Nigah

سنی شیعہ کشیدگی کا تاثر، حقیقت سے کتنا دور؟

[post-views]

پاکستان کے بارے میں وقتاً فوقتاً یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہاں سنی اور شیعہ آبادی کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے، معاشرہ اندر سے تقسیم ہو رہا ہے، اور قومی وحدت کمزور پڑ رہی ہے۔ میری رائے میں یہ دعویٰ نہ صرف مبالغہ آمیز ہے بلکہ حقیقت کے ایک محدود اور مسخ شدہ عکس کو پورے ملک پر منطبق کرنے کی کوشش بھی ہے۔ پاکستان کی اصل بنیاد فرقہ وارانہ شناخت نہیں بلکہ ایک مشترک اسلامی شعور، تاریخی جدوجہد، قومی مقصد اور باہمی وابستگی ہے۔ اسی بنیاد نے اس ملک کو قائم رکھا ہے، اسی نے اسے بحرانوں سے نکالا ہے، اور اسی نے مختلف مسالک کے لوگوں کو ایک ساتھ جینے کا حوصلہ دیا ہے۔

پاکستانی معاشرے کی روزمرہ زندگی کو دیکھا جائے تو یہاں تعلقات کی اصل نوعیت کشمکش نہیں بلکہ اختلاط، احترام اور اشتراک کی ہے۔ محلوں میں، بازاروں میں، تعلیمی اداروں میں، دفاتر میں، عدالتوں میں، اسپتالوں میں اور مسلح افواج میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہیں، رشتے جوڑتے ہیں، ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ ایک عام پاکستانی کی بنیادی فکر اپنے خاندان کی بہتری، بچوں کی تعلیم، روزگار، امن اور ملک کے استحکام سے جڑی ہوتی ہے، نہ کہ اس بات سے کہ اس کے ساتھ کھڑا شخص کس فقہی مکتب سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی زمینی حقیقت اس بیانیے کو کمزور کرتی ہے جو پورے ملک کو مسلسل فرقہ وارانہ کشیدگی کے چشمے سے دیکھنا چاہتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں مختلف مسالک صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ اختلافات ضرور رہے ہیں، جیسے ہر بڑے مذہبی اور فکری معاشرے میں ہوتے ہیں، مگر اختلاف اور دشمنی ایک چیز نہیں۔ ہمارے ہاں علمی مباحث، فقہی تنوع اور مذہبی روایت کا تنوع ہمیشہ موجود رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک وسیع مشترکہ دینی اور قومی شناخت بھی رہی ہے۔ شیعہ، سنی، دیوبندی اور بریلوی، سب اس معاشرے کے جڑے ہوئے حصے ہیں۔ ان کے درمیان مذہبی تعبیر میں فرق ہو سکتا ہے، مگر وہ ایک ہی ملک، ایک ہی تاریخ، ایک ہی اجتماعی دکھ سکھ اور ایک ہی قومی پرچم کے ساتھ وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اصل کہانی تقسیم کی نہیں بلکہ بقا، برداشت اور اشتراک کی کہانی ہے۔

اکثر ایران یا خطے کی مجموعی صورت حال کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان بھی لازماً اسی سمت جا رہا ہے۔ یہ ایک کمزور استدلال ہے۔ ہر ملک کے اپنے تاریخی، سماجی، سیاسی اور ادارہ جاتی حالات ہوتے ہیں۔ پاکستان کو محض بیرونی تناظر سے سمجھنے کی کوشش اکثر غلط نتائج پیدا کرتی ہے۔ اگر واقعی ملک میں وسیع پیمانے پر سنی اور شیعہ تقسیم بڑھ رہی ہوتی تو اس کے واضح، مسلسل اور ہمہ گیر آثار ریاستی اداروں، سماجی رابطوں، تعلیمی ماحول اور قومی بیانیے میں نظر آتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ علما، مذہبی قیادت، سیاسی قیادت اور ریاستی سطح پر مسلسل اتحاد، برداشت اور بھائی چارے کی بات کی جاتی ہے۔ اس پیغام کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ محض تقریروں تک محدود نہیں بلکہ قومی ضرورت اور اجتماعی شعور کا حصہ ہے۔

پاکستان کو فرقہ وارانہ ریاست کے طور پر پیش کرنا اکثر ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ ایسی مہمات کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اندر سے ٹوٹا ہوا ہے اور یہاں قومی یکجہتی ایک کمزور دعویٰ ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس ملک نے جنگوں، دہشت گردی، قدرتی آفات، معاشی مشکلات اور سیاسی ہلچل کے دوران بار بار ثابت کیا ہے کہ پاکستانی قوم جب کسی بڑے امتحان سے گزرتی ہے تو وہ فرقہ وارانہ خانوں میں نہیں بٹتی بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہے۔ یہی اجتماعی ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی شناخت کسی بھی فرقہ وارانہ لیبل سے کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہے۔

یہ درست ہے کہ ملک میں کبھی کبھی ایسے واقعات پیش آتے ہیں جنہیں فرقہ وارانہ رنگ دے دیا جاتا ہے۔ لیکن چند محدود، مقامی یا وقتی واقعات کو پورے معاشرے کی مستقل حقیقت بنا کر پیش کرنا دیانت دارانہ طرز فکر نہیں۔ کسی ایک بیان، کسی ایک جھڑپ، یا کسی ایک اشتعال انگیز واقعے کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ پورا ملک سنی اور شیعہ تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے، حقیقت سے زیادہ بیانیہ سازی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی نے پاکستان میں ہر مسلک کے لوگوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس درد میں کسی ایک گروہ کی اجارہ داری نہیں۔ اسی لیے دہشت گردی کے خلاف قومی موقف بھی مشترک رہا ہے، اور یہی مشترک مزاحمت پاکستان کی طاقت ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا کے دور میں شور کو حقیقت سمجھ لینا بہت آسان ہو گیا ہے۔ چند اکاؤنٹس، چند ویڈیوز، چند اشتعال انگیز پوسٹس یا چند متنازع جملے پورے معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ اصل پاکستان وہ ہے جو نظر بھی آتا ہے اور روز چلتا بھی ہے۔ وہ پاکستان جہاں مختلف مسالک کے لوگ ایک ہی صف میں نماز پڑھتے ہیں، ایک ہی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، ایک ہی دفتر میں کام کرتے ہیں، ایک ہی محلے میں رہتے ہیں، اور ایک ہی فوج میں وطن کا دفاع کرتے ہیں۔ یہ روزمرہ کی زندگی کسی گہرے سماجی انہدام کی نہیں بلکہ ایک فعال اور جڑے ہوئے معاشرے کی دلیل ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نہ تو مصنوعی خوش فہمی کا شکار ہوں اور نہ ہی بے بنیاد مایوسی کا۔ جہاں کہیں فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی ہو، اسے سختی سے رد کیا جائے۔ جہاں نفرت پر مبنی زبان استعمال ہو، اسے سماجی قبولیت نہ دی جائے۔ جہاں اتحاد کی ضرورت ہو، وہاں قومی، دینی اور سماجی قیادت واضح آواز میں سامنے آئے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے بارے میں پھیلائے جانے والے مبالغہ آمیز دعوؤں کو چیلنج کیا جائے۔ ملک کی تصویر وہی ہونی چاہیے جو حقیقت سے قریب ہو، نہ کہ وہ جو کسی بیرونی یا اندرونی پروپیگنڈا مقصد کے لیے گھڑی گئی ہو۔

آخر میں بات بہت سادہ ہے۔ پاکستان کی طاقت اس کی کثرت میں پوشیدہ وحدت ہے۔ یہاں مسالک موجود ہیں، مگر ان سے بڑی چیز مسلمان ہونا ہے، اور اس سے بھی بڑی چیز پاکستانی ہونا ہے۔ قومی زندگی کا اصل دھارا تقسیم نہیں بلکہ اشتراک ہے۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پاکستان میں سنی اور شیعہ تقسیم نہیں بڑھ رہی بلکہ اس کے مقابلے میں اتحاد، باہمی شعور اور مشترک قومی احساس زیادہ مضبوط بنیاد کے طور پر موجود ہے۔ یہی حقیقت ہے، اور یہی پاکستان کی اصل قوت بھی۔

Author

  • munir nigah

    ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔