کے پی کے ہاؤس کی میٹنگ کی بات یہ تھی کہ تحریک انصاف کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج باہر نہیں، اپنے اندر ہے۔ ریاستی دباؤ اپنی جگہ، مگر جماعت کی اندرونی بے ترتیبی، فیصلہ سازی میں ابہام، اور کارکنوں کا ٹوٹتا اعتماد وہ زخم ہیں جو خاموشی سے گہرا ہو رہا ہے۔ اس میٹنگ سے صاف لگا کہ قیادت اور کارکن ایک ہی سمت میں نہیں چل رہے، اور جب تحریکیں سمت کھو دیتی ہیں تو پھر ہجوم صرف شور رہ جاتا ہے، طاقت نہیں بنتا۔
سب سے پہلے بانی چیئرمین کے طبی معائنے کا معاملہ دیکھیں۔ اگر یہ درست ہے کہ حکومتی پیشکش کے باوجود کسی کو معائنے میں شرکت کی اجازت نہیں مل سکی اور اس میں عالیہ خان کے فیصلے نے رکاوٹ ڈالی، تو یہ معاملہ محض ایک گھر کا اختلاف نہیں رہتا۔ یہ جماعت کی ساکھ کا سوال بن جاتا ہے۔ عوام کے سامنے یہ تاثر جاتا ہے کہ کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں، کوئی ذمہ دار ٹیم مقرر نہیں، اور ہر فیصلہ چند افراد کی مرضی پر اٹک جاتا ہے۔ ایسے حالات میں افواہیں جنم لیتی ہیں اور پھر افواہیں ہی سیاست کا ایندھن بن جاتی ہیں۔ اگر کوئی فرد بار بار دوسرے رہنماؤں کو کام کرنے سے روکے گا تو نقصان فرد کا نہیں، جماعت کا ہوگا، اور آخر میں نقصان خود بانی چیئرمین کے سیاسی مقدمے کو پہنچے گا۔
دوسرا نقطہ یہ تھا کہ ارکانِ صوبائی اسمبلی کو واپس جا کر مزید لوگوں کو لانے کی ہدایت دی گئی، مگر احتجاج صوبے کے اندر ہی رکھا جائے۔ یہ حکمت عملی تب ہی کام کرتی ہے جب مقصد واضح ہو اور نظم سخت ہو۔ اگر مقصد مبہم ہو تو پھر لوگ مختلف انداز سے احتجاج کریں گے، کہیں راستے بند ہوں گے، کہیں تلخ زبان ہوگی، کہیں تصادم کی کوشش ہوگی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت کو موقع ملتا ہے کہ احتجاج کو بدنظمی اور عوامی تکلیف کے طور پر پیش کرے۔ تحریک انصاف اگر واقعی عوامی حمایت کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے تو اسے احتجاج کو ایسے ڈھانچے میں ڈالنا ہوگا جس میں پیغام بھی صاف ہو اور عوام کی روزمرہ زندگی کم سے کم متاثر ہو۔
تیسرا معاملہ یہ اٹھا کہ کچھ رہنما جان بوجھ کر پارلیمان کے اندر بند رہے جبکہ ضرورت باہر نکل کر لوگوں کو متحرک کرنے کی تھی۔ سیاست میں علامتی عمل کی جگہ ہوتی ہے، مگر علامت تب کام کرتی ہے جب اس کے ساتھ عملی قیادت بھی میدان میں موجود ہو۔ کارکن یہ نہیں دیکھتے کہ کون کس کمرے میں کیا بیان دے رہا ہے، وہ یہ دیکھتے ہیں کہ کون ان کے ساتھ کھڑا ہے، کون گرفتاری کے خطرے میں بھی باہر موجود ہے، اور کون محفوظ جگہوں سے ہدایات دے رہا ہے۔ اگر قیادت خود باہر نہیں نکلے گی تو کارکن کب تک نکلتے رہیں گے۔
میٹنگ میں اقبال آفریدی کے حوالے سے جو بات سامنے آئی وہ بھی اہم ہے۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ گالی گلوچ اور اشتعال انگیزی کو روکا جائے۔ یہ ہدایت درست ہے، کیونکہ بدزبانی نہ صرف سیاسی اخلاقیات گراتی ہے بلکہ قانونی گرفت بھی مضبوط کرتی ہے۔ مگر اگر اس کے جواب میں وہ پارلیمانی لاجز تک محدود ہو جائیں اور احتجاجی سرگرمیوں سے خود کو الگ کر لیں تو یہ نظم نہیں، بے دلی ہے۔ جماعت کو ایسے رویے پر واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ ذمہ داری قبول کرنی ہے یا پھر عہدے اور نمائندگی کا فائدہ لے کر پیچھے نہیں ہٹنا۔
ایک اور سخت مگر حقیقت پسندانہ نکتہ یہ تھا کہ کارکن قیادت سے بددل ہو رہے ہیں، اور اس کی بڑی وجہ وہ تضحیک آمیز آوازیں ہیں جو اپنے ہی حلقے سے نکلتی ہیں۔ جو لوگ باہر بیٹھ کر گندی زبان میں اپنے رہنماؤں کو گراتے ہیں، وہ جماعت کی طاقت نہیں، کمزوری ہیں۔ ایسے رویوں سے اندرونی اختلاف بڑھتا ہے، قیادت دباؤ میں آتی ہے، اور فیصلے عقل کے بجائے خوف پر ہونے لگتے ہیں۔ دوسری طرف جب سڑکیں بند ہوتی ہیں اور عام شہری کی زندگی مشکل ہوتی ہے تو ہمدردی ختم ہونے لگتی ہے۔ تحریک انصاف کو سمجھنا ہوگا کہ عوامی حمایت نعرے سے نہیں، رویے سے بنتی ہے۔
اسی پس منظر میں بیرسٹر گوہر کے بارے میں یہ بات درست لگتی ہے کہ انہیں آزادانہ فیصلے کرنے چاہئیں اور کسی کی مرضی سے روکے نہ جائیں۔ جماعتیں افراد کے اشاروں پر نہیں چل سکتیں۔ اگر ہر قدم پر غیر رسمی ویٹو ہوگا تو کوئی منصوبہ نہیں بنے گا، کوئی بات آگے نہیں بڑھے گی، اور کارکن صرف کنفیوژن میں رہیں گے۔ سیاسی جدوجہد میں واضح کمانڈ، واضح ترجمان، اور واضح لائن ضروری ہوتی ہے۔
میٹنگ میں یہ خدشہ بھی سامنے آیا کہ اگر جماعت سے وابستہ ٹرولز کو قابو نہ کیا گیا تو سہیل آفریدی بہت جلد علی امین خان جیسی صورت حال اختیار کر سکتے ہیں، یعنی وہی تیز لہجہ، وہی اندرونی دباؤ، اور وہی سیاست میں شور کی بالادستی۔ یہ خطرہ حقیقی ہے، کیونکہ جب جماعت نظم کھو دیتی ہے تو پھر تیز آواز والا شخص طاقت پکڑ لیتا ہے، اور پھر پالیسی کی جگہ مزاج فیصلے کرنے لگتا ہے۔ اس سے تحریک کو وقتی جوش تو ملتا ہے، مگر دیرپا نقصان بھی یہی لوگ کر دیتے ہیں۔
آخر میں بانی چیئرمین کی صحت کے بارے میں جھوٹی خبروں کا معاملہ ہے، خاص طور پر یہ بات کہ ان کی بینائی مستقل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ ایسی بات نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ سیاسی بد نیتی بھی ہے۔ اگر سرکاری حلقوں سے اس قسم کی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں تو جماعت کو قانونی کارروائی کرنی چاہیے، اور ساتھ ہی ذمہ دارانہ انداز میں درست معلومات بھی دینی چاہئیں۔ خاموشی افواہوں کو مضبوط کرتی ہے۔ سچائی کو ثابت کرنے کے لیے دستاویزی اور قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا، تاکہ جھوٹ بولنے والوں کی لاگت بڑھے۔
خلاصہ یہ کہ کے پی کے ہاؤس کی میٹنگ نے ایک واضح پیغام دیا، تحریک انصاف کو پہلے اپنی اندرونی صف بندی درست کرنا ہوگی۔ بدزبانی، ٹرولنگ، غیر واضح فیصلے، اور قیادت کی غیر موجودگی کارکنوں کو توڑ رہی ہے۔ اگر جماعت نظم، مقصد، اور عوام کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کر لے تو دباؤ کو سیاسی قوت میں بدلا جا سکتا ہے۔ ورنہ اندرونی انتشار وہ نقصان کرے گا جو بیرونی دباؤ بھی نہیں کر پاتا۔
Author
-
مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔
View all posts