Nigah

جی ایس پی پلس، سیاست اور قومی مفاد

[post-views]

پاکستان کی سیاست میں اختلاف، احتجاج اور سخت تنقید نئی بات نہیں۔ ہر جماعت کو حق ہے کہ وہ اپنی شکایات اٹھائے، ریاستی اداروں پر سوال کرے اور عوام کے سامنے اپنا مقدمہ رکھے۔ لیکن سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں داخلی سیاسی کشمکش کو اس انداز سے عالمی فورمز تک لے جایا جائے کہ اس کی زد میں ریاست، معیشت اور ملک کی مجموعی ساکھ آ جائے۔ اسی لیے پی ٹی آئی کی حالیہ حکمت عملی پر سنجیدہ بحث ضروری ہے۔ جنیوا میں ہونے والی سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا سیاسی فائدے کے لیے ایسے بین الاقوامی دباؤ کو ہوا دینا درست ہے جو بالآخر پاکستان ہی کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین خود واضح کرتی ہے کہ پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس محض علامتی معاملہ نہیں، بلکہ اس کے تحت پاکستان کی بڑی برآمدات ڈیوٹی اور کوٹے سے مستثنیٰ رسائی پاتی ہیں، اور یہ سہولت پاکستان کی عالمی برآمدات کے ایک بڑے حصے سے جڑی ہوئی ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ یا نمائندے نے انسانی حقوق کے نام پر آواز اٹھائی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنیوا میں جس نوعیت کی بحث سامنے آئی، اس کا محور پاکستان کے جی ایس پی پلس ریکارڈ کو زیادہ سخت بین الاقوامی جانچ کے دائرے میں لانا تھا۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس نشست میں پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ، سیاسی جبر اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی بنیاد پر جی ایس پی پلس پر زیادہ scrutiny کی بات کی گئی۔ ساتھ ہی ایک اہم وضاحت بھی سامنے آئی کہ قاسم خان نے ایک وائرل کلپ میں براہ راست جی ایس پی پلس منسوخ کرنے کا واضح مطالبہ نہیں کیا تھا۔ یہی نکتہ اہم ہے۔ یعنی مسئلہ صرف الفاظ کا نہیں، بلکہ وہ سیاسی تاثر ہے جو اس سرگرمی سے پیدا ہوا۔ جب پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت یا اس کے نمائندے ایسے ماحول میں اپنے مقدمے کو اس انداز میں پیش کریں کہ بیرونی طاقتوں کے لیے پاکستان کے تجارتی مفادات پر سوال اٹھانا آسان ہو جائے، تو اسے صرف سیاسی جدوجہد کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جی ایس پی پلس کوئی معمولی رعایت نہیں۔ یورپی یونین کے مطابق پاکستان کی 85 فیصد سے زیادہ برآمدات اس فریم ورک کے تحت ڈیوٹی اور کوٹے سے آزاد رسائی سے فائدہ اٹھاتی ہیں، جبکہ اس سہولت کو برقرار رکھنے کے لیے 27 بین الاقوامی کنونشنز پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔ یورپی ادارے اور رکن ممالک اس کی مستقل نگرانی کرتے ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے بارے میں جو بھی سیاسی بیانیہ عالمی سطح پر مضبوط ہوگا، وہ صرف اخباری بحث نہیں رہے گا، بلکہ تجارتی، سفارتی اور پالیسی سطح پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی پاکستانی سیاسی حلقہ اپنی داخلی لڑائی کو اسی نکتے کے گرد بین الاقوامی بحث کا حصہ بناتا ہے، تو اس سے بیرونی ناظر کو یہی پیغام جاتا ہے کہ پاکستان کے اندرونی تنازعات اب معیشت اور تجارت پر دباؤ ڈالنے کے اوزار بھی بن سکتے ہیں۔ یہ تاثر خود اپنے آپ میں قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ہے۔

پی ٹی آئی کی طرف سے عالمی مالیاتی اداروں کو سیاسی تنازعے میں شامل کرنے کی کوشش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتی ہے۔ فروری 2024 میں رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف سے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مزید بیل آؤٹ مذاکرات سے پہلے انتخابات کے آڈٹ کو یقینی بنایا جائے۔ ایک اور رپورٹ میں یہ بھی آیا کہ عمران خان اس سلسلے میں آئی ایم ایف کو خط لکھنے والے تھے۔ اصولی طور پر کوئی جماعت اپنی شکایت دنیا کے سامنے رکھ سکتی ہے، مگر سوال پھر وہی ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ جب ایک ایسی معیشت، جو پہلے ہی زرمبادلہ، مہنگائی اور مالی دباؤ کا شکار ہو، اس کے بارے میں یہ تاثر ابھرے کہ اس کے اندرونی سیاسی جھگڑے عالمی قرض دہندگان کے فیصلوں سے جوڑے جا رہے ہیں، تو نقصان صرف حکومت کا نہیں ہوتا، پورے ملک کا ہوتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کار، تجارتی شراکت دار اور مالیاتی ادارے سیاسی شور نہیں دیکھتے، وہ رسک دیکھتے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنا ہوگا۔ جمہوری سیاست کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ اپنے مخالفین کو کمزور کرنے کے لیے ملک کے معاشی اعصاب پر ہاتھ رکھ دیں۔ اگر ایک جماعت یہ سوچنے لگے کہ عالمی دباؤ کے ذریعے وہ اپنے داخلی سیاسی اہداف حاصل کر لے گی، تو وہ دراصل ایک خطرناک روایت قائم کر رہی ہوتی ہے۔ آج یہ طریقہ ایک جماعت استعمال کرے گی، کل دوسری کرے گی، اور پھر پاکستان کی ہر انتخابی کشمکش، ہر عدالتی تنازع اور ہر سیاسی گرفتاری بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے لیے ایک کھلا دروازہ بن جائے گی۔ ایسی سیاست وقتی طور پر نعرہ بن سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ ریاست کو کمزور کرتی ہے۔ ملک کے مسائل کا حل بیرونی سرپرستی میں نہیں، اندرونی آئینی عمل، شفاف سیاست اور مضبوط ادارہ جاتی مکالمے میں ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ داخلی سطح پر پہلے ہی زہریلی ہو چکی سیاست کو جب عالمی فورمز پر اسی تلخی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تو وہ مزید تقسیم پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف مخالفین کو غدار، کٹھ پتلی یا قابض قوتوں کا نمائندہ کہا جاتا ہے، دوسری طرف بیرون ملک یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی دباؤ کے بغیر درست راستے پر نہیں لایا جا سکتا۔ یہ دوہرا طرز عمل ہے۔ اگر آپ اپنے وطن کے عوام، عدالتوں، پارلیمان اور سیاسی عمل پر اعتماد نہیں کرتے، تو پھر آپ دراصل جمہوری سیاست کے اپنے ہی دعوے کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔ اختلاف کو عالمی مداخلت کی دعوت میں بدل دینا نہ اصولی سیاست ہے اور نہ ہی بالغ جمہوریت کی علامت۔

جہاں تک ان الزامات کا تعلق ہے کہ بعض شخصیات نے پاکستان مخالف عناصر یا غیر ملکی خفیہ اداروں سے روابط رکھے، ایسی باتیں اگر ٹھوس اور قابل اعتماد شواہد کے بغیر دہرائی جائیں تو وہ سیاسی تنقید نہیں رہتیں بلکہ محض الزام تراشی بن جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ قومی بحث کو غیر مصدقہ دعوؤں کے بجائے اُن اقدامات پر مرکوز رہنا چاہیے جو ریکارڈ پر موجود ہیں، جیسے عالمی تجارتی حیثیت کے بارے میں پیدا کیا گیا دباؤ، یا آئی ایم ایف جیسے اداروں کو داخلی تنازعات میں کھینچنے کی کوشش۔ قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ سیاست دان حکومت پر تنقید کریں، اداروں سے سوال کریں، مگر ملک کی معاشی شہ رگوں کو اپنی حکمت عملی کا ہدف نہ بنائیں۔

آخر میں مسئلہ کسی ایک جماعت کی نیت کا نہیں، سیاسی طریقۂ کار کا ہے۔ اگر پاکستان کی سیاست اس راستے پر چل پڑی کہ داخلی لڑائیوں کا فیصلہ جنیوا، واشنگٹن یا برسلز کے دباؤ سے ہوگا، تو سب سے پہلے کمزور خود پاکستان ہوگا۔ جی ایس پی پلس ہو یا آئی ایم ایف، یہ فورمز پاکستان کی معیشت اور خارجہ ساکھ سے جڑے ہوئے ہیں، کسی جماعت کے انتخابی یا عدالتی مفاد سے نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی قوتیں ایک لکیر کھینچیں۔ حکومت کی مخالفت کیجیے، ریاست کو نشانہ نہ بنائیے۔ اقتدار کے لیے جدوجہد کیجیے، مگر اس قیمت پر نہیں کہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ پاکستانی سیاست اپنے ہی ملک کی معاشی بنیادوں کو گروی رکھنے پر آمادہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی احتجاج ختم ہوتا ہے اور قومی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔