Nigah

فتنہ خوارج کی سرحد پار جنگ

[post-views]

کالعدم تحریک طالبان پاکستان جسے ریاستی بیانیے میں فتنہ خوارج کہا جا رہا ہے، اب محض ایک داخلی شورش نہیں رہی۔ یہ ایک ایسا نیٹ ورک بنتی جا رہی ہے جو سرحد پار محفوظ جگہوں سے خود کو منظم کرتا ہے، نئے لوگوں کو بھرتی کرتا ہے، اور اپنے حملوں کے دائرے کو بڑھاتا ہے۔ اس رجحان کی خطرناک بات یہ ہے کہ یہ گروہ خود کو مقامی مسئلہ بنا کر پیش کر کے عالمی توجہ سے بچ نکلنے کی کوشش کرتا ہے، حالانکہ اس کی سرگرمیوں کے اثرات خطے سے آگے تک پھیل سکتے ہیں۔

گلوبل ٹیررازم انڈکس 2025 نے جو تصویر دکھائی ہے وہ خاصی واضح اور سخت ہے۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی تعداد بڑھ رہی ہے اور کچھ خطوں میں شدت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان کو متاثرہ ممالک میں انتہائی اوپر کی سطح پر رکھا جانا اس بات کی علامت ہے کہ ملک کو ایک نئے نوعیت کے سکیورٹی دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ دباؤ صرف واقعات کی تعداد نہیں، بلکہ حملوں کے طریقہ کار، اہداف کی نوعیت، اور نیٹ ورک کی منظم منصوبہ بندی سے جڑا ہوا ہے۔ جب حملے بار بار ہوں، ایک جیسے علاقوں میں ہوں، اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ شہری مراکز بھی زد میں آئیں تو یہ محض اتفاق نہیں رہتا، یہ ایک حکمت عملی بن جاتی ہے۔

اس بحث میں ایک مرکزی نکتہ وہی ہے جو اب بین الاقوامی رپورٹس میں بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے، یعنی افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں۔ سلامتی کونسل کے تجزیاتی ڈھانچے کے تحت آنے والی رپورٹس اور اس کے بعد گلوبل ٹیررازم انڈکس 2025 کی نشاندہی نے اس پردے کو مزید ہٹا دیا ہے جس کے پیچھے کئی برس سے انکار اور ابہام کھڑا تھا۔ جب مختلف ریاستیں، مبصرین اور ادارے مسلسل یہ کہتے رہیں کہ متعدد دہشت گرد گروہ افغانستان میں موجود ہیں، اور بعض گروہ وہاں سے بیرونی حملوں کی تیاری بھی کرتے ہیں، تو پھر یہ دعویٰ کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی، محض ایک سیاسی جملہ رہ جاتا ہے۔

افغان عبوری حکومت کی طرف سے فتنہ خوارج سمیت دیگر تنظیموں کی سرپرستی سے انکار اب اپنی اخلاقی اور عملی حیثیت کھوتا جا رہا ہے۔ دنیا یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ اگر واقعی ان نیٹ ورکس کی موجودگی نہیں تو پھر حملوں کی منصوبہ بندی، نقل و حرکت، تربیت، اور مالی روابط کہاں سے چل رہے ہیں۔ انکار کے ساتھ ساتھ مسئلے کو نظرانداز کرنا بھی ایک طرح کی سہولت کاری ہے، کیونکہ دہشت گرد نیٹ ورک خلا میں نہیں پنپتے، انہیں جگہ، وقت، اور خاموشی چاہیے ہوتی ہے۔ اگر ریاستی کنٹرول کمزور ہو یا سیاسی مفاد آڑے آئے تو یہی خاموشی ان کے لیے سرمایہ بن جاتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ معاملہ براہ راست انسانی جانوں، داخلی استحکام، اور معاشی سرگرمی سے جڑا ہوا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی مثال سامنے ہے جہاں حملوں کی شدت اور تسلسل نے یہ ثابت کیا کہ دہشت گردی کا مقصد صرف خوف پھیلانا نہیں، بلکہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنا بھی ہے۔ سرحدی اضلاع میں سکیورٹی کے مسائل، مقامی آبادی کی مشکلات، اور کاروبار و تعلیم پر اثرات ایک ایسے دباؤ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس کا نقصان کئی برس تک محسوس ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب حملہ آور سرحد پار جا کر اوجھل ہو جائیں تو مقامی کارروائیاں کتنی ہی کامیاب کیوں نہ ہوں، مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔

یہاں عالمی برادری کا کردار بھی سوالوں کی زد میں ہے۔ دنیا نے افغانستان کے معاملے میں ایک لمبے عرصے تک انتظار اور دیکھو کی پالیسی اپنائی۔ یہ پالیسی بعض اوقات سفارت کاری میں وقت خریدنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، لیکن دہشت گردی کے کیس میں وقت خریدنا اکثر دہشت گردوں کے حق میں جاتا ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب شدت پسندوں کو دوبارہ سانس لینے کا موقع ملے تو وہ نئے راستے نکالتے ہیں، نئی نسل کو ہدف بناتے ہیں، اور پرانے ڈھانچوں کو جدید طریقوں سے زندہ کر دیتے ہیں۔ اسی لیے نائن الیون کی مثال بار بار دی جاتی ہے، کیونکہ اس سانحے سے پہلے بھی کئی اشارے تھے، مگر انہیں مکمل سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

اب خطرہ صرف روایتی حملوں تک محدود نہیں۔ سرحد پار نیٹ ورکس، آن لائن رابطے، فنڈنگ کے نئے طریقے، اور نظریاتی مواد کی تیز تر ترسیل نے دہشت گردی کو زیادہ پھیلا دینے والا بنا دیا ہے۔ اگر افغانستان میں موجود مختلف گروہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھاتے ہیں، یا وسائل اور مہارت بانٹتے ہیں، تو اس کے اثرات صرف پاکستان نہیں بلکہ وسط ایشیا، مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے تک جا سکتے ہیں۔ اسی لیے فتنہ خوارج کو عالمی سطح پر تیزی سے پھیلنے والے خطرناک گروہوں میں شمار کرنا محض الفاظ نہیں، ایک وارننگ ہے۔

حل کا راستہ نعرے نہیں، واضح ذمہ داری اور عملی دباؤ ہے۔ افغانستان کے اندر موجود نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ تصدیق اقدام، سرحدی انتظامات میں حقیقت پسندانہ تعاون، اور بین الاقوامی نگرانی کے مؤثر طریقے ہی اس خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔ اگر افغان حکام واقعی اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا چاہتے ہیں تو انہیں محض بیانات نہیں، ٹھوس کارروائی دکھانا ہو گی۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو عالمی برادری کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا وہ ایک اور بڑے سانحے کے بعد جاگنا چاہتی ہے یا اس سے پہلے۔

پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو صرف فوجی زاویے سے نہ دیکھے بلکہ انسدادِ انتہاپسندی کے سماجی پہلوؤں پر بھی کام کرے، کیونکہ ہر دہشت گرد نیٹ ورک کو مقامی سطح پر کچھ نہ کچھ سہولت، خاموش ہمدردی، یا خوف پر مبنی اطاعت ملتی ہے۔ مگر اس سب کے باوجود بنیادی حقیقت یہی رہے گی کہ جب تک سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں، تربیت اور قیادت کے مراکز برقرار رہیں گے، خطرہ پوری طرح ختم نہیں ہو گا۔ دنیا کے سامنے اب پردہ کم رہ گیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس بار وقت پر قدم اٹھائے گی یا پھر تاریخ ایک بار پھر سخت انداز میں یاد دلائے گی کہ دہشت گردی کو نظرانداز کرنا، آخرکار سب کے لیے مہنگا پڑتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر حمزہ خان

    ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔