بلوچستان کی سیاست، مزاحمت، ریاستی جبر، مسلح تحریکوں اور لاپتا افراد کے بیانیے ایک دوسرے میں اس طرح گندھے ہوئے ہیں کہ کسی ایک شخصیت یا ایک واقعے کو سیدھی لکیر میں سمجھنا آسان نہیں رہتا۔ مہرنگ بلوچ کے والد عبدالغفار لانگو کی کہانی بھی اسی الجھی ہوئی تاریخ کا حصہ ہے۔ ان کے بارے میں ایک طرف یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ بلوچ مسلح تنظیموں سے قریب تھے، نظریاتی کردار رکھتے تھے، اور ایسے حلقوں میں سرگرم رہے جہاں نوجوانوں کو ریاست کے خلاف مسلح راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا جاتا تھا۔ دوسری طرف آزاد ذرائع اور فیکٹ چیکنگ رپورٹس میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ وہ ایک سیاسی کارکن تھے، بی این پی سے وابستہ تھے، اور نواب خیر بخش مری کے مطالعہ حلقے سے تعلق رکھتے تھے، نہ کہ لازماً کسی مسلح تنظیم کے باقاعدہ کمانڈر تھے۔ یہی تضاد اس پوری بحث کو مشکل بناتا ہے۔
یہ ماننے میں اب زیادہ اختلاف نہیں کہ اسلم اچھو بلوچ مزاحمتی عسکریت کے ایک اہم نام کے طور پر سامنے آئے اور 2010 میں مجلس یا مہم جوئی کی نہیں بلکہ خودکش کارروائیوں کے لیے مشہور ہونے والی مجید بریگیڈ سے ان کا نام جڑا۔ بعد کے برسوں میں اسی یونٹ کو پاکستان میں کئی بڑے حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اس پس منظر میں اگر عبدالغفار لانگو کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے تعلقات اسلم اچھو اور دیگر عسکری شخصیات سے رہے، تو یہ دعویٰ ایک سیاسی سوال سے بڑھ کر ایک اخلاقی سوال بھی بن جاتا ہے، کیونکہ پھر معاملہ صرف رشتہ داری یا سماجی میل جول کا نہیں رہتا بلکہ اس فکری ماحول کا ہو جاتا ہے جس نے بلوچستان میں بندوق کو زبان بنا دیا۔
لیکن یہاں اصل احتیاط ضروری ہے۔ ہمارے ہاں اکثر ریاستی بیانیہ اور علیحدگی پسند بیانیہ دونوں اپنی اپنی سچائیاں بناتے ہیں، اور دونوں کے اندر خاموشیاں بھی ہوتی ہیں۔ جو لوگ عبدالغفار لانگو کو ایک سخت گیر نظریاتی کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ صرف ہمدرد نہیں تھے بلکہ بھرتی، اثرورسوخ اور مسلح راستے کی وکالت میں بھی کردار رکھتے تھے۔ مگر اس نوعیت کے سنگین دعووں کے لیے مضبوط، کھلے اور قابل جانچ ثبوت درکار ہوتے ہیں۔ جب یہی دعوے ایسے ماحول میں سامنے آئیں جہاں ماورائے عدالت ہلاکتیں، جبری گمشدگیاں، تشدد، اور ریاستی بیانیے پر عدم اعتماد پہلے سے موجود ہو، تو ہر دعویٰ خود بخود متنازع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ان کے ماضی کو ایک قطعی عدالتی سچ کے طور پر پیش کرنا دانش مندی نہیں، بلکہ اسے متصادم روایات کے درمیان رکھ کر دیکھنا زیادہ درست ہے۔
ان کی موت کے گرد موجود ابہام اس پیچیدگی کو اور بڑھا دیتا ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ وہ ریاستی کارروائیوں اور سکیورٹی ایجنسیوں کے دباؤ کی سیاست کا شکار ہوئے۔ دوسری روایت یہ اشارہ دیتی ہے کہ بلوچ مسلح تنظیموں کے اندرونی اختلافات، بدگمانیاں، ٹکڑی بندی، اور مخبری کے شبہے اس انجام کا سبب بنے۔ بلوچستان کی مسلح تحریکوں میں اندرونی دھڑے بندی کوئی خیالی بات نہیں رہی۔ اسلم اچھو خود بعد میں الگ دھڑے کے ساتھ منسلک ہوئے، جبکہ عسکریت پسند حلقوں میں قیادت، حکمت عملی، قبائلی اثر، نظریاتی سمت، اور بیرونی رابطوں پر کشمکش کی اطلاعات بارہا سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کسی شخص پر شک کیا جائے تو صرف دشمن ہی نہیں، اپنے بھی جان لیوا بن سکتے ہیں۔
یہی مقام ہے جہاں مہرنگ بلوچ کی سیاست اور ان کے والد کی میراث ایک دوسرے سے ٹکراتی بھی ہیں اور جدا بھی ہو جاتی ہیں۔ مہرنگ بلوچ آج بین الاقوامی سطح پر ایک نمایاں حقوق کارکن کے طور پر دیکھی جاتی ہیں، اور ان کی شناخت جبری گمشدگیوں، ماورائے قانون اقدامات، اور بلوچ شہریوں کے انسانی حقوق کے مقدمے سے جڑی ہوئی ہے۔ بہت سے بین الاقوامی اور مقامی ذرائع ان کے والد کو سیاسی کارکن قرار دیتے ہیں اور ان کی اپنی جدوجہد کو اسی خاندانی صدمے کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ مگر ناقدین کہتے ہیں کہ مہرنگ کے بیانیے میں بلوچ عسکری تنظیموں کے اندرونی تشدد، نظریاتی تصادم، اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف صفائی جیسی باتوں پر کم گفتگو ہوتی ہے۔ یہ اعتراض مکمل طور پر بے وزن نہیں، کیونکہ اگر ایک خطہ سچائی مانگتا ہے تو اس سچائی میں ریاستی جبر بھی شامل ہونا چاہیے اور مسلح گروہوں کی سفاکی بھی۔
میرے نزدیک اس بحث کی اصل الجھن یہی ہے کہ پاکستان میں اکثر دو انتہائیں بن جاتی ہیں۔ ایک طرف وہ مؤقف ہے جو ہر بلوچ مزاحمت کو خالص دہشت گردی بنا دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ مؤقف ہے جو ہر عسکری کردار کو قومی مزاحمت کے رومانی پردے میں چھپا دیتا ہے۔ عبدالغفار لانگو کی میراث شاید ان دونوں خانوں میں پوری نہیں سماتی۔ ممکن ہے وہ ایک ایسے شخص تھے جو سیاسی مزاحمت، قوم پرستانہ سوچ، اور عسکریت پسند ماحول کے بیچ کہیں کھڑے تھے۔ ممکن ہے ان کے بارے میں کئی الزامات بڑھا چڑھا کر بیان کیے گئے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے گرد بنائی گئی تقدیس یا مظلومیت کی تصویر مکمل نہ ہو۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان کے معاملے میں ہمارے پاس شفاف سچ کم ہے، پراپیگنڈا زیادہ ہے۔
اسی تناظر میں کلبھوشن جادھو کا کیس بھی اکثر بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے کہ بلوچ عسکریت کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی۔ پاکستان نے انہیں را کا آپریٹو قرار دیا، جبکہ بھارت نے اس دعوے کی تردید کی اور کہا کہ وہ ایران سے اغوا ہوئے تھے۔ یہ مقدمہ آج بھی دونوں ملکوں کے متضاد بیانیوں میں پھنسا ہوا ہے۔ اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کے تنازعے کو صرف اندرونی مسئلہ سمجھنا سادہ لوحی ہوگی، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر دعوے کو غیر متنازع حقیقت نہیں کہا جا سکتا۔
آخر میں، مہرنگ بلوچ کے والد کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بلوچستان کو اچھے اور برے کے آسان خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا۔ وہاں باپ ایک شخص نہیں، ایک علامت بھی بن جاتا ہے۔ بیٹی صرف کارکن نہیں رہتی، ایک بیانیہ بھی بن جاتی ہے۔ اور بیانیے ہمیشہ کچھ دکھاتے ہیں، کچھ چھپاتے ہیں۔ عبدالغفار لانگو کی میراث اسی لیے پیچیدہ ہے، کیونکہ وہ شاید دہشت گردی، مزاحمت، سیاست، شک، قتل، اور یادداشت کے درمیان معلق ایک نام ہیں۔ ان کے بارے میں قطعی فیصلہ دینا آسان ہے، مگر درست نہیں۔ درست یہی ہے کہ سوال کھلے رکھے جائیں، کیونکہ بلوچستان میں اکثر سچ گولی سے نہیں مرتا، وہ شور میں دفن ہو جاتا ہے۔
Author
-
View all postsڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔