کوئٹہ میں ۲ مارچ ۲۰۲۶ کی قومی پیغامِ امن کمیٹی کی پریس کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہوئی جب بلوچستان کی زمین پر امن کی امید بھی ہے اور خوف کی پرچھائیاں بھی۔ میری نظر میں یہ پریس کانفرنس محض ایک بیان نہیں، بلکہ ایک سمت کا اشارہ ہے۔ ریاستی طاقت اور عوامی اعتماد کے بیچ جو خلا اکثر تنازع کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اسے پُر کرنے کے لیے اب صرف بندوق اور چوکی کافی نہیں۔ امن کو جڑ پکڑانے کے لیے معتبر مذہبی اتفاقِ رائے، اچھی حکمرانی اور انتہاپسندانہ سوچ کے خلاف واضح اجتماعی موقف لازمی ہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کامیابیوں کو دیرپا بنا بھی رہے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں خوف کم ہو جائے لیکن دلوں میں بے یقینی باقی رہے تو یہ خاموشی عارضی ہوتی ہے۔ عوام کو یہ یقین چاہیے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، شکایت سنی جاتی ہے، اور انصاف صرف کاغذ پر نہیں رہتا۔ کمیٹی کا یہ زور کہ عوامی اعتماد کے بغیر امن مضبوط نہیں ہوتا، بالکل درست ہے۔ امن کا مطلب صرف حملوں میں کمی نہیں، امن کا مطلب روزمرہ زندگی میں سکھ، روزگار، تعلیم، اور عزت کے ساتھ جینا بھی ہے۔
اس پریس کانفرنس کی ایک بڑی بات یہ تھی کہ مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء اور اقلیتی رہنما ایک پلیٹ فارم پر متحد دکھائی دیے۔ اس اتحاد کی علامتی اہمیت بھی ہے اور عملی ضرورت بھی۔ بلوچستان میں ثقافتی تنوع اور مسلکی رنگا رنگی ہمیشہ سے موجود رہی ہے، مگر انتہاپسندی اسی تنوع کو ہتھیار بنا کر نفرت کی آگ بھڑکاتی ہے۔ جب مذہبی اور سماجی رہنما مل کر یہ پیغام دیں کہ اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں، اور عبادت گاہیں سیاست کا میدان نہیں، تو کشیدگی کم کرنے میں واقعی مدد ملتی ہے۔ ایسے مواقع پر ایک معتدل اور مثبت مذہبی بیانیہ، جذباتیت کے بجائے اخلاق اور ذمہ داری کی زبان، سماج کو جوڑ سکتی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ریاست کے آئینی ڈھانچے اور قومی سلامتی کے فیصلوں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان تب زیادہ معنی رکھتا ہے جب اس کے ساتھ شہری آزادیوں اور قانونی عمل کی پاسداری بھی صاف نظر آئے۔ اگر ہم قومی سلامتی کو شہری وقار کے خلاف کھڑا کر دیں تو پھر دونوں کمزور ہوتے ہیں۔ قومی بیانیہ تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب اس میں بلوچستان کے دکھ، محرومی، اور جائز مطالبات کا ذکر بھی ہو، اور تشدد، دہشت گردی اور قومی اثاثوں کو نقصان پہنچانے کی کھلی مذمت بھی۔ کمیٹی نے یہ توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، اسے آگے بڑھانے کی ذمہ داری اب ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور مقامی نظم و نسق سب پر ہے۔
انتہاپسندی کے جامع انسداد کی بات کرتے ہوئے ہمیں بھرتی کے راستوں کو بند کرنا ہوگا۔ یہ بھرتی صرف اسلحے سے نہیں ہوتی، یہ بھرتی سوشل فضا، غلط معلومات، خوف، اور بے روزگاری سے بھی ہوتی ہے۔ نوجوان اگر خود کو بے بس اور غیر متعلق محسوس کریں تو انہیں ورغلانا آسان ہو جاتا ہے۔ اس لیے امن کی حکمت عملی میں تعلیم، فنی تربیت، کھیل، ثقافتی سرگرمیوں اور روزگار کو مرکزی جگہ دینی چاہیے۔ مذہبی رہنما یہاں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر ان کے ساتھ اساتذہ، قبائلی و سماجی عمائدین، اور مقامی منتخب نمائندوں کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔
پریس کانفرنس میں افغانستان سے یہ توقع ظاہر کی گئی کہ وہ فتنہ الخوارج کی کسی بھی شکل میں حمایت سے گریز کرے۔ یہ مطالبہ درست سمت کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ سرحد پار پناہ گاہیں اور مدد ملنے کی شکایات ہمارے داخلی امن کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔ لیکن صرف مطالبہ کافی نہیں۔ سفارتی سطح پر سنجیدہ رابطہ، سرحدی نظم، انٹیلی جنس تعاون، اور یہ واضح اصول کہ کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، ایسے قدم ہیں جو نتیجہ دے سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہمیں اپنے اندرونی نظم کو بھی ٹھیک رکھنا ہوگا تاکہ بیرونی ہاتھ کو اندر خلا نہ ملے۔
کمیٹی نے مسلح افواج، فرنٹیئر کور، پاک فوج اور بلوچستان کے عوام کی ثابت قدمی کو سراہا، میں بھی سمجھتا ہوں کہ اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیاں نظر انداز نہیں ہونی چاہئیں۔ مگر خراجِ تحسین کے ساتھ احتساب، تربیت اور واضح قواعدِ کار بھی ضروری ہیں تاکہ کسی غلطی کی قیمت پورا معاشرہ نہ چکائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کی اخلاقی برتری بہت قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ برتری اسی وقت قائم رہتی ہے جب کارروائی قانون کے مطابق ہو، اور بے گناہ کی جان و عزت محفوظ رہے۔
ایران کے ساتھ یکجہتی اور ایران پر حملے کی مذمت کے ساتھ یہ کہنا کہ قومی اثاثوں کو نقصان پہنچانا کسی صورت درست نہیں، ایک اہم اصولی موقف ہے۔ عوامی جذبات اپنی جگہ، مگر تشدد اور توڑ پھوڑ کی اجازت دے دینا دراصل دشمن کے مقصد کو آسان کرنا ہے۔ اسی طرح غزہ اور ایران کے مسلمانوں سے یکجہتی کا مطلب یہ بھی ہونا چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں فرقہ واریت، نفرت اور تکفیر کے خلاف کھڑے ہوں۔ اگر ہم باہر کے مظلوم کے لیے آواز اٹھائیں مگر اندر کے کمزور کو تحفظ نہ دیں تو یہ تضاد ہمارے اپنے بیانیے کو کمزور کر دیتا ہے۔
آخر میں، اس پریس کانفرنس کا سب سے امید افزا پہلو اقلیتوں کی شمولیت ہے۔ پاکستان کی اقلیتیں جب قومی استحکام اور امن کے لیے دیگر طبقات کے ساتھ یک زبان ہوں تو اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ یہ ملک سب کا ہے۔ بلوچستان میں امن کا خواب تب پورا ہوگا جب ہم ایک طرف دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف سخت اور مسلسل کارروائی کریں، اور دوسری طرف انصاف، روزگار، احترام اور سیاسی شمولیت کا در کھولیں۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے ایک راستہ دکھایا ہے، اب اصل امتحان یہ ہے کہ یہ پیغام کاغذ سے نکل کر گلی، بازار، اسکول، مسجد، چرچ، مندر، چوکی اور دفتر تک کیسے پہنچتا ہے، اور وہاں کیسے عمل میں ڈھلتا ہے۔
Author
-
View all postsانیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل: