کشتواڑ میں آپریشن تریشی ایک کے حوالے سے بھارتی فوج اور پولیس کی بریفنگ ایک بار پھر اسی پرانے سانچے میں ڈھلی محسوس ہوتی ہے جس میں سوال کم اور دعوے زیادہ ہوتے ہیں۔ جب کسی متنازع خطے میں ریاستی طاقت استعمال ہو، اور اس کے نتیجے میں عام لوگوں کی جانیں جائیں، تو محض سرکاری بیان کافی نہیں رہتا۔ ایسے واقعات میں سچ کی کھوج، شواہد کی پیشی، اور جواب دہی کا واضح طریقہ کار ہی وہ بنیاد ہے جس پر اعتماد قائم ہو سکتا ہے۔ اگر اس بنیاد کو نظر انداز کیا جائے تو بریفنگ محض طاقت کی زبان بن جاتی ہے، انصاف کی نہیں۔
کشتواڑ میں تین کشمیریوں کے قتل اور لاشوں کو کیمیکل کے ذریعے جلانے کے الزامات معمولی بات نہیں۔ اگر یہ درست ہے تو یہ انسانی وقار کی کھلی تذلیل ہے، ایک ایسا عمل جو کسی بھی مذہب، اخلاق، اور قانون کی روح کے خلاف ہے۔ جنگ اور شورش کے سخت ترین حالات میں بھی مرنے والے کی لاش کا احترام ایک بنیادی اصول ہے۔ لاش کو جلا کر نشان مٹانے کی کوشش، اگر واقعی کی گئی، تو یہ صرف قتل نہیں رہتا، یہ سچ کو دفنانے کی کوشش بھی بن جاتا ہے۔ پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہوا تھا تو شواہد چھپانے یا جسمانی آثار مٹانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
بھارت میں ایسے واقعات کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اکثر ہلاک ہونے والوں کو فوراً غیر ملکی، یا سرحد پار سے آیا ہوا قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ لیبل لگانا آسان ہے، لیکن اسے ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص واقعی بیرونی جنگجو تھا تو شناخت، گرفتاری کی کوشش، ہتھیاروں کی برآمدگی، اور فرانزک شواہد کی تفصیل عوام کے سامنے لانا کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں۔ ریاست کہتی ہے کہ معاملہ قومی سلامتی کا ہے، مگر قومی سلامتی کا مفہوم یہ نہیں کہ ہر سوال کو خاموش کر دیا جائے۔ قومی سلامتی مضبوط تب ہوتی ہے جب قانون سب پر لاگو ہو، اور طاقت کے استعمال کا حساب بھی دیا جائے۔
جھوٹے مقابلوں کا تاثر برسوں سے لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ جب کسی علاقے میں مسلسل یہ شکایت رہے کہ گرفتاریاں ہوتی ہیں، پوچھ گچھ ہوتی ہے، پھر اچانک ایک مقابلہ دکھا کر موت کو جائز بنا دیا جاتا ہے، تو ہر نئی کہانی پر عدم اعتماد بڑھتا ہے۔ اس عدم اعتماد کی وجہ صرف سیاست نہیں، تجربہ بھی ہے۔ جب تحقیقات اندرونی سطح پر رہیں، جب خاندانوں کو مکمل معلومات نہ ملیں، جب پوسٹ مارٹم اور شواہد تک رسائی مشکل ہو، اور جب سزا کی مثالیں کم نظر آئیں، تو پھر ریاست کی بات بھی لوگوں کو یک طرفہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ فضا کسی ایک واقعے سے نہیں بنتی، یہ مسلسل رویے سے بنتی ہے۔
ایک اور بڑا سوال صلاحیت اور ارادے کا ہے۔ بھارت خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی، نگرانی کے نظام، چیک پوسٹوں، اور سرحدی باڑ کا ذکر کرتا ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سرحد پار سے آنا جانا مشکل ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر بار بار یہ دعویٰ کہ بیرونی عناصر آسانی سے داخل ہو جاتے ہیں، ایک تضاد پیدا کرتا ہے۔ یا تو نظام اتنا موثر نہیں جتنا بتایا جاتا ہے، یا پھر ہر ہلاکت کو بیرونی کہہ کر مقامی حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ دونوں صورتوں میں عوامی سطح پر ٹھوس وضاحت ضروری ہے، کیونکہ محض بیانیہ تضاد کو ختم نہیں کرتا۔
مقامی نوجوانوں کو غیر ملکی آلہ کار قرار دینا زمینی حقیقت کو نہیں بدلتا۔ کشمیر میں سیاسی محرکات، شناخت کا سوال، اور حقوق کا مطالبہ دہائیوں سے موجود ہے۔ اگر ہر احتجاج، ہر ناراضی، اور ہر مزاحمت کو صرف بیرونی سازش کہہ کر رد کر دیا جائے تو مسئلہ کم نہیں ہوتا، زیادہ ہوتا ہے۔ ریاست وقتی طور پر دباؤ بڑھا کر خاموشی پیدا کر سکتی ہے، مگر وہ خاموشی خوف کی خاموشی ہوتی ہے، اطمینان کی نہیں۔ امن وہ ہے جس میں لوگ قانون پر یقین کریں، یہ نہ سمجھیں کہ کسی بھی لمحے ان پر الزام لگے گا اور ان کی جان کی قیمت ایک سرکاری جملے سے کم ہو جائے گی۔
اس واقعے میں سب سے ضروری چیز آزاد اور معتبر تحقیق ہے۔ ایسی تحقیق جس میں فرانزک شواہد، گولیوں کے رخ، جائے وقوعہ کی تفصیلات، حراست کے امکانات، شناخت کے ذرائع، اور لاشوں کے ساتھ کیے گئے عمل کی مکمل چھان بین ہو۔ خاندانوں کو معلومات دینے کے واضح اصول ہوں، اور نتائج کو عوام کے سامنے رکھا جائے۔ اگر واقعی مقابلہ ہوا تھا تو سچ سامنے آنے سے ریاست کا موقف مضبوط ہو گا۔ اور اگر بے گناہ لوگ مارے گئے ہیں تو پھر انصاف صرف خاندانوں کا حق نہیں، ریاست کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ ظلم کی پردہ پوشی وقتی فائدہ دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ ریاستی اداروں کے وقار کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
صرف سکیورٹی بیانیہ دہرانے سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ عسکریت اور سختی سے وقتی کنٹرول تو ممکن ہے، مگر دلوں میں قبولیت پیدا نہیں ہوتی۔ جب تک کشمیریوں کی سیاسی خواہشات، شناخت، اور بنیادی حقوق کے سوال کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، ہر واقعہ ایک نئے زخم کی صورت اختیار کرتا رہے گا۔ مسئلے کا پائیدار راستہ وہی ہے جو انسانی جان کے احترام، قانون کی بالادستی، اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کے اصولوں سے جڑا ہو۔ طاقت کے زور پر بیانیہ بن جاتا ہے، مگر امن نہیں بنتا۔
کشتواڑ کے واقعے نے ایک بار پھر یہ دکھا دیا ہے کہ جان لینے کے بعد الفاظ سے حقیقت نہیں بدلی جا سکتی۔ اگر تین کشمیری بے گناہ تھے، تو ان کی موت صرف ایک عدد نہیں، ایک خاندان کی دنیا کا خاتمہ ہے۔ اور اگر لاشوں کو کیمیکل سے جلایا گیا تو یہ محض ظلم نہیں، انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ایسے جرم کا جواب رسمی بریفنگ نہیں، شفاف تحقیق اور حقیقی جواب دہی ہے۔ جب تک یہ نہیں ہو گا، ہر نئی بریفنگ صرف ایک نئی بے یقینی پیدا کرے گی، اور یہ بے یقینی ہی وہ آگ ہے جو خطے میں نفرت اور اضطراب کو زندہ رکھتی ہے۔
Author
-
اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
View all posts