پہلی جنگِ عظیم کے ایک یادگاری نشان کے بارے میں حالیہ بحث نے ایک بار پھر یہ دکھا دیا ہے کہ ہمارے ہاں اصل مسئلہ اکثر کام نہیں ہوتا، بلکہ الفاظ ہوتے ہیں۔ جس عمل کو بعض حلقے “مسمار کرنا” کہہ رہے ہیں، سی ڈی اے کے مطابق وہ دراصل “تحفظ کے لیے منتقلی” ہے۔ یہ فرق محض لفظی نہیں، بنیادی ہے۔ مسماری کا مطلب ختم کرنا ہوتا ہے، جبکہ تحفظ کے لیے منتقلی کا مطلب یہ ہے کہ یادگار کو بچانے، سنبھالنے اور بہتر انداز میں عوام کے سامنے رکھنے کے لیے اس کی جگہ بدلی جائے۔ اگر حقیقت میں مقصد یادگار کو مٹانا ہوتا تو نہ مواد محفوظ کیا جاتا، نہ دوبارہ تعمیر کی بات کی جاتی، نہ قانونی وارث کی رضامندی لی جاتی۔
سی ڈی اے کی وضاحت کے مطابق یادگار کو انتہائی احتیاط سے، تحفظاتی اصولوں کے تحت، ایک منظم طریقے سے الگ کیا گیا۔ اس عمل میں اصل اینٹیں اور پرانا مواد محفوظ رکھا گیا تاکہ بعد میں اسی انداز میں، درست تناسب اور اصل ساخت کے مطابق، دوبارہ تعمیر ممکن ہو۔ یہ طریقہ کار عام توڑ پھوڑ سے مختلف ہوتا ہے۔ جو ادارے کسی تاریخی یا یادگاری عمارت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، وہ عام طور پر ملبہ ہٹاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب مقصد محفوظ کرنا ہو تو ہر جزو کو شناخت کے ساتھ سنبھالا جاتا ہے، تاکہ دوبارہ جوڑ کر وہی شناخت قائم رہے جس کے لیے وہ یادگار کھڑی کی گئی تھی۔
ایک اور حقیقت جو جذباتی نعروں میں دب جاتی ہے، وہ یادگار کی حالت ہے۔ سی ڈی اے کے مطابق یہ یادگار وقت کے ساتھ خستہ حال ہو چکی تھی اور موجودہ مقام پر اس کی حفاظت اور مسلسل دیکھ بھال ممکن نہیں رہی تھی۔ یادگاریں صرف جذبات سے قائم نہیں رہتیں۔ بارش، نمی، زمین کی نشست، تعمیراتی دباؤ، ٹریفک کی کمپن، اور آس پاس کی غیر منظم سرگرمیاں، سب مل کر اینٹ اور گارے کو کمزور کرتی ہیں۔ اگر کوئی یادگار ایسے مقام پر رہ جائے جہاں نگرانی کم ہو، رسائی مشکل ہو، یا تحفظ کے انتظامات نہ ہوں تو پھر وہ وقت کے ہاتھوں خاموشی سے بکھر جاتی ہے۔ ایسے میں منتقلی بعض اوقات “بچانے” کا واحد عملی راستہ رہ جاتا ہے۔
بعض اعتراضات آثارِ قدیمہ کے تناظر میں اٹھائے گئے، جن پر بھی بات ہونی چاہیے۔ سی ڈی اے کے مطابق یہ یادگار محکمہ آثارِ قدیمہ کی نوٹیفائیڈ ورثہ فہرست میں شامل نہیں، تاہم اس کے باوجود متعلقہ محکمے سے مشاورت کی گئی اور ضابطے کے مطابق کارروائی کی گئی۔ یہاں دو باتیں سمجھنا ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ فہرست میں نام نہ ہونا یادگار کی اہمیت ختم نہیں کرتا۔ دوسری یہ کہ مشاورت اور قانونی طریقہ کار اپنا مقام رکھتا ہے، اور اگر واقعی یہ سب کیا گیا ہے تو پھر اسے نظرانداز کر کے ایک سیدھی لکیر کھینچ دینا درست نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ عوام اور میڈیا، سی ڈی اے سے اس مشاورت کی دستاویزات اور تعمیرِ نو کے منصوبے کی تفصیل مانگیں، تاکہ بحث قیاس آرائی کے بجائے ثبوت پر کھڑی ہو۔
اس معاملے میں سب سے حساس نکتہ خاندان کی رضامندی ہے، کیونکہ بہت سی یادگاریں کسی فرد، خاندان یا برادری کی یاد سے جڑی ہوتی ہیں۔ سی ڈی اے کے مطابق قانونی وارث کی باقاعدہ رضامندی حاصل کی گئی، اور عظیم پوتے نے حلف نامہ یا عدم اعتراض سرٹیفکیٹ پیش کیا۔ یہ بات اگر درست ہے تو اس کا ذکر لازمی ہے، کیونکہ اس سے عمل کی اخلاقی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔ اگر کسی کو اس دعوے پر اعتراض ہے تو اعتراض بھی ثبوت کے ساتھ ہونا چاہیے، نہ کہ صرف شک اور شور کے ساتھ۔
سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ یادگار کو ایک زیادہ محفوظ اور نمایاں جگہ پر دوبارہ نصب کیا جائے گا، جو ناردرن بائی پاس راؤنڈاباؤٹ کے قریب، ریہارا گاؤں کے نزدیک بتائی گئی ہے۔ دلیل یہ ہے کہ نئی جگہ زیادہ نظر آنے والی ہو گی، عوام کے لیے رسائی بہتر ہو گی، اور تحفظ کے انتظامات بھی موثر رہیں گے۔ سچ یہ ہے کہ ایک یادگار کا مقصد صرف کھڑے رہنا نہیں، بلکہ دیکھے جانا، سمجھے جانا اور یاد دلانا ہے۔ اگر کوئی یادگار ایسی جگہ پر ہو جہاں لوگ رک نہ سکیں، جہاں حفاظتی خطرات ہوں، یا جہاں دیکھ بھال کا واضح نظام نہ ہو تو یادگار آہستہ آہستہ غیر متعلق ہو جاتی ہے۔ بہتر مقام، بہتر سکیورٹی اور واضح مینٹیننس پلان، یادگار کی زندگی بڑھا دیتے ہیں۔
دنیا میں بھی ترقیاتی ضروریات یا ماحولیاتی خطرات کے باعث کئی تاریخی ڈھانچوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ سی ڈی اے نے مثالوں کے طور پر امریکا کے کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس کی منتقلی، لندن کے ماربل آرچ کی منتقلی، اور لندن برج کی بیرون ملک از سرِ نو تعمیر کا حوالہ دیا۔ ان مثالوں کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ ہر منتقلی درست ہے، بلکہ یہ بتانا ہے کہ منتقلی بذاتِ خود “تباہی” نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہی عمل تحفظ کی صورت بن جاتا ہے، بشرطیکہ اسے اصولوں کے ساتھ کیا جائے اور یادگار کی شناخت برقرار رکھی جائے۔
اس ساری بحث میں اصل مرکز یہ ہونا چاہیے کہ خراجِ عقیدت برقرار رہے۔ سی ڈی اے کے مطابق یہ یادگار سب دار غلام علی کی پہلی جنگِ عظیم میں بہادری اور ملٹری کراس کے اعزاز کی یاد میں ہے، اور یہ تاریخی خراج مکمل طور پر قائم رہے گا۔ اگر تعمیرِ نو اسی مواد اور اسی طرز پر کی جاتی ہے، اور نئی جگہ پر معلوماتی تختی، مناسب روشنی، حفاظت اور باقاعدہ دیکھ بھال کا نظام بنایا جاتا ہے تو یادگار محض بچتی نہیں، زیادہ معنی خیز ہو جاتی ہے، کیونکہ پھر وہ زیادہ لوگوں کی نظر اور سمجھ میں آتی ہے۔
آخر میں میڈیا کی ذمہ داری بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ سی ڈی اے نے کہا ہے کہ بغیر تصدیق کے سنسنی خیز اور گمراہ کن دعوے شائع کرنا غیر ذمہ دارانہ صحافت ہے۔ اس نکتے سے اختلاف مشکل ہے۔ سوال اٹھانا ضروری ہے، مگر سوال حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اگر عمل مسماری نہیں بلکہ تحفظاتی منتقلی ہے، اگر وارث کی رضامندی موجود ہے، اگر محکمے سے مشاورت ہوئی ہے، تو ان حقائق کو رپورٹ کیے بغیر “ڈیمولیشن” کی سرخی لگانا عوام کو غلط رخ پر لے جاتا ہے۔ درست راستہ یہ ہے کہ عوام بھی ثبوت مانگیں، اور ادارے بھی شفافیت دکھائیں۔
یادگاریں ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہوتی ہیں۔ انہیں بچانے کے لیے کبھی کبھی جگہ بدلنا پڑتی ہے، لیکن اس کے ساتھ شفاف طریقہ کار، دستاویزی ثبوت، اور بروقت تعمیرِ نو کی پابندی بھی ضروری ہے۔ اگر سی ڈی اے اپنے دعووں کے مطابق یادگار کو اصل مواد کے ساتھ دوبارہ قائم کر دیتا ہے اور اسے واقعی بہتر، محفوظ، اور عوام دوست مقام پر رکھتا ہے، تو یہ تنازع نہیں، تحفظ کی مثال بن سکتا ہے۔
Author
-
اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
View all posts