی انہیں روک رہی ہے تو کیا خان صاحب اتنے بے بس ہیں کہ اپنی مرضی نافذ نہیں کر سکتے۔

اس بحث کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاست شخصیات کے گرد گھومتی رہی، اداروں کے گرد نہیں۔ جب فیصلے ایک مرکز سے ہوں تو پارٹی چلتی ہے، مگر جیسے ہی مرکز کمزور ہو، اندرونی حلقے اپنی اپنی جگہ طاقت آزمانے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج “سیاسی حکمت عملی” اور “اندرونی طاقت کی جنگ” کی لکیر دھندلا گئی ہے۔ جو بات کل بیانیہ لگتی تھی، آج گروہی مفاد لگتی ہے۔ جو کل مزاحمت تھی، آج تقسیم دکھائی دیتی ہے۔

آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے، کیا یہ سب اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہے یا قیادت خود باہر آنے کے لیے تیار نہیں۔ میرے نزدیک دونوں عناصر موجود ہیں۔ اندرونی اختلافات بھی ہیں اور ایک طرح کی سیاسی بے یقینی بھی۔ عمران خان کی شخصیت پارٹی کا سب سے بڑا اثاثہ ہے، مگر اسی اثاثے پر کنٹرول کے لیے اندرونی حلقے بھی سرگرم ہیں۔ دوسری طرف خان صاحب بھی شاید یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں باہر آ کر فوری فائدہ نہیں، بلکہ اپنی علامتی قوت کو برقرار رکھنا زیادہ مؤثر ہے۔ مگر یہ حکمت عملی بھی ہمیشہ نہیں چلتی۔ اگر پارٹی گراؤنڈ پر منظم نہ ہوئی، اگر کارکنوں کو واضح راستہ نہ ملا، اور اگر قیادت نے اندرونی لڑائیاں نہ روکیں، تو پھر سوال “خان کیوں نہیں آتے” سے آگے بڑھ کر “پی ٹی آئی کہاں جا رہی ہے” بن جائے گا۔ اور یہی سوال کسی بھی جماعت کے لیے سب سے خطرناک ہوتا ہے۔

Author

  • انیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل:

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔